|
حضرت مخدوم حسام الدین ملتانی
حضرت محبوب الٰہی نےمولانا حسام الدین کو حکم دیا کہ آپ دین کی تبلیغ اور خلق خدا کی فلاح کیلئےگجرات روانہ ہو جائیں آپ نےگجرات پہنچ کر پٹن میں سکونت اختیار کی اور کپڑےکی تجارت کی۔ آپ پورےتھان پر دو گز کا منافع لیتےتھی۔ اس طرح آپ کا کپڑا فوراً فروخت ہو جاتا۔ آپ منافع سےاپنا گذر اوقات کرتےاور باقی وقت ریاضت میں گزارتی۔
آپ کا جس جگہ قیام تھا وہاں ایک مندر کا مہنت بھی رہتا تھا۔ آ پ کےآنےسےاس کو بہت تکلیف ہوئی۔ وہ آپ کےخلاف ہو گیا اور درپےآزار ہوا۔ آپ پر نت نئی بہتان تراشی کرنےلگا۔ آپ نےاس کو بہت سمجھایا کہ آ پ اس مخالفت سےباز رہیں۔ آپ اپنا کام کریں اور مجھےمیرےحال پر چھوڑ دیں۔ لیکن وہ مصر تھا کہ مولانا حسام الدین پٹن سےچلےجائیں۔ دن بدن اس کی شرارتیں بڑھتی چلی گئیں مگر مولانا ہمیشہ یہی فرماتےکہ تمہاری مشکلات میرا مولا آسان کر دےگا۔ ان باتوں سےوہ مہنت بہت چراغ پا ہوتا۔ ایک دن اس نےمولانا حسام الدین سےکہا کہ آپ اپنی کوئی کرامت دکھائیں۔ آپ نےفرمایا کہ میں صرف اتنا یقین رکھتا ہوںک میرا رب مجھےشیطان کےشر سےاپنی حفظ و امان میں رکھےگا یہی میرا علم ہےاور یہی میری کرامات ہیں۔ اس پر وہ مہنت بولا میں اپنی کرامات کےزور سےآ پ کو زیر کرتا ہوں آپ اپنےرب سےکہیں وہ آپ کو بچائےاس پر وہ مہنت ایک سنگین تخت پر بیٹھ گیا اور تخت کو مخاطب کر کےحکم دیا کہ اےتخت ذرا تو اوپر اڑ اور اس مولانا پر جوتوں کی بارش کر دی۔ تخت اوپر اڑا مولانا حسام الدین نےتخت دیکھ کر فرمایا۔ نیچےآجائو۔ تخت جس طرح اڑا تھا اسی طرح واپس آگیا۔ مہنت کی لاکھ کوششوں سےبھی تخت دوبارہ نہ اڑ سکا۔ آخر عاجز آکر اس مہنت نےآپ کےقدموں میں سر جھکا دیا اور معذرت کا طالب ہوا۔ آپ کی اس کرامات نےآپ کو پٹن بھر میں مشہور کر دیا اور سارا شہر اور اردگرد کا علاقہ آ پ کےمریدوں اور معتقدوں میں شامل ہو گیا مگر آپ نےمرشد کےحکم پر عمل جاری رکھا اور مریدوں کی تعداد حتیٰ المکان بہت کم رکھی۔ آپ کو حضرت محبوب الٰہی کا حکم تھا کہ کرامت استقامت ہی۔ خدا کےدرپر اپنےکام میں مستقیم ہو جانا ہی کرامت ہی۔
ایک مرتبہ مولانا حسام الدین کہیں جا رہےتھےکہ آ پ کےکندھےپر رکھا ہوا آپ کا جائےنماز گر گیا۔ ایک شخص جو آ پکےمقام اور مرتبےسےواقف تھا آپ کو آواز دےکر جائےنماز کےمتعلق کہا مگر آپ نےمڑ کر نہیں دیکھا اس نےدوبارہ پکارا کہ شیخ آ پ کا مصلیٰ گر گیا ہےآپ نےپھر بھی نہ دیکھا پھر وہ شخص بھاگ کر آپ کےپاس گیا اور آپ کا بازو پکڑ کر روکا اور مصلیٰ دیا او کہا کہ شیخ میں آپ کو پکارتا رہا ہوں آپ نےآواز ہی نہیںسنی۔ آپ نےفرمایا۔ بھائی! میں کب اتنا بڑا درویش ہوں جو تم مجھےشیخ کہہ رہےہو۔ تبھی تو میں رکا نہیں کیونکہ میں اپنےآپ کو شیخ خیال نہیں کرتا۔
مولانا حسام الدین رہتےتو پٹن (گجرات) میں تھےمگر ہر نماز کیلو کھڑی کی مسجد
میں حضرت محبوب الٰہی کےساتھ دہلی (غیاث آباد) میں ادا فرماتےیہ میلوں کی مسافت کا
سمیٹنا عام بندےکی فہم سےبالا ہی۔ بہرحال اکثر اوقات لوگ حیران ضرور ہوا کرتےتھےمگر
ان میں کچھ پوچھنےکی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ ایک دن ایک پریشان حال شخص حضرت محبوب
الٰہی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی حضرت! میں پٹن کا باشندہ ہوں چند ماہ
پہلےوہی آیا تھا اور جلدی واپس جانا چاہتا تھا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ میری بیٹی کی
شادی اور شادی کےدن طےپاچکےہیں بیٹی میرےساتھ ہےاوّل تو کوئی قافلہ پٹن جانےوالاہی
نہیں جس کےہمراہ ہم پٹن جاسکیں۔ دوسرےہم اتنی جلدی پٹن نہیں پہنچ سکتےکہ شادی کی
تاریخ سےپہلےہم پہنچ جائیں۔ آپ ہماری مشکل حل فرمائیں۔ میں بہت ہی پریشان ہوں۔ حضرت
نےفرمایا کہ پٹن سےمولانا حسام الدین اکثر تشریف لاتےرہتےہیں اگر آج بھی وہ آگئےتو
میں تم دونوں کو شادی کی تاریخ سےبہت پہلےپہنچوا دوں گا۔ اس شخص نےعرض کی کہ ایک
شخص کےساتھ حضرت! میں کیسےجائوں جبکہ جوان بیٹی کا ساتھ ہےراستہ میں سو خطرات بھی
ہوں گی۔ حضرت محبوب الٰہی نےفرمایا کہ تم فکر نہ کرو۔ مولانا حسام الدین
کےہوتےہوئےتمہیں کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ و ہ شخص خاموش رہا۔ یہ باتیں اس کےفہم و
ادرا ک سےبالا تھیں ظہر کی نماز کےبعد اس کو حضرت محبوب الٰہی نےحکم دیا کہ جا کر
اپنی بیٹی کو یہاں لےآئو۔ مولانا تشریف لاچکےہیں وہ شخص گیا اور اپنی بیٹی کو لےکر
آگیا۔ حضرت نےمولانا حسام الدین کو فرمایا کہ اس شخص اور اس کی بیٹی کو پٹن
لیتےجائو۔ مولانا نےعرض کی پیرومرشد میں تو اپنےحال سےدوسروں کو واقف نہیں کرنا
چاہتا تھا مگر آپ کی مرضی افشا کرنےکی ہےتو میری کیامجال؟ مولانا نےدونوں باپ بیٹی
سےکہا کہ گھوڑےپر بیٹھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور جب میں کہوں تب گھوڑےکو
چلنےکا اشارہ کریں۔
|