|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
ناموس رسالت کی جنگ شروع!
دنیا کی تمام زبانوں میں اس کےتراجم ہوچکےہیں۔ جب بھی ان میں سےکسی کا ضمیر جاگےگا ان کےدل میں سچائی زور کرےگی اور وہ انصاف پر مجبور ہوں گےتو یہی کچھ کریں گی۔ امریکی اور مغربی عوام دھڑا دھڑ مسلمان ہو رہےہیں۔ وہاں بھی حضور± کی گستاخی پر احتجاج ہونا چاہیےوہ جو غیر مسلم ہیں وہ بھی احتجاج کریں۔ انہوں نےعراق پر حملے کےخلاف بھی احتجاج کیا ہی۔ مگر امریکی اور یورپی حکام اور متعصب میڈیا کےلوگ مسلمانوں سےاس قدر خائف ہیں کہ وہ ان کےخلاف اس طرح کی گندی حرکت کرتےرہتےہیں۔ وہ کمیونزم سےاتنا نہیں ڈرتےجتنا اسلام سےڈرتےہیں۔ کمیونسٹ بھی اپنےآپ کو نظریاتی کہتےاور سمجھتےتھی۔ چین اور روس کےلیےکوئی فیصلہ کرنےکا بھی موقعہ ہےپھر وقت گزر جائےگا۔ کمیونزم سےزیادہ خطرناک چیز ان کےلیےمساوات محمدی ہی۔ ان کےلیےاسلامی سوشلزم کی اصطلاح بھی خوفناک تھی۔ وہ مسلمانوں سےڈرتےہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں
آتا کہ کوئی انسان خودکش حملہ بھی کر سکتا ہی۔ بزدل لوگ خودکشی تو کر سکتےہیں مگر خودکش حملےکا تصور نہیں کرسکتی۔ ان کےلیےاپنی جان لینا
آسان ہےاپنی جان دینا بہت مشکل ہی۔ قربانی کا یہ جذبہ عشق رسول سےپیداہوتا ہی۔ یہی وہ لمحہ ہےجب عقیدہ اور عقیدت یکجا ہوجاