|
حضرت مخدوم حسام الدین ملتانی
وہ کسی مقدر والےکو ہی نصیب ہوتا ہےمرید ہوتےہی آپ کو کعبہ کی زیارت اور حج اکبر کی ادائیگی کا حکم ملا۔ آپ بلاچون و چراحج کیلئےروانہ ہو گئی۔ نہ سفر کی تیاری کی نہ زادِراہ لیا۔ صرف توکل اللہ اور حکم مرشد کا ساتھ تھا۔ یہی وجہ تھی۔ منزلیں خودبخود طےہوتی گئیں۔ سفر کی صعوبتیں خودبخود دور ہوتی گئیں۔ آپ نےغلافِ کعبہ تھام کر خدا سےعرض کی۔ میرےمالک! میرےظاہر و باطن سےتو واقف ہی‘ میری طلب تو جانتا ہےمَیں تجھ سےتجھ کو مانگتا ہوں۔ تو میرےلئےجو کچھ بہتر ہےوہ مجھےعطا فرما دی۔ آپ نےمسجد الحرام میں بڑی عبادات اور ریاضت کی اور دل کھول کر خدا سےدعائیں مانگیں۔ دل کو یہاں سکون حاصل ہوا تو آپ مرشد کی خدمت میں حاضر ہونےکیلئےدہلی روانہ ہو گئی۔
ایک دن جمعہ کےروز کیلوکھڑی کی مسجد میں بعدازنماز فجر حضرت محبوب الٰہی آرام فرما رہےتھےکہ شیخ عثمان مکہ سےواپس پہنچےاور دل میں خیال کیا کہ حضرت آرام فرما لیں۔ لہٰذا بعداز نماز جمعہ خدمت میں حاضر ہوں گا اور اس سےپہلےکسی کو نہ ملوں گا اس لئےآپ اپنےجسم کو مستور کر کےبیٹھ گئی۔
نماز چاشت کےبعد حضرت محبوب الٰہی اٹھےاور خادم مسجد سےکہا کہ مسجد میں شیخ عثمان آچکےہیں۔ ان کوفوراً میرےپاس لائو۔ خادم مسجد نےساری مسجد تلاش کی سوائےایک پردہ پوش کےساری مسجد خالی تھی۔ آخر وہ ان کےپاس پہنچ کر کہنےلگا۔ اےچادر میں چھپےہوئےشخص! تو یقینا شیخ عثمان ہےکیونکہ حضرت محبوب الٰہی غلط نہیں کہہ سکتےاس لئےتو فوراً ان کی خدمت میں حاضر ہو جا یہ سن کر شیخ عثمان فوراً اٹھےاور پیرومرشد کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ حضرت محبوب الٰہی نےفرمایا کہ عثمان کیا طفلانہ حرکت تم نےکی کہ اپنےآپ کو ہم سےچھپا لیا شیخ عثمان نےمعجوب تبسم سےعرض کی کہ یا حضرت! میں آپ کو اچانک مل کر حیران کر دینا چاہتا تھا۔ آپ مسکرا دیئےاور خانہ کعبہ میں ریاضت و عبادت اور دیگر حالات کےبعد یہ بھی دریافت کیا کہ مدینہ طیبہ میں بھی گئےکہ نہیں؟ شیخ عثمان کا نفی کا جواب سن کر حضرت محبوب الٰہی بہت خوش ہوئےاور فرمایا حج کےبعد مدینہ جانا ایک طفیلی عمل ہےاور ایسےعمل سےعشق کی توہین ہوتی ہےعشق کا جذبہ اس بات کا متقاضی ہےکہ حج کےبغیر مدینہ جا کر آقا کےدر پر حاضری دی جائےحج کےساتھ مدینہ بھی چلےجانا تو ایک رسم ہےجو عاشقوں کےصدق کےمنافی ہےتم آج ہی مدینہ روانہ ہو جائو اور رسول مقبول کی خدمت میں حاضر ہو جائو اور میرا سلام عرض کرنا شیخ عثمان نےکیوں اور کیا کہنا تو سیکھا ہی نہ تھا۔ ادھر حکم ملا ادھر تعمیل شروع ہو گئی۔ اسی دم آپ مدینہ کیلئےروانہ ہو گئی۔ راستےکی تکالیف‘ پریشانیاں اور مشکلات کو آپ بالکل زیرخاطر نہ لائےاور اپنی منزل کی طرف گامزن رہےجب مدینہ منورہ پہنچےتو حضور اکےروضےپر جا کر دیکھا کہ حضرت محبوب الٰہی بھی وہاں موجود ہیں ان کو دیکھ کر شیخ عثمان نےکہا۔ ”پیرومرشد گواہ رہنا کہ میں نےحضور کےروضےپر طفیلی حاضری نہیں دی بلکہ میں خصوصی اور اہتمام کےساتھ مدینہ حاضر ہوا ہوں شیخ عثمان نےکئی ماہ تک مدینہ میں قیام رکھا اور جب دہلی میں حاضر ہوئےاور رونےلگےکہ آقا کےروضےسےواپس آنےکو دل نہیں چاہتا تھا۔ طبیعت اس وجہ سےنہایت آزردہ اور بےقرار ہےحضرت محبوب الٰہی نےآپ کےسر پر دست شفقت پھیرا اور اس دن آپ کو حسام الدین کا لقب عطا فرمایا۔ اس دن سےآپ کا نام حسام الدین ہی مشہور ہو گیا اور شیخ عثمان معدوم ہو کر رہ گیا۔ حسام الدین اسم بامسمیّٰ ثابت ہوئےآپ دن کی تلوار تھی۔ آپ نےاس راہ میں اتنی ترقی اور ریاضت کی جو بہت کم لوگوں کو میسر آئی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نےوہ مراتب عطا کئےجو صرف وہ اپنےخصوصی بندوں کو بخشتا ہی۔ آپ واقعی شمع مصطفی کےپروانہ تھی۔ آپ کو ولایت‘ خلافت اور مقام بلند اللہ نےخود بلا کر عطا فرمایا آپ کو اپنےمرشد سےوالہانہ لگائو تھا۔ حکم کی تعمیل آپ کا نصب العین تھی اور یہی وجہ ہےکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نےہر معاملہ میں سرخرو کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نےبہت فضیلت دی یقینا جو لوگ اللہ کےہو جاتےہیں‘ اللہ کی ساری چیزیں ان کی مطیع و فرمانبردار ہو جاتی ہیں۔ زمین کی طنابیں کھچ جاتی ہیں۔ زمان و مکان میں ماضی اور مستقبل کا خاتمہ ہو جاتا ہےاور یہ صرف اس صورت میں ہوتا ہےجب اللہ مہربان ہو جاتا ہی۔
ایک مرتبہ مشہور بزرگ علائوالدین نیلی چشتی اور مولانا شمس الدین یحییٰ حضرت
نظام الدین اولیاءکی خدمت میں شرفِ ملاقات کیلئےحاضر ہوئےاور آپ کےحکم کےمطابق
پہلےحضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کےمزار پر حاضر دی۔ اس کےبعد دیگر دوست حضرات
سےملاقاتیں کیں اور پھر مولانا حسام الدین اپنی کٹیا میں موجود تھی۔ اس کٹیا میں نہ
بیٹھنےکو جگہ تھی‘ نہ کھڑکی نہ دروازہ تھا۔
|