|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مذموم مقاصد اور امت کا لائحہ عمل
اور اس حق پر اس وجہ سےقدغن نہیں لگائی جا سکتی کہ اس سےکوئی فرد یا گروپ ناراض ہوتا ہی۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہےکہ اگر کسی کو کوئی شکایت یا تکلیف پہنچتی ہےتو وہ اس کےازالہ کیلئےعدالت سےرجوع کری۔
-4 یورپی یونین کےصدر نےڈنمارک کےوزیراعظم کےخاکوں کی اشاعت پر مسلمانوں سےمعافی نہ مانگنےکےفیصلےکی حمایت کی ہی۔
-5 وہائٹ ہائوس کےترجمان نےکہا ہےکہ کچھ مسلمان ملکوں میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں سےمسلمانوں کےاس دعوےکی تردید ہو گئی ہےکہ وہ امن پسند ہیں۔
دنیا کی مجموعی
آبادی میں اسلامی ملکوں کا حصہ 22 فیصد‘ مجموعی رقبےمیں 24فیصد او رتیل وگیس کی پیداوا رمیں 70فیصد ہونےکےباوجود دنیا کی مجموعی جی ڈی پی میں ان کا حصہ تقریباً 5فیصد اور مجموعی تجارت میں حصہ تقریباً 7.5فیصد ہی۔ مسلمان ملکوں کی
آپس میں تجارت کا حصہ صرف تقریباً 13فیصد ہےجبکہ 87 فیصد تجارت وہ غیرملکوں کےساتھ کرتےہیں جس میں یورپی یونین کےساتھ تجارت کا حصہ تقریباً 60فیصد ہےگزشتہ مالی سال میں پاکستان کی بیرونی تجارت کا حجم 35 ارب ڈالر کی تجارت کا حجم بھی شامل ہی۔ (4.1 ارب ڈالر کی برآمدات اور 3.1ارب ڈالر کی درآمدات) پاکستان کی بیرونی تجارت کا تقریباً 21فیصد یورپی یونین کےساتھ ہی۔ وطن عزیز کےبڑےبڑےصنعتی وتجارتی ادارےبشمول کثیر القومی (ملٹی نیشنل) ادارےاور صنعت وتجارت سےوابستہ لیڈر صاحبان مذہبی جماعتوں کی جانب سےیورپی یونین کی مصنوعات کےبائیکاٹ کےمطالبہ سےپریشان نظر
آتےہیں اگرچہ ان کا کوئی باقاعدہ ردعمل سامنےنہیں
آیا۔ یورپی ممالک میں مسلمانوں کی
آبادی تقریباً 50 لاکھ ہی۔ گزشتہ تین برسوں میں امریکہ سے3.8ارب ڈالر اوربرطانیہ سے1.0 ارب ڈالر کی ترسیلات پاکستان
آئیں۔ امریکہ میں تقریباً 10لاکھ پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ جن کی مجموعی
آمدنی کا تخمینہ تقریباً 40 ارب ڈالر سالانہ ہےجبکہ یہ لوگ تقریباً 8ارب ڈالر سالانہ بچاتےہیں۔ مسلمانوں کےمغربی ممالک کےبینکوں وغیرہ میں تقریباً 1100 ارب ڈالر کی رقوم جمع ہیں جبکہ مسلمان ممالک نےعالمی مالیاتی اداروں سمیت مختلف ملکوں سےصرف تقریباً 850 ارب ڈالر کےقرضےلیےہوئےہیں گویا.... مسلمانوں کی جمع شدہ رقوم کا ایک حصہ بطور قرض دےکر یا عالمی مالیاتی اداروں سےدلوا کر مغربی استعماری طاقتیں خصوصاً امریکہ مسلمان ملکوں سےاپنی سیاسی ومعاشی شرائط منواتےرہےہیں۔
امت مسلمہ مذہب سےدور ہوتی جا رہی ہےاور مسلم حکمران اسلامی تعلیمات کےضمن میں معذرت خواہانہ رویہ اپناتےنظر
آتےہیں‘ اسلامی نظام معیشت سےفرار اور سودی نظام پر اصرار کیا جا رہا ہےجبکہ اسلامی بینکاری کو سودی نظام کےنقش قدم پر چلایا جا رہا ہی۔ اسی پر بس نہیں بہت سےملکوں میں اسلامی بینکاری کےنام پر جمع شدہ رقوم کو مغرب میں رکھا جا رہا ہےامت مسلمہ انتشار کا شکار ہےاور ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی ہےکچھ اسلامی ملکوں کےحکمران اپنےاقتدار کو طول دینےاور کچھ سیاستدان اقتدار میں
آنےکیلئےمغرب کی مدد کےطالب نظر
آتےہیں۔ تعلیم اور ٹیکنالوجی میں بہت پیچھےہونےکی وجہ سےبہت سےاسلامی ممالک اپنےدفاع کیلئےبھی مغرب پر انحصار کرنےپر مجبور ہیں۔
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ان خاکوں کو شائع کرنےوالےممالک کےساتھ مغربی طاقتوں
کی یکجہتی اور اشتعال انگیز بیانات‘ امت مسلمہ کی حالت زار او ران خاکوں کےمذموم
مقاصد کو ذہن میں رکھتےہوئےیہ انتہائی ضروری ہےکہ اسلامی ممالک او آئی سی کےپلیٹ
فارم سےبصیرت اور مشاورت سےکام لیتےہوئےایک موثر لائحہ عمل فوری طور سےاختیار کریں۔
او آئی سی نےمستقبل میں توہین رسالت کےواقعات کو روکنےکیلئےجو حکمت عملی وضع کی ہی۔
وہ قطعی ناکافی ہےمگر پھر بھی یہ یورپی یونین کو منظور نہیں ہو گی اس حکمت عملی میں
بہرحال یہ مطالبہ شامل نہیں ہےکہ توہین آمیز خاکےشائع کرنےوالےممالک مسلمانوں
سےمعافی مانگیں۔ او آئی سی کو ایک ایسا طاقتور ٹی وی چینل بنانا ہو گا جو مختلف
زبانوں میں اسلام کی صحیح تصویر پیش کرے اور اسلام کےتشخص کو مسخ کرنی‘ اسلام کو
”جہادی“ مذہب اور مسلمانوں کو ”دہشت گرد“ کےطور پر پیش کرنےکی سازشوں کو ناکام
بنائی۔ یہ چینل مغربی ممالک کےعوام تک یہ بات پہنچائےکہ کچھ مغربی طاقتیں اقتصادی
دہشت گردی میں ملوث ہیں کیونکہ مسلمان ملکوں اور تیسری دنیا کےملکوں سےلوٹی ہوئی
دولت کیلئےمغربی ممالک کےبینکوں میں ”محفوظ جنت“ فراہم کرنا بھی اقتصادی دہشت گردی
کےزمرےمیں آتا ہی۔
|