|
حضرت سید سلطان احمد سخی سرور
آپ نےسلسلہ چشتیہ میں حضرت خواجہ مودود چشتی سلسلہ سہروردیہ میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی اور سلسلہ قادریہ میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہم اللہ علیہم سےخرقہ¿ خلافت حاصل کیا۔
بغداد شریف سےواپسی پر آپ نےچند دن لاہور میں قیام فرمایا اور پھر وزیرآباد کےقریب سوہدرہ میں دریائےچناب کےکنارےیادِ الٰہی میں مشغول ہو گئی۔ عشق‘ مشک اور اللہ کےاولیاءکبھی چھپےنہیں رہتی۔ یہ الگ بات ہےکہ عام دنیادار انسان ان کےقریب ہو کر بھی فیضیاب نہ ہو۔ آپ کی بزرگی و ولایت کا چرچا چار دانگ عالم میں ہو گیا۔ ہر وقت لوگوں کا ہجوم ہونےلگا۔ جو بھی حاجت مند درِ اقدس پر پہنچ جاتا تہی دامن و بےمراد نہ لوٹتا۔ آ پکو جو کچھ میسر آتا فوراً راہ خدا میں تقسیم فرما دیتی۔ ہر جگہ لوگ آپ کو سخی سرور اور سختی داتا کےنام نامی اسم گرامی سےیاد کرنےلگی۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہونےوالےدنیا کےساتھ دین کی دولت سےبھی مالامال ہونےلگی۔ دن بدن آپ کےمحبین‘ معتقدین اور مریدین میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
دھونکل میں بھی آپ نےچند سال قیام فرمایا۔ جہاں آپ نےڈیرہ ڈالا وہ بڑی اجاڑ و ویران جگہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نےاپنےفضل و کرم سےوہاں پانی کا چشمہ جاری فرما دیا۔ مخلوق خدا یہاں بھی جوق درجوق پہنچنےلگی۔ میلوں کی مسافت طےکر کےلوگ آگےاور اپنےدکھوں‘ غموں اور محرومیوں کےمداوا کےبعد ہنسی خوشی واپس لوٹ جاتےایک دن دھونکل کےنمبردار کا لڑکا مفقود الخبر ہو گیا۔نمبردار نےحاضر خدمت ہو کر عرض کیا تو ارشاد فرمایا۔ ”مطمئن رہو‘ شام تک لوٹ آئےگا۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
وطن مالوف سےنکلےکئی سال ہو گئےتھی۔ لہٰذا واپس شاہکوٹ تشریف لےگئی۔ اس اثناءمیں آپ کی شہرت و بزرگی کےچرچےپورےہندوستان کے میں پہنچ چکےتھی۔ سینکڑوں میلوں کا سفر طےکر کےلوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھی۔ آپ کےخالہ زاد بھائیوں کو آپ کی یہ شہرت و مرتبہ ایک آنکھ نہ بھایا۔ اپنےلئےخطرہ محسوس کرنےلگی۔ لہٰذا ان کی دیرینہ دشمنی پھر عود کر آئی۔
جب خالہ زاد بھائیوں کی عداوت انتہا کو پہنچ گئی تو آپ نقل مکانی فرما کر ڈیرہ غازی خاں تشریف لےگئےاور کوہِ سلیمان کےدامن میں نگاہہ کےمقام پر قیام فرمایا اور عبادتِ الٰہی میں مصروف ہو گئی۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں آج کل آپ کا مزار اقدس ہےاور اب سخی سرور کےنام سےمشہور ہی۔ لوگوں کا یہاں بھی اژدہام ہونےلگا۔ ہر مذہب و ملت کےلوگ آپ کےدرِ دولت پر حاضر ہونےلگی۔ کئی ہندو‘ سکھ اور ان کی عورتیں بھی آپ کےعقیدت مندوں اور معتقدوں میں شامل تھیں جو سلطانی معتقد کہلاتےتھےاور اب بھی پاک و ہند میں موجود ہیں۔
