|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
عالم اسلام سراپا احتجاج
لیکن مسلمانوں کو اپنےتئیں عیسائیوں‘ یہودیوں اور مغربی دنیا کےبارےمیں مذمت سےگریز کرنا چاہیی۔ یہاں یہ یاد رہےکہ ملائیشیا اسلامی ممالک کی تنظیم او
آئی سی کا موجودہ سربراہ ہی۔“
یمن کےایک اخبار کےمطابق اس کےمدیر محمد الاسدی کو پیغمبراسلام کےتوہین
آمیز گستاخانہ خاکوں کےکچھ حصےشائع کرنےپر گرفتار کر لیا گیا ہی۔ چند روز قبل یمن ابزرورکالائسنس اس وقت معطل کر دیا گیا تھا جب اس میں اداریےکےساتھ متنازعہ گستاخانہ خاکےکےکچھ مبہم حصےچھاپ کر اس بات پر زور دیا گیا تھاکہ
آزادی صحافت او رذمہ داری کےموضوع پر بحث کروائی جانی چاہیی۔ گرفتار ہونےوالےمدیر کےوکیل کو حکام کی جانب سےبتایا گیا ہےکہ گرفتاری ان کی حفاظت کےپیش نظر کی گئی ہےتاہم ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہی۔ اخبار کی انٹرنیٹ پر اشاعت باقاعدہ طور پر بند نہیں کی گئی ہےاور اس وقت یہ اخبار انٹرنیٹ کےذریعےشائع ہو رہاہی۔ اخبار پر پابندی اور مدیر کی گرفتاری کا فیصلہ یمنی وزیراعظم کےدفترکی ہدایت پر کیا گیا ہی۔ یمن کےدو اخباروں ’الرائےالعام‘ اور ’الحریہ‘ کےلائسنس بھی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےباعث منسوخ کر دیئےگئی۔ اطلاعات کےمطابق دیگر ہفت روزہ جرائد کےمدیران بھی اسی الزام کےتحت حراست میں ہیں اور ان پر مقدمات چلائےجائیں گی۔ ان جرائد کےلائسنس بھی منسوخ کر دیئےگئےہیں او رمقدمات میں جرم ثابت ہونےکی صورت میں انہیں توہین رسالت کےجرم میں پانچ سال تک سزا ہو سکتی ہی۔ مسلمانوں کی طرف سےساری دنیا میں احتجاجی جلسےجلوسوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہی۔ اب دیکھنا یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ کےآخری رسول محمد مصطفی کی نبوت ورسالت پر ایمان لانےاور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کےساتھ
آپ کی رسالت کا اقدار کرنےوالےمتحد ہو کر اسلام دشمن طاقتوں کےمقابلےمیں کونسا لائحہ عمل اختیار کرتےہیں کہ
آئندہ کسی بھی فرد کو بھی یہ جرات نہ ہو کہ وہ اسلام کےخلاف شیطانی حرکات کا ارتکاب کرنےکی کوشش کری۔
پاکستان کےصدر جنرل پرویز مشرف نےڈنمارک‘ ناورےاور یورپی ممالک کےاخبارات میں پیغمبراسلام کےبارےمیں چھپنےوالےکارٹونوں کی اشاعت کی شدید مذمت کی ہےاور کہا ہےکہ اس سےتہذیبوں کےدرمیان تصادم کو مزید تقویت ملےگی۔
اسلام آباد میں نجی ٹی وی چینلز کےنیوز ڈائریکٹرز اور اخباروں کےکچھ ایڈیٹرز
سےبات کرتےہوئےپاکستانی صدر نےکہا کہ وہ ان ”کیری کیچرز‘ کی اشاعت پر پرزور مذمت
کرتےہیں اور انہیں اس بات کا افسوس ہےکہ ان ”کیری کیچرز“ کو بعض یورپی اخبارات
دوبارہ شائع کر رہےہیں۔ انہوں نےکہا کہ ان ”کیری کیچرز“ کو چھپانےوالوں نےاربوں
مسلمانوں کےاحساسات کا خیال کیےبغیر یہ ”کیری کیچرز“ چھاپےہیں اور یہ آزادی صحافت
کا بالکل غلط استعمال ہی۔
|