|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یورپ کی ذہنی خباثت اور
اُمت مسلمہ کی ذمہ داری
ڈنمارک کےایک اخبار میں توہین
آمیز گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےبعد اگر اخبا رکا ایڈیٹر متعلقہ کارٹونسٹ اور ڈینش حکومت مسلمانوں سےمعذرت کر لیتی تو عالم اسلام اسےفرد واحد کی غلطی یا احمقانہ غیراخلاقی حرکت قرار دےکر نظرانداز کر دیتا اور کسی کو علم نہ ہوتا کہ یہ گستاخانہ خانہ متعلقہ اخبار نےمحض غلطی سےشائع نہیں کیےبلکہ کئی ماہ قبل کارٹونسٹوں کو باضابطہ دعوت دی گئی اور مقابلےمیں بیہودہ‘ گھٹیا اور دلآزار گستاخانہ خاکےمنتخب کر کےاخبار میں شائع کیےگئی۔ ڈنمارک کےاخبار میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مقامی مسلمان احتجاج کر ہی رہےتھےکہ ناروےکےاخبار نےانہیں شائع کر کےاپنےپچاس ہزار سےزائد مسلمان شہریوں کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ ہونا تو یہ چاہیےتھا کہ مسلمانوں کےاحتجاج کےبعد یہ سلسلہ رک جاتا مگر ایک طرف تو فرانس‘ اٹلی‘ ہالینڈ‘
آئرلینڈ‘ سپین اور دیگر کئی ممالک کےاخبارات نےان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےساتھ اسےآزادی اظہار کا مسئلہ بنا کر پیش کیا ‘دوسری طرف مختلف صحافتی تنظیموں نےکارٹونسٹ اور اخبار کےدفاع میں بیان بازی شروع کر دی جو یہ ثابت کرنےکی کوشش تھی کہ یورپی ذرائع ابلاغ‘ دانشور اور اخبار نویس اسلام دشمنی کےمسئلہ پر متحد ہیں اور انہیں مسلمانوں کےجذبات واحساسات کی کوئی پروا نہیں۔
مسلمانوں کےعقائد اور رسول اللہ سےوالہانہ عقیدت ومحبت کا ہر پڑھےلکھےیہودی اور عیسائی دانشور اور صحافی کو علم ہےاور وہ یہ بھی جانتےہیں کہ ناموس رسالت پر مال ہی نہیں اولاد اور جان قربان کرنا ہر مسلمان سعادت سمجھتا ہی۔ اس بنا پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت ہو یا
آزادی اظہار کےنام پر اس کا دفاع یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی نظر
آتی ہےجس کا مقصد مسلمانوں کےردعمل کےذریعےان کےجذبہ ایمان کو پرکھنا اور صدر بش کےجاری کردہ کروسیڈ کی کامیابی کا اندازہ لگانا
آتا ہےہر مسلمان اس حقیقت سےواقف ہےکہ دنیا میں جہاں بھی رسول اللہ کی توہین اور مسلمانوں کی دل
آزاری کا کوئی واقعہ ہو امریکہ ویورپ کےحکمران سیاستدان‘ ذرائع ابلاغ اور دانشور ان واقعات کےمرتکب افراد کی حوصلہ افزائی کرتےہیں۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین اسی لیےامریکہ او ریورپ کی
آنکھ کا تارہ ہیں اور اس بنا پر ایک گھٹیا قسم کی کتاب کےمصنف سلمان رشدی کو وائٹ ہائوس میں خوش
آمدید کہا جاتا ہی۔
امریکہ ویورپ کی اپنی تنگ نظری کا یہ عالم ہےکہ ایرانی صدر احمد نژاد کےاس بیان
پر کہ یہودیوں کےخلاف نازی مظالم میں افسانہ طرازی کی گئی ہےاب تک تنقید کی جا رہی
ہےانہیں سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر گردن زنی قرار دیا جا رہا ہےاور جرمنی کی
چانسلر اسرائیل کی ہاں میں ہاں ملانےمیں مصروف ہیں۔ فرانس جیسےآزادی اظہار اور
انسانی حقوق کےچیمپئن ملک میں کوئی اخبار نویس یا مصنف یہ تک نہیں لکھ سکتا کہ
یہودیوں کےخلاف ہٹلر کےاقدامات اس حد تک سنگین نہیں تھےجتنا پرواپیگنڈا کیا جاتا
ہی۔ مسلمانوں کےعالمگیر احتجاج کو یورپی کمیشن او ربعض یورپی ممالک نےمسترد
کرتےہوئےڈنمارک سےاظہار یکجہتی کیا ہےاور دیگر ممالک سمیت امریکی اخبار فلاڈلفیا
انگار کراڈ نےبھی خاکےشائع کر دیئےہیں‘ جبکہ اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل کوفی عنان
ابھی تک مسلمانوں کو مشورہ دےرہےہیں کہ وہ تشدد سےگریز کریں‘ برطانیہ کےوزیراعظم
ٹونی بلیئر اور فرانس کےصدر یاک شیراک نےفون کر کےڈنمارک کےصدر سےاظہاریکجہتی کیا
جہاں تک امریکہ ویورپ کا تعلق ہےان کےبارےمیںتو مسلمانوں کی یہ غلط فہمی ختم ہو
جانی چاہیےکہ وہ مسلمانوں کےجذبات واحساسات اور عقائد وشعائر کا احترام کریں گی۔
9/11 کےبعد وہاں مسلمانوں کےحوالےسےجو سوچ پیدا ہوئی۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اس
کا مظہر ہی۔ بش کی اسلام دشمن پالیسی اسی لیےآگےبڑھ رہی ہےکہ قوت کفر متحد ہےاور
مسلمانوں کےروح وبدن سےعشق مصطفی اور جذبہ جہاد کو دیس نکالا دینےکیلئےہر ممکن کوشش
کر رہےہیں۔ افسوس یہ ہےکہ 56 اسلامی ممالک اور ان کی علاقائی عالمی اور مقامی
تنظیمیں بھی زبانی جمع خرچ سےآگےبڑھنےکیلئےتیار نہیں۔ رسول اللہ کی اس اہانت پر
ایران کےسوا کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ڈنمارک سےتعلقات معطل کرنےکےعلاوہ
ڈینش مصنوعات کےبائیکاٹ کا موثر فیصلہ کری۔ سعودی عرب‘ لیبیا اور کویت کی مارکیٹوں
میں ڈینش مصنوعات کا بائیکاٹ جاری ہےالبتہ عوام نےہر جگہ اپنےجذبات کا اظہار کیا
ہےاور اس سلسلےمیں مقبوضہ فلسطین کےعلاوہ امریکہ کےزیرقبضہ افغانستان‘ عراق
وپاکستان کےعوام بھی کسی سےپیچھےنہیں رہی۔
|