|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
عظمت دوجہاں محمد اور انسانی حقوق
کسی دوسرےانسان کےحقوق کو عزت کی نگاہ
سےدیکھنےکا مطلب یہ ہےکہ اس کی قدر و قیمت اس کےانسانی اوصاف کی بناءپر ہونی
چاہیےنہ کہ اس کی شخصیت کی بناءپر ‘ اس میں ظاہری حد بندیوں‘ اختلافات اور نظریاتی
کشمکش کی عمل داری نہیں ہونی چاہیی۔ حقوق انسانی کےعلم برداروں کی یہی دلیل برملا
تقاضا کرتی ہےکہ نبی اکرم جو بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ کےبعد دنیا کےسب سےبلند ‘
اعلیٰ اور بہترین ہستی ہیں اور آپ کےانسان کامل اور سب سےبہترین انسان ہونےپر دنیا
کا اجماع اور اتفاق ہےتو پھر وہ کونسی بات ہےجو مخالفین اور اسلام دشمنوں کو آپ کی
توہین پر آمادہ کرتی ہی؟ اور کیا ایسےبدبخت آزادی صحافت اور اس قسم کےدیگر نعروں
کےعلم بردار اشخاص کسی قسم کی رعایت کےمستحق ہوسکتےہیں؟ ظاہر ہےکسی کا استحقاق
ملحوظ خاطر نہ رکھنےوالوںکا نہ کوئی استحقاق ہوسکتا ہےاور نہ ہی کوئی حق....
ایسےافراد ملعون ہوتےہیں اور انسانیت کےنام پر دھبہ۔
حب رسول اور عشق رسول کےذیل میں جوش ‘ غیرت اور محبت کےحوالےسےذات رسالت مآب کی عزت
و ناموس کی حرمت و حفاظت کےلیےآج کی امت مسلمہ کو اقوام متحدہ‘ کامن ویلتھ اور غیر
جانبدار ممالک کی تحریک جیسےعالمی اداروں میں توہین رسالت مآب کےخلاف قرارداد منظور
کرانےسےکم کسی چیز پر ہرگز راضی نہیں ہونا چاہیےاور واضح کیا جائےکہ اس قسم کی
گھنائونی اور قبیح حرکت کو عالم اسلام اپنےخلاف جنگ تصور کرےگا‘ عظمت و رفعت اور
اسلامی تعلیمات کےفروغ کےذیل میں ہوش کےحوالےسےحکمت و موعظت حسنہ کی روشنی میں
تحقیق و تبلیغ کےلیےاعلیٰ تحقیقی ادارےبرائےسیرت و ادب اسلامی وغیرہ تشکیل دینا
چاہئیں ۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ سیرت مطہرہ علی صاحبہا التحیة والسلام کےفروغ اور
اشاعت کےلیےمسلمانوں کا ایک بین الاقوامی سطح کا ادارہ قائم کیا جائی۔ یہ ادارہ
براہ راست او آئی سی کی نگرانی میں کام کرے۔علاوہ ازیں جملہ مسلم ممالک اور مسلم
اقلیتیں بھی اپنےاپنےممالک میں عظمت و تحفظ ناموس رسالت کا کام کریں اور حسب ذیل
اغراض و مقاصد کو سامنےرکھیں۔
٭ حضورختم المرسلین و افضل النبیین محمد کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ پیش کرنا جن کی
بدولت دنیا کو ظلمت سےنجات ملی اور ہدایت کی روشنی نصیب ہوئی۔
٭ عہد جدید کےانسان کی مدد کرنا تاکہ وہ اسوہ حسنہ کی روشنی میں اپنےکردار و سیرت
کی تشکیل کرسکےاور عہد حاضر کےمسائل کا حل تلاش کر سکی۔
٭ دانشوروں اور محققین میں اسلام کی روح بیدار کرنا تاکہ وہ آنحضرت کےابدی پیغام کو
نہایت مو ¿ثر اور مناسب طور سےدنیا میں پھیلا سکیں۔
٭ آنحضرت کی عطاکردہ عالم گیر آفاقی قدروں مثلاً اخوت ‘عدل اور احسان کو مدنظر
رکھتےہوئےآپ کی سوانح اور سیرت کی تعلیم و تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا۔
٭ اسلام اور پیغمبر اسلام کےبارےمیں لاعلمی پر مبنی غلط فہمیوں اور تعصّبات کو دور
کرنےکےلیےمناسب و مو ¿ثر طریق کا ر وضع کرنا۔
اس جگہ اس بات کو بھی سمجھ لیا جائےکہ عبادات کی ادائیگی حقوق اللہ کےحوالےسےہر
انسان کا اپنےخالق سےذاتی معاملہ ہےجس میں کمی اللہ رب العزت کےہاں قابل مواخذہ
ہونےمیں کوئی کلام نہیں لیکن اللہ کی رحمت ہر شئےپر حاوی ہےہم میں سےہر ایک کو دعا
کرنی چاہیےکہ وہ ہماری لغزش اور کوتاہی کو اپنی رحمت اور فضل سےمعاف فرما دےاور
یقینا یہ اس کی رحمت سےبعید نہیں ہے۔ہمیں اپنےحق میں اللہ سےعدل و انصاف سےزیادہ اس
کےفضل و عنایت کی تمنا اور آرزو کرتےرہنا چاہیی۔
لیکن معاملات یعنی حقوق العباد میں جان بوجھ کر کوتاہی بہرطور اللہ کےقول کےمطابق
ناقابل معافی عمل ہے۔ ہاں جب تک کہ فریق متاثرہ خود معاف نہ کر دےبےشمار احادیث میں
باہمی معاملات میں کمی و کوتاہی کو دور کرنےپر زور دیا گیا ہی۔ معاملات میں کجی کو
ناپسندیدہ عمل گردانتےہوئےاس پر سخت پکڑ اور وعید بھی سنائی گئی ہی۔ ہر مسلمان
دوسرےمسلمان کا بھائی ہےاس کی عزت اور اس کےجان و مال کا تحفظ اس کا دینی فریضہ
ہےاس کےدکھ درد میں شریک ہونا اس کےلیےایمان کا بنیادی تقاضہ ہی۔ مسلمانوں نےان
تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر عالم انسان کو ایک بہترین اسلامی معاشرہ سےآشنا کیا۔ ہمیں
آج بھی ان تعلیمات پر پہلےسےکہیں زیادہ عمل کی ضرورت ہی۔
|