|
حضرت مخدوم حسام الدین ملتانی
یہ دونوں بزرگ جب اندر داخل ہوئےتو مولانا حسام الدین نےایک پرانی چٹائی ان کیلئےبچھا دی اور ان کےسامنےکھانےکو کھچڑی پیش کی۔ دونوں مہمان بزرگوں نےمولانا حسام الدین کو ایک چادر دوسرےنےایک چاندی کا سکہ پیش کیا۔ مولانا حسام الدین نےدونوں چیزیں قبول کر لیں اور جب دونوں مہمان رخصت ہونےلگےتو مولانا حسام الدین نےان سےکہا۔ میرےدرویش بھائیو! میں آپ دونوں کو خالی ہاتھ رخصت نہیں کرنا چاہتا۔ لہٰذا آپ میری طرف سےیہ نذرانےقبول کریں اس پر مولانا حسام الدین نےجس بزرگ نےچادر پیش کی تھی اس کو چاندی کا سکہ دیا اور جس نےچاندی کا سکہ پیش کیا اس کو چادر دےدی۔
مولانا علائوالدین نیلی چشتی اور مولانا شمس الدین یحییٰ جب حضرت محبوب الٰہی کی خدمت میں حاضر ہوئےتو اپنےسفر کےتمام واقعات سنائےجب مولانا حسام الدین کا ذکر آیا تو حضرت محبوب الٰہی نےبہت دلچسپی سےذکر سنا اور فرمایا کہ حسام الدین سےملاقات کا حال تفصیل سےبیان کرو‘ دونوں بزرگ چادر اور چاندی کےسکہ والا قصہ بھی سنانےپر مجبور ہو گئےیہ سننا تھا کہ حضرت محبوب الٰہی آبدیدہ ہو گئےاور فوراً خادم خاص خواجہ رضی کو کچھ چاندی کےسکی‘ کپڑےاور اپنا جاءنماز دےکر فرمایا کہ یہ چیزیں ابھی مولانا حسام الدین کو پہنچا دو۔ خواجہ رضی جب یہ اشیاءلےکر مولانا حسام الدین کی خدمت میں پہنچےتو مولانا حسام الدین بہت حیران ہوئےاور فرمایا میں ان چیزوں کےکہاں لائق ہوں۔ خواجہ رضی نےمولانا حسام الدین کےاستفسار پر یہ بھی بتلایا کہ جب یہ اشیاءپہنچانےکا حضرت مولانا محبوب الٰہی نےحکم دیا تھا اس وقت مولانا شمس الدین یحییٰ اور علائوالدین نیلی چشتی بھی حضرت کےپاس تھی۔ مولانا حسام الدین فوراً حضرت خود چشم مکا شفہ سےمیرےحالات جان لیتےتو یہ اور بات ہوئی آپ کو اس طرح میرےمتعلق نہیں بتلانا چاہئےتھا۔ دونوں نےمعذرت کےساتھ عرض کی کہ ہم جب آپ کا ذکر حضرت محبوب الٰہی سےکر رہےتھےتو انہوں نےہمیں مجبور کر کےآپ کےپاس گزرےہوئےہر لمحہ کی تفصیل پوچھی چنانچہ ہم مجبور ہو گئی۔ بہرحال ہم شرمندہ ہیں ہمیں معاف فرما دیں۔ آپ نےان کو معاف کر دیا۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءنےجس دن نصیر الدین چراغ دہلوی اور قطب الدین منور کو حرفہ¿ خلافت سےسرفراز فرمایا۔ اس دن حسام الدین مسجد میں بیٹھےریاضت میں مشغول تھےآپ کو جب پتہ چلا تو آپ نےان دونوں کی خوش بختی پر رشک کیا اور سوچا کہ میں تو اس در پر عمر بھر پڑا رہوں تو میری یہی خوش نصیبی ہو گی۔ ابھی آپ یہ سوچ رہےتھےکہ آپ کو خواجہ رضی نےبتایا کہ حضرت محبوب الٰہی آپ کو یاد فرما رہےہیں آپ کو اپنی سماعت پر یقین نہ آیا۔ خواجہ رضی نےدوبارہ حضرت کا حکم دہرایا آپ جب دربار نظامی میں پہنچےتو آپ کو اسی خلافت سےنوازا گیا۔ آپ کو خرقہ خلافت عطا ہوا اور دنیا کو ترک کر دینےکا حکم ہوا۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءنےمولانا حسام الدین کو زندگی کےاسباق دیئےان کی
تربیت کی اور شہزادوں جیسی زندگی بسر کرائی اور ان کی شادی بھی کی‘ شادی کےبعد
مولانا حسام الدین شہر سےدور ویرانےمیں آباد ہونےکےمتمنی تھےمگر حضرت محبوب الٰہی
نےاجازت نہ دی کیونکہ اس طرح اکیلےرہنےسےشہرت ہو جاتی ہےاور شہرت عبادات میں حائل
ہوتی ہےروزمرہ زندگی کےتقاضوں کا ذکر مولانا حسام الدین نےحضرت محبوب الٰہی سےکیا
اور عرض کی بعض اوقات بچوں کےخوردونوش کیلئےمیرےپاس کچھ نہیں ہوتا کیونکہ میں
اپنےپاس کوئی مال جمع نہیں رکھتا۔ کچھ بچوں پر خرچ کر دیتا ہوں اور کچھ
آنےجانےوالوں پر خرچ کر دیتا ہوں۔ کیا فاقوں سےبچنےکیلئےقرض لیا جاسکتا ہی۔ اس پر
حضرت محبوب الٰہی نےفرمایا کہ تو صبر کرنا سیکھ۔ تدبیر درویشی کو برباد کر دیتی ہی۔
درویش نامراد رہ کر خوش رہتا ہےاور تدبیر کےنزدیک بھی نہیں جاتا مولانا حسام الدین
بہت نادم ہوئےاس پر حضرت محبوب الٰہی نےفرمایا کہ درویش کی دو قسمیں ہیں۔ صوری دریش
اور معنوی کی درویش۔ صوری درویش وہ ہوتےہیں جو در در پھر کر لوگوں کےسامنےدست سوال
دراز کرتےہیں جبکہ معنوی درویش‘ بظاہر عبادات میں مشغول رہتےہیں مگر دل میں لوگوں
سےمال و زر مانگنےکےمتمنی رہتےہیں۔ صوری درویش‘ معنوی درویش سےبہتر ہےکیونکہ اس کا
ظاہر باطن ایک ہوتا ہےجبکہ معنوی درویش بظاہر حقیقی درویش ہوتا ہےمگر باطن میں
دربدر مارا مارا پھرتا ہی۔
|