|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
ڈنمارک کا بائیکاٹ ......
اس نظریاتی بُعد کےباوجود دونوں
اخبارات نےدوسروں کےعقائد کےاحترام پر زور دیا اور اس حوالےسےطویل مضامین بھی شائع
کئی۔ برطانوی میڈیا کو دنیا بھرمیں جرات مند بلکہ جارحانہ اوصاف کا حامل خیال کیا
جاتا ہی، لیکن کیونکہ وہ قانوناً پابند تھا کہ متنازعہ بیانات یا خاکوں کی اشاعت
سےمکمل گریز کری، لہٰذا وہ دعویٰ کر سکتا ہےکہ اس نےمسلمانوں کےجذبات کا احترام کیا
اور برطانوی مسلمانوں کا لگائو بھی برطانیہ کےساتھ بڑھ گیا۔ دنیا بھر کےمسلمانوں
نےجب ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا تو ڈنمارک کےوزیراعظم کو گھبراہٹ کےباعث
پسینہ آگیا۔ ”تجارت ان کا خدا ہی“۔ لہٰذا ہم کہہ سکتےہیں کہ وہ اسی زبان کو
سمجھتےہیں، جو مسلمان یہ سمجھتےہیں کہ انتقام پرُ تشدد کارروائیوں میں مضمر ہی، وہ
غلطی پر ہیں۔ تشدد بذات خود غلط چیز ہی، جس کےبےبہا نقصانات ہیں، جبکہ ڈنمارک کی
مصنوعات کا بائیکاٹ حد درجہ نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہی۔ ڈنمارک کےمکھن، پنیر یا
دیگر اشیاءسےدور رہ کر بھی زندگی گزاری جا سکتی ہی۔ یہ ”یہ آپ کا شکریہ“ کہنےکا
بہترین انداز ہی۔ ڈنمارک کےوزیر اعظم جوابات کی تلاش میں ہیں، لیکن درست جواب حاصل
کرنےکےلئےضروری ہےکہ آپ درست سوال کریں۔ ڈنمارک کےوزیر اعظم کےلئےایک تجویز ہی۔
”ڈنمارک نےاپنےدشمن بنائی، ان پر فکر مند نہ ہوں۔ صرف ان دوستوں کےبارےمیں فکر مند
ہوں، جو ڈنمارک”گنوا بیٹھا ہی“۔
(بشکریہ :”خلیج ٹائمز“......ترجمہ :
شفیق الرحمن میاں)۔
|