|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
عالم اسلام سراپا احتجاج
چند روز تنازعہ کو ٹھنڈا کرنےکیلئےڈنمارک کےوزیراعظم نےمسلمان سفیروں کےسامنےاس معاملےپر اپنی پوزیشن واضح کرنےکی کوشش کی تھی۔
اسلامی ممالک میں شدید احتجاج اور مظاہری‘ امریکہ وبرطانیہ کی طرف سےمذمت:
برطانوی وزیرخارجہ جیک سڑا نےپیغمبراسلام کےگستاخانہ خاکوں کو دوبارہ شائع کرنےکےفیصلےپر تنقید کی اور کہا کہ
آزادی اظہار رائےکی سب قدر کرتےہیں‘ لیکن دانستہ اشتعال کی کوشش غلط ہےاور دوبارہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت غیرضروری تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نےگستاخاکوں پر اپنا ردعمل کا اظہار کرتےہوئےکہا کہ اس طرح مذہبی اور لسانی منافرت کو ہوا دینا قطعی ناقابل قبول ہی۔ مسلم ممالک میں ہر جمعہ کی نماز کےبعد پیغمبراسلام کےبارےمیں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےخلاف احتجاج کیا جا رہا ہی۔ کئی ممالک میں مظاہرےہوئےہیں اور مذہبی اور سیاسی رہنمائوں نےپہلےڈنمارک اور پھر یورپ کےکچھ ممالک کےاخباروں میں ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےخلاف شدید مذمت کی ہی۔ پاکستان سمیت کئی ملکوں میں مظاہرین نےاحتجاجی بینرز اٹھا رکھےتھی۔ جن پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےخلاف غم وغصےکا اظہار تھا۔ انڈونیشیا کےدارالحکومت جکارتہ سےملنےوالی اطلاعات کےمطابق مظاہرین کچھ دیر کیلئےڈنمارک سےسفارتخانےمیں گھس گئی۔
دریں اثنا ڈنمارک کےوزیراعظم اینڈرسن فوگ نےکوپن ہیگن میں اسلامی ممالک کےسفیروں سےملاقات کی ہےتاکہ وہاں پیغمبراسلام کےگستاخانہ خاکےشائع ہونےکےبعد مسلم دنیا میں جو غم وغصہ جاری ہےاس کو ختم کیا جا سکی۔ انہوں نےکہا کہ مسئلےکی اصل وجہ ثقافتی اور سماجی اختلافات ہو سکتےہیں۔انہوں نےایک عربی ٹی وی پر
آ کر ایک مرتبہ پھر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سےمسلمانوں کی دل
آزادی پر معذرت کی ہےتاہم انہوں نےکہا کہ ان کی حکومت ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی ذمہ دار نہیں۔ ادھر فرانس کےوزیرداخلہ نکولس سر نےفرانسیسی اخبار کی طرف سےپیغمبر اسلام کےبارےمیں متنازعہ گستاخانہ خاکوں کو دوبارہ شائع کرنےپر حیرت کا اظہار کیا‘ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تنقید کا حق جمہوریت کا لازمی جزو ہےاور اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ فرانس اور اردن میں ان اخباروں کےایڈیٹر مستعفی ہو گئےجنہوں نےان متنازع گستاخانہ خاکےچھاپےتھی۔ اردن میں ایک روزنامہ ایشیا نےتین متنازعہ گستاخانہ خاکےیہ کہہ کر چھاپےکہ مسلمانوں کو پتہ ہونا چاہیےکہ وہ کس چیز کےخلاف احتجاج کر رہےہیں۔ اخبار کےایڈیٹر نےدنیابھر کےمسلمانوں سےاپیل کی ہےکہ وہ گستاخانہ خاکوں کےمعاملےپر ردعمل کا اظہار کرتےہوئےذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ اخبار ممالک نےایڈیٹر کو چند گھنٹوں بعد ہی ملازمت سےنکال دیا گیا۔ ڈنمارک کی حکومت نےسعودی عرب اور شام میں اپنےسفیروں کو واپس کوپن ہیگن میں بلالیا ہےتاکہ ان سےپیغمبراسلام کےگستاخانہ خاکوں سےپیدا ہونےوالی صورت حال پر غور کیا جاسکی۔ ڈنمارک کی کمپنیوں کو مسلمانوں کےبائیکاٹ کی وجہ سےنقصان ہونا شروع ہو گیا ہی۔ ڈنمارک کی ڈیری فرم‘ ارلہ نےاعلان کیا تھا کہ اس نےایک سو پچیس ملازموں کو برخاست کرنےکا فیصلہ کیا ہےکیونکہ گاہک کم ہونےکی وجہ سےان کی ضرورت نہیں رہی ہی۔ یورپین ٹریڈ کمشنر پیٹرمینڈلسن نےکہا کہ جن اخباروں نےان گستاخانہ خاکوں کو دوبارہ شائع کیا ہی۔ انہوں نےبھڑکتی ہوئی
آگ پر تیل چھڑکنےکا کام کیا ہی۔
ملائیشیا کےوزیراعظم عبداللہ بداوی نےپیغمبراسلام کی توہین پر مبنی گستاخانہ
خاکےچھاپنےپر ملائیشیا کےایک اخبا رکی بندش کا حکم جاری کیا تھا۔ ایک ڈینش اخبار
میں ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےبعد پوری مسلم امہ میں زبردست احتجاج ہوا ہےاور
احتجاج کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہی۔ افغانستان میں ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر
ہونےوالےپرتشدد احتجاجی مظاہروں میں درجن بھر افراد ہلاک ہو چکےہیں۔ اپنےایک خطاب
کےدوران عبداللہ بداوی نےکہا: ”اسلام اور مغربی دنیا میں ایک دوسرےکی کردارکشی ترک
کر کےانتہاپسندی کی روک تھام اور اعتدال پسندی کی حوصلہ افزائی کیلئےاقدامات
کرنےچاہیں۔ وہ سمجھتےہیں کہ اسامہ بن لادن اسلام اور اس کےپیروکاروں کا ترجمان ہی۔
انہوں نےکہا کہ یہ ایک ناقابل تردید امر ہےکہ مغربی معاشروں میں اسلام اور مسلمانوں
کےخلاف وسیع پیمانےپر زہرافشانی کی جاتی ہے۔
|