|
حضرت شاہ کمال بغدادی
اسی کشمکش میں ان کو خواب میں رسالت مآب کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نےفرمایا کہ شاہ محمد ہم تمہارےعلم کی تکمیل کرنا چاہتےہیں۔ تمہارےعلم میں جو قیل و قال بقایا ہےاس کی بابت اس مجذوب سےہدایت پائو۔ تمہیں علم شریعت اسی مجذوب کےصدقےبخشا گیا ہی۔ سید محمد خواب سےبیدار ہوئی۔ شاہ کمال کی کٹیا کی طرف بھاگےمگر وہ سارےشہر میں کہیں موجود نہ تھی۔ شاہ محمد نےبےچین ہو کر اپنا خواب اپنےشاگردوں‘ عزیزوں‘ رشتہ داروں اور دیگر عالموں کو سنایا۔ سب باجماعت شاہ کمال کی تلاش میں نکل کھڑےہوئی۔ ویرانےمیں شاہ کمال کو مشغول عبادت پایا سب دست بستہ عرض گزار ہوئےکہ بابا کمال ہم آپ کو پہچاننےسےقاصر رہےہماری تفصیر معاف کر دو۔ ہمیں اپنی بیعت سےمشرف فرمائیں۔ سید محمد کی گڑگڑاہٹ تو دیدنی تھی۔ شاہ کمال نےسید محمد کےچہرےپر نگاہیں اس طرح مرکوز کیں کہ نظر کیمیا کام کر گئی۔ سید محمد کا سینہ گداز ہو گیا علم کی چوب خشک جذب و کیف سےتر ہو گئی۔ وہ عالم ہونےکےساتھ ساتھ صاحب جذب و کیف بھی ہو گئی۔ اس کےبعد ٹھٹھہ میں جو مقام و مرتبہ سید محمد کو حاصل ہوا وہ نصیب والوں کو ہی حاصل ہوتا ہےشاہ کمال زیادہ عرصہ ٹھٹھہ میں نہ ٹھہرےاور امر الٰہی سےملتان کی طرف رخ کیا۔ یہ شیرشاہ سوری کی حکومت کےایام تھےملتان میں آپ کی بہت پذیرائی کی گئی یہاں پر مختصر قیام کےبعد آپ لدھیانہ چلےگئےاور یہاںسےپایل (سرہند) تشریف لےآئی۔ آپ کا زیادہ تر قیام ویرانوں میں آبادی سےدور رہتا لیکن ویرانوں میں بھی جہاں آبِ حیات کےچشمہ صافی ہوں وہاں پیاسےاور زندگی کےمتلاشی خودبخود پہنچ جایا کرتےہیں۔
حضرت شاہ کمال عموماً سرخ لباس میں ملبوس ہوا کرتےتھی۔ بسا اوقات فوجی وردی بھی پہن لیا کرتےتھی۔ اس کےعلاوہ آپ نےتیسرا رنگ نہ استعمال کیا تھا۔ آپ کےسرخ لباس پر بعض اوقات معترضین انگشت نمائی کرنےکی کوشش کرتےلیکن منہ پر گویائی کی قوت سلب ہو جاتی۔ ایک دفعہ آ پکو سفید لباس پیش کیا گیا آپ اس کوشش کا مطلب سمجھ گئےمگر سکوت فرمایا اور لباس پہن لیا۔ اب لوگوں کو تشفی ہوئی کہ حضرت نےلباس میں تبدیلی منظور کر لی ہی۔ چنانچہ وہ خوش ہو گئےمگر کچھ دیر بعد ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ سفید لباس ازخود سرخ رنگ میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں مکمل سرخ ہو گیا۔ لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس سرخ لباس میں شاہ کمال کی مرضی نہیں شامل بلکہ یہ مشیت ایزدی ہی۔ اس کےبعد آپ کا نام ہی لال رومال پڑ لیا۔ فرمایا کرتےتھےکہ ہمیں اپنےمعاملات پر کوئی اختیار نہیں۔
ایک دن آپ فوجی وردی پہن کر گھوڑےپر سوار‘ تھانیسر کےمشہور بزرگ جو ایک سرائےمیں مقیم تھےان کی ملاقات کو گئےبزرگ شیخ جلال الدین کےنام سےمشہور تھےسرائےکےدروازےپر آپ گھوڑےسےاترےاور سرائےکی مالکہ سےکہا کہ ہمارےآنےتک ہمارےگھوڑےکی نگرانی کرو۔ وہ بڑی سخت گیر خاتون تھی جواباً نہایت تندخوئی سےبولی کہ شیخ جلال الدین کی ملاقات کو دن میں بیسیوں لوگ آتےہیں اب میں کس کس کی چوکیداری کروں۔ اس پر شاہ کمال کو جلال آگیا آپ نےایک کوڑا اس کو رسید کیا اور گھوڑےکو چھوڑ کر شیخ جلال الدین کےپاس پہنچ گئی۔ شیخ نےآپ کو ایک فوجی سمجھا اور بادشاہ کا ایلچی خیال کر کےآپ کو اٹھ کر سلام کیا اور بادشاہ کی خیریت دریافت کی آپ نےفرمایا درویشوں کو شہنشاہوں سےکیا واسطہ آپ بادشاہ سےبہت مرعوب نظر آتےہیں۔ شیخ جلال الدین ‘مروتِ مہمانی سےخاموش رہی۔
شاہ کمال نےان سےکہا کہ میں ایک دقیقی مسئلہ تصوف لایا ہوں‘ اس کا حل مجھےدرکار
ہی‘ مسئلہ سن کر شیخ جلال سکتےمیں آگئےاور کہنےلگےآپ فوجی ہیں آپ تصوف کی پیچ دار
باتوں سےدور ہی رہیں تو بہتر ہےشاہ کمال نےفرمایا کہ کیا تصوف کےدروازےفوجیوں پر
بند ہوتےہیں؟ شیخ جلال الدین لاجواب ہو کر بولےآپ کا مسئلہ دقیق اور تادیر بیان
کئےجانےکا متقاضی ہی۔ لہٰذا آپ پھر کسی وقت تشریف لائیں جب یہاں کوئی اور نہ ہو۔
شاہ کمال نےپھر کہا کہ اگر اس مسئلہ کو سب کےسامنےہی حل کر دیا جائےتو کیا حرج ہی۔
شیخ جلال الدین نےقدرےتحمل سےفرمایا یہ مسئلہ اس قسم کا ہےکہ مجلس میں موجود افراد
کی سمجھ سےبالاتر ہےلہٰذا آپ خلوت میں تشریف لاویں۔ آپ نےپھر فرمایا کہ اگر مسئلہ
مجلس میں حاضرین کی فہم سےبالا ہےتو آپ اس محفل کو خلوت ہی سمجھیں۔ اب شیخ جلال
الدین لاجواب ہو گئےاور خاموشی اختیار کئےرکھی شاہ کمال سمجھ گئےکہ شیخ کےپاس یا
کوئی جواب نہیں یا بخل سےکام لےرہےہیں۔
|