kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



حضرت شاہ کمال بغدادی
 


آپ ناراض ہو کر واپس لوٹی۔ سرائےکےدروازےپر مالکہ خاتون کو گھوڑےکی گراتی ہوئےپایا۔ آپ کو دیکھتےہی وہ آپ کی قدم بوسی کرنےلگی لوگوں نےعورت سےکہا کہ اس شخص نےتمہیں کوڑا مارا ہےتم بجائےکوئی جوابی کارروائی کرنےکےالٹا اس کی قدم بوسی کر رہی ہو۔ اس خاتون نےجواب دیا کہ کوڑےکی ایک ضرب نےمجھےاسرار ورموز کی پہچان کرا دی۔ میری دنیا بدل چکی ہی‘ یوں لگتا ہےمجھ پر انوار کی بارش ہو رہی ہےآپ نےاپنا گھوڑا لیا اور اس خاتون کو اسی حالت میں چھوڑ کر چلےگئی۔ راستےمیں آپ نےجلال الدین کو اپنےپیچھےآتےہوئےپایا۔ ان کےساتھ مشہور بزرگ شیخ عبدالاحد بھی تھےدونوں نےآپ سےمعذرت کی اور عرض کی حضرت ہم آپ سےناواقف تھےاور تقصیر کےمرتکب ٹھہرےآپ نےان کو معاف کر دیا۔ وہ واپس چلےگئےمگر شیخ عبدالاحد نےآپ کا دامن نہ چھوڑا۔ انہی دنوں شیخ عبدالاحد نےعالم خواب میں دیکھا کہ ایک نورانی شکل کےبزرگ کفارو ظالم لوگوں کو قتل کر رہےہیں اور حق کی آمد کی صدا بلند کر رہےہیں۔ آپ نےیہ خواب حضرت شاہ کمال کو بیان کیا آپ نےفرمایا۔ عبدالاحد تمہارےیہاں ایک فرزند پیدا ہو گا جو مرتبےمیں اولیاءکرام کا ہم پلہ ہو گا۔ اس کےنور سےشرک و بدعت کی تاریکی ختم ہو گی اور اسلام کو تابانی اور روشنی میسر آئےگی لہٰذا بچےکی ولادت کےبعد سب سےپہلےاس کو ہمارےپاس لانا کچھ ہی عرصہ گزرا ہو گا کہ شیخ عبدالاحد کےگھر بچہ پیدا ہوا۔ آپ بحکم جب اس کو حضرت شاہ کمال کی خدمت میں لےکر حاضر ہو گئےشاہ کمال نےکیمیائی نظریں نومولود پر مرکوز کر دیں اور انگشت شہادت بچےکےمنہ میں دےدی اور فرمایا یہ بچہ تجدیددین اور روحانی فیض خلق خدا کو پہنچانےکیلئےپیدا کیا گیا ہی۔ نومولود کافی دیر تک شاہ کمال کی انگلی چوستا رہا۔ حتیٰ کہ شاہ کمال بولی! بس کر بیٹا کچھ ہماری نسل کیلئےبھی رہنےدےتونےتو ہماری نسبت لےلی ہی۔ یہی وہ بچہ تھا جو بعد میں مجدد الف ثانی کہلائےاور جنہوں نےعہدساز اور جلیل القدر بادشاہ کو اپنےآگےسرنگوں کر لیا۔
ایک مرتبہ شاہ کمال کسی صحراءسےگزر رہےتھےکہ آپ نےایک چرواہےکو دیکھا جو درختوں کےپتےاپنی بکریوں کو کھلا رہا تھا۔ اس کےکندھےپر لٹکی ہوئی ایک پوٹلی میں دو روٹیاں تھیں آپ نےاس کو مخاطب کیا اور کہا کہ تمہارےپاس دو روٹیاں ہیں جن میں سےایک مجھےدےدو۔ اس نےانکار کر دیا۔ آپ آگےبڑھ گئےتھوڑی دیر کےبعد وہ چرواہا بھاگتا ہوا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا معافی مانگی اور روٹی پیش کر دی۔ آپ نےاس کو نہ صرف معاف کر دیا بلکہ روحانیت سےمالامال کر دیا۔
شاہ کمال کےجلال ان کےافراد خانہ پر بھی اثرانداز ہوتےرہتےتھی۔ ایک دفعہ آپ کےچھوٹےصاحبزادےنورالدین دیوار پر گھڑ سواری کےانداز میں فروکش تھےاور دیوار کو حکم دینےلگےکہ چل پڑو دیوار متحرک ہو گئی۔ شاہ کمال سارےمعاملہ کو دیکھ رہےتھی۔ آپ کو بہت غصہ آیا بچےکو پاس بلایا اور سینےپر ہاتھ پھر کر اس کی روحانیت سلب کر لی۔ اسی طرح ایک دفعہ آپ کا نام یعنی شاہ کمال‘ شاہ کمال کہہ کر کوئی شخص پکار رہا تھا۔ آپ کےبیٹےشاہ عمادالدین نےیہ صدا سنی تو ہوا میں زور لگانےلگی۔ شاہ کمال نےدیکھا تو بیٹےسےفرمانےلگےیہ کیا کر رہےہو۔ انہوں نےعرض کی کہ محترم پدرگاہی ہزاروں میل دور سمندر میں آپ کا ایک مرید کسی مشکل میں گرفتار ہےاور آپ کی امداد کا طلبگار ہےچنانچہ میں نےاس کی مدد کی اور اس کی تکلیف رفع کرنےکی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ کو بہت غصہ آیا آپ نےفرمایا کہ کیا تمہیں لوحِ مبارک پر لکھا ہوا فیصلہ معلوم ہےجو تم اپنی کرامت دکھانےمیں مصروف ہو۔ آپ نےشاہ عماالدین کےبھی سینہ پر ہاتھ پھیر کر ان کی روحانیت سلب کر لی۔ آپ کی جلالیت سےگھبرا کر آپ کےتیسرےفرزند شاہ موسیٰ نےآپ سےدور ہو جانےکی فیصلہ کر لیا اور رات کی تاریکی میں میلوں سفر کرتےمگر صبح ہوتےہی اپنےآپ کو والد کی خانقاہ کےباہر دیکھتےہفتےگزر گئےوہ کہیں بھی نہ جاسکےاور آخرکار والد کی خدمت میں حاضر ہوئےاور اپنی کیفیت بیان کی۔ بعد میں شاہ موسیٰ کو ہی خرقہ خلافت ملا اور آپ کو کوٹ قبولہ ضلع ساہیوال خلق خدا کی رشدوہدایت کیلئےروانہ کیا گیا۔
آپ کا ایک مرید تجلی الٰہیہ کا بہت شوقین تھا مگر سالہا سال کی کوششوں کےباوجود شوقِ دیدار سےمحروم رہا آخرکار حضرت نجم الکبریٰ کی خدمت میں جانےکو تیار ہوا۔ کیونکہ ان کےمتعلق مشہور تھا کہ وہ جدھر نظر بھر کر دیکھ لیتےتھےاس کی دنیا ہی بدل جایا کرتی تھی مرید اپنےپروگرام کو آخری شکل دےرہا تھا کہ آپ نےاس کو فرمایا کہ تو نجم الکبریٰ کےذریعےتجلی الٰہیہ کا متمنی ہےاس نےاثبات میں سر کو جنبش دی اور سوچنےلگا اب شاید حضرت مہربان ہو کر دیدار الٰہی سےسرفراز فرمائیں گی۔ آپ نےفرمایا اےمرید میری طرف دیکھ‘مرید نگاہوں کی تاب نہ لا سکا غش کھا کر گرا اور پھر واصل حق ہو گیا۔ لوگوں نےحیرانگی سےپوچھا کہ یہ کیا ہو گیا۔ آپ نےفرمایا یہ تجلی الٰہیہ کا متمنی تھا مگر تاب نہ لاسکا اور راہی عدم ہو گیا ہی۔
آپ کا وصال بھی عجیب انداز میں ہوا۔ آپ کئی روز سےاپنےحجرےمیں بند تھی۔ 29جمادی الآخر 981ھ کو آپ کےصاحبزادےشیخ عمادالدین آپ کی خبرگیری کیلئےآپ کےحجرےمیں گئی۔ آپ کو بےسدھ پایا۔ ہلایا جلایا اور جب تصدیق کر لی کہ آپ اس دنیا فانی سےرخصت ہو گئےہیں تب لوگوں کو اطلاع دی۔ مگر جب آپ کو غسل دیا جارہا تھا آپ نےاچانک آنکھیں کھولیں اور غسال ڈر کےمارےبھاگنےلگا تھا۔ آپ نےفرمایا کیا وجہ ہےکیوں دامن چھڑا کر بھاگ رہےہو۔ اس نےعرض کی حضرت آپ کی وفات کی اطلاع تو شہر بھر میں ہو چکی ہی۔ آپ نےفرمایا اچھا اور کروٹ لےکر ابدی نیند سو گئی۔ آپ کےمزار پر ہر وقت رحمتِ باراں رہتی ہی۔ چہارسو پھلدار درخت اور پھول دار پودےلگےہوئےہیں۔ عجیب سماں اور روح پرور ماحول ہر آنےجانےوالوں کو محفوظ کرتا ہی۔ خاص کر موسم بہار کی رونقیں آپ کےمزار کو پھولوں کےنیچےچھپا دیتی ہیں۔ آپ خودی کےمعلم اور سرخیل عاشقان تھی۔ آپ کےعلوم و اسرار کےہندو اور مسلمان یکساں طور پر اسیروتابع ہیں اور تھی۔
 




Go to Page :

*    *    *

 

Download the PDF version for Offline Reading. (Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is required to read Digital PDF Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)