آپ کےارادت مند‘ عقیدت مند‘ معتقد اور مریدین بےشمار تھےلیکن ان میں سےچار اصحاب خاص الخاص تھی۔ یہ چار یاروں کےنام سےمشہور تھی۔ انہیں آپ سےبےحد عشق تھا۔ آپ بھی انہیں بہت محبت کرتی۔
آپ کےخالہ زاد بھائیوں نےآپ کو یہاں بھی سکھ کا سانس نہ لینےدیا۔ انہوں نےاپنی قوم کےان گنت لوگوں کو آپ سےبدظن کر دیا اور جم غفیر لےکر آپ کو شہید کرنےکیلئےچل پڑی۔ ان دنوں آ پ کےسگےبھائی حضرت سید عبدالغنی المعروف خان ڈھوڈا نگاہہ سےبارہ کوس دور قصبہ ودود میں عبادت و ریاضت میں مشغول رہتےتھی۔ ان کےخادم نےجب خالہ زاد بھائیوں کےعزائم کےبارےمیں اطلاع دی تو تن تنہا ان کےمقابلےپر اتر آئےاور بہتر اشخاص کو حوالہ موت کرنےکےبعد جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کےبعد وہ سب لوگ نگاہہ پہنچی۔ اس وقت حضرت سید احمد سلطان سخی سرور نماز پڑھنےمیں مصروف تھی۔ چند ایک خادم اور چاروں یار موجود تھی۔ نماز سےفراغت کےبعد جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ گھوڑی پر سوار ہو گئی۔ بھائیوں نےحملہ کیا تو آپ نےبھی جنگ شروع کر دی اور یاروں سمیت مقام شہادت سےسرفراز ہوئی۔ دم واپسی آپ نےارشاد فرمایا کہ میرےیاروں کو مجھ سےبلند مقام پر دفن کیا جائی۔ چنانچہ حسب الارشاد ایسا ہی کیا گیا۔
22رجب المرجب 577 ہجری (1181ئ) کو تریپن سال کی عمر میں جب آپ کی شہادت ہوئی تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہنچ گئی۔ لاکھوں محبین کےقلوب ورد و غم اور ہجر و فراق سےفگار ہو گئی۔
مختلف محبین و مریدین نےآپ کےمزارِ اقدس کی تعمیر میں وقتاً فوقتاً حصہ لیا لیکن بستی سخی سرور کےمکینوں کےبقول مزار کی عمارت کی تعمیر بادشاہ بابر نےاپنی نگرانی میں کرائی تھی اور اس ضمن میں اس نےایک مہر شدہ دستاویز بھی لکھی تھی۔ مغرب کی جانب ایک بہت بڑا حوض بنوایا تھا تاکہ اس میں پانی جمع رہی۔ مسجد کی محراب کےنیچےاور سطح زمین سےتقریباً پچاس فٹ اونچی بابا گوجر ماشکی سیالکوٹی کی قبر ہےکہتےہیں کہ آپ پہاڑ پر سےپانی لا کر نمازیوں کو وضو کرایا کرتےتھی۔
حضرت سخی سرور شہید کی یاد میں ہر سال مختلف شہروں میں میلہ لگتا ہےجس میں بےشمار لوگ حصہ لیتےہیں۔ پشاور میں اسےجھنڈیوں والا میلہ کہتےہیں۔ دھونکل میں جون ‘ جولائی کےمہینےمیں بہت بڑےمیلےکا اہتمام ہوتا ہی۔ لاہور میں اسےقدموں اور پار کا میلہ کہا جاتا ہےاور ڈیرہ غازی خاں میں آ پ کا عرس گیارہ اپریل کو بڑی دھوم دھام سےمنایا جاتا ہی۔ اس میں لوگ دور و نزدیک سےشریک ہو کر اپنی محبتوں اور عقیدتوں کےچراغ روشن کرتےاور فیضیاب ہوتےہیں۔
|