|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مذموم مقاصد اور امت کا لائحہ عمل
یہ بات بھی کہی جانی چاہیےکہ کچھ مغربی طاقتیں افغانستان اور عراق سمیت بہت سےعلاقوں میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں جبکہ ان توہین
آمیز خاکوں کی اشاعت اور خاکےشائع کرنےوال ممالک کےساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور ان کی پشت پناہی کرنا یقینی طور سےانٹلیکچوئل دہشت گردی کےزمرےمیں
آتےہیں‘ امت مسلمہ کو یہ ذمہ داری فوری طور سےقبول کرنا ہو گی۔
او آئی سی اور مسلمان ملکوں کو واضح طور سےدنیا کو یہ بتا دینا چاہیےکہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کےخلاف جنگ کرتےرہیں گےمگر امریکہ کی سرکردگی میں دہشت گردی کےنام پر لڑی جانےوالی جنگ میں صرف اس وقت تعاون کریں گےجب (الف) اس جنگ کا حقیقی مقصد صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہو چنانچہ دہشت گردی او رآزادی کی تحریکوں میں فرق روا رکھتےہوئےدہشت گردی کی جامع تعریف کی جائی۔ شوکت عزیز صاحب کا بہرحال یہ کہنا ہےکہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کےخلاف مشترکہ سوچ رکھتےہیں۔ (ب) اقتصادی دہشت گردی کےخلاف بھی اسی طرح جنگ کی جائےجس طرف عرف عام میں سمجھی جانےوالی دہشت گردی کےخلاف جنگ کی جا رہی ہی۔ دریں اثنا توہین
آمیز خاکوں کی اشاعت (انٹلیکچوئل دہشت گردی) کےخلاف عالم اسلام میں پروقار اور پرامن احتجاج جاری رہنا چاہیی۔ یہ بھی انتہائی ضروری ہےکہ مسلمان ملکوں کےعلمائےکرام اور اسلامی فقہ اکیڈمی یہ فتویٰ جاری کرنےپر غور فرمائیں کہ اسلامی ملکوں میں رہنےوالےمسلمانوں اور مسلمان حکومتوں کیلئےیہ جائز نہیں کہ وہ اپنی رقوم مغربی ممالک میں جمع کرائیں کیونکہ یہ دولت مسلمانوں کو نقصان پہنچانےکیلئےاستعمال کی جا رہی ہیں حالانکہ یہ دولت مسلمانوں کےپاس اللہ کی امانت ہی۔ ملک کےاندر رہائش پذیر پاکستانیوں کی بیرونی ملکوں میں اندازاً 35 ارب ڈالر کی رقوم جمع ہیں‘ اب وقت
آ گیا ہےکہ ملک میں رہائش پذیر پاکستانیوں کو قانوناً پابند کر دیا جائےکہ وہ بیرونی بینکوں میں کھاتےنہیں رکھ سکتی۔
اگر یورپی یونین توہین آمیز خاکوں کےضمن میں امت مسلمہ کےمطالبات پر ہٹ دھرمی
کا رویہ برقرار رکھتی ہےتو متعلقہ ملکوں کےساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنی‘ ان کی
مصنوعات کا بائیکاٹ کرنےاور تیل کو کسی نہ کسی شکل میں بطور ہتھیار استعمال
کرنےکےہمہ گیر اثرات ومضمرات پر او آئی سی کو انتہائی سنجیدگی سےغور کرنا ہو گا اور
اسلامی ترقیاتی بینک واسلامک چیمبر آف کامرس سےبھی مشاورت کرنا ہو گی یہ معاملہ
ابھی تک او آئی سی کےایجنڈےپر نظر نہیں آیا۔ امت مسلمہ اور مسلمان حکمرانوں کو اس
بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ اس ضمن میں مومنانہ بصیرت اور مشاورت سےفیصلےکرنےاور
مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کرنےکےبجائےاگر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا معاملہ
اقوام متحدہ میں لےجایا گیا تو یہ معاملےکو سردخانےمیں ڈالنےکےمترادف ہو گا اور اس
سےامت کےمفادات کو زک پہنچےگی۔
|