kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش

 

توہین آمیز کارٹون....دعوت غوروفکر

 

(ممتاز دانشور ڈاکٹر مہدی حسن کی وقار ملک سےگفتگو)

 

 

 

انیسویں صدی میں بعض معروف رسالےایسےبھی موجود تھے، جو انگریز حکومت کی پالیسیوں اور کارگزاریوں کےخلاف کارٹونوں کےذریعےہی طنز کرتےتھےاوراپنی ان کارٹونوں کی وجہ سےبہت مقبول تھی۔ ڈنمارک کےاخبار میں قابل اعتراض بارہ کارٹونوں کی اشاعت کےبعد ساری دنیا میں اس وقت اس بحث کا آغاز ہو گیا ہےکہ کیا کسی اخبار میں شائع ہونےوالےکسی سکیچ یا مضمون کےخلاف کسی قوم یا بہت سی اقوام کو اعتراض اور احتجاج کرنےکا حق حاصل ہےیا نہیں؟بہت سےمغربی مبصرین کارٹونوں کی اشاعت کو جائز قرار دینےکےلئےآزادی اظہار کا نعرہ لگار ہےہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ کسی اخبار نویس یا کارٹونسٹ کےخیال کےخلاف احتجاج کرنا اس کےآزادی اظہار کےحق کو سلب کرنےکےبرابر ہی۔ مغربی جمہوریت میں آزادی اظہار کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہےاور آزادی اظہار کی اہمیت اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کےچارٹر میں بھی بہت نمایاں ہی۔ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر آرٹیکل 19ہر شہری کو یہ حق دیتا ہےکہ وہ اپنی رائےکا اظہار کرنےکا حق رکھتا ہےاور اس اظہار رائےکےحق میں قومی سرحدیں بھی رکاوٹ نہیں بنتیں ۔تاہم جب اظہار کی آزادی کا حق کسی کےمذہبی عقائد یا کسی کی نجی زندگی کی حدود کو پھلانگنےلگےتو ہمیشہ یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا آزادی اظہار کی کوئی حدود بھی ہیں یا نہیں؟مغربی جمہوریت میں جہاں ذرائع ابلاغ کی سر گرمیوں کو مانیٹر کرنےکےلئےکوئی خصوصی قوانین موجود نہیں ہیں، وہاں عرصہ دراز سےضابطہ اخلاق اور معاشرتی ذمہ داریوں کےنام پر ذرائع ابلاغ سےمتعلق افراد خود یہ فیصلہ کرتےہیں کہ کون سےتحریر یا تصویر قارئین یا ناظرین تک پہنچنی چاہیئےاور کس اطلاع کو روک لینا معاشرےکی فلاح و بہبود کےلئےمناسب ہوگا۔ ان کےاس فیصلےکو ابلاغ عام نظریےمیں گیٹ کیپر یا چوکیدار کا نام دیا جاتا ہی۔ گیٹ کیپر کےفرائض میں یہ شامل ہےکہ اگر اطلاع یا تصویر حقائق پر مبنی بھی ہو، لیکن اس سےکسی کی نجی زندگی میں دخل اندازی یا کسی کےمذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنےکا خدشہ ہوتو ایسی اطلاع کو روک لی۔ اہل مغرب نجی زندگی میں دخل اندازی کےاصول کو عام طور پر مد نظر رکھتےہیں اور ایسی اطلاعات یا تصاویر، جن کا تعلق عوام سےنہیں ہوتا، شائع کرنےسےاحتراز کرتےہیں، تاہم مذہب کےمعاملےمیں اہل مغرب کا انداز فکر اس سےمختلف ہے، کیونکہ گزشتہ تقریباً تین سو سال کےعرصےمیں مغربی تہذیب میں مذہب کی حیثیت انفرادی عقیدےکی ہو کر وہ گئی ہےاور مہذب کا عام طور پر معاشرتی کردار ختم ہوچکا ہے۔ مذہب کےبارےمیں اس رویےکو مغربی جمہوریت میں سیکولر ازم کا نام دیا گیا ہی۔ مغربی ممالک میں بائیبل ، توریت اور زبور کےواقعات پر مبنی فلمیں عام بنائی جاتی ہیں، جس میں بنی اسرائیل کےمختلف پیغمبروں کو بھی دکھایا جاتا ہی۔ مغربی تہذیب میں پیغمبر کی حیثیت وہ نہیں ہے، جو مسلمانوں کےنزدیک تمام انبیائےکرام کی ہی۔ مسلمانوں کےنزدیک کسی بھی پیغمبر کی تصویر بنانا، خواہ وہ نیک نیتی پر ہی مبنی کیوں نہ ہو ، جائز نہیں ہی۔ گزشتہ سوسال کےعرصےمیں ایسےمتعدد واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں، جب ہندوستان اور دنیا کےدیگر رسائل نےپیغمبر اسلام کی تصویر بنانےکی جسارت کی، اس پر مسلمانوں نےہمیشہ احتجاج کیا اور وہ تصانیف اور رسائل و جرائد ضبط کرلئےگئے، جن میں ایسی خیالی تصاویر شائع کی گئیں۔ جہاں تک کسی مذہبی شخصیت کےبارےمیں جس کو دنیا کےایک ارب بیس کروڑ مسلمان انتہائی عزت و توقیر کا درجہ دیتےہوں، ان کےبارےمیں کارٹونوں کی اشاعت ایک ایسا فعل ہی، جس کو اگر دو تہذیبوں کےدرمیان فساد کرانےکی سازش نہ بھی سمجھا جائےتو یقینا اسےاخبار کےایڈیٹر، کارٹونسٹ اور اخبار کےدیگر کارکنوں کی بیوقوفی قرار دیا جا سکتا ہی۔ اصل مسئلہ یہ ہےکہ گزشتہ پانچ سال کی امریکی پالیسیوں کی وجہ سےمغربی تہذیب اور اسلام کےدرمیان جو تضاد دنیا کےسامنےآرہا ہی، مغرب کےدانش ور ، ذرائع ابلاغ کےماہرین اور سیاست دان، جن میں مغرب کےحکمران بھی شامل ہیں، اس کو سمجھنےمیں ناکام رہےہیں، اگرچہ خود امریکہ نےکمیونزم کےخلاف اپنی پراپیگنڈہ مہم کو کامیاب کرنےکےلئےبیسویں صدی میں مسلمانوں اور اسلام کو استعمال کرنےکا فیصلہ کیا تھا اور مسلمانوں کو اس بنیاد پر اپنا فطری اتحادی قرار دیا تھا کہ کمیونسٹ نظریےمیں خدا، پیغمبروں اور مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، بلکہ وہ مذہب سےانکار کرتےہیں اور دہریےسمجھتےجاتےہیں۔ اس تمام عرصےمیں امریکہ خود مغربی بلاک کےلیڈر کےطور پر بعض اسلامی اداروں ، تنظیموں اور سکالروں کو اپنےمقاصد کےحصول کےلئےاستعمال کرتا رہا ہی۔ موجودہ مسئلہ گزشتہ پانچ سال کی پیداوار ہی، جب امریکی پالیسیوں کی وجہ سےایسا تاثر قائم ہوا کہ جھگڑا امریکہ اور کچھ انتہا پسند مسلمان تنظیموں کا نہیں ، بلکہ پوری اسلامی دنیا اور مغربی تہذیب کےدرمیان جنگ جاری رہی۔

 

Go to Page:

*    *    *

tohin-e-risalat, sher angaiz mawad ki ashat, izhar ki azadi ya sher angezi, panja-e-yahood or europe, yahudioN ki sharartain, sazish ke muharrikat, maghrib ki islam mukhalifat, holocaust ka inkar, denark ka khaka, tahziboN ka tasadam, salibi jangoN ka naya silsila, shatim rasool ki saza or muafi, denmark ka boycott, jang, war, pyena round table conference, salahud din ayyubi, talash-e-aman, naqli qurran ki taqseem, pur tashaddud ahtajaj ke muashi muzimmarat, fikri pasmandgi ka shikar europian media

 

Download the PDF version for Offline Reading.(Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is needed for view and read these Digital PDF E-Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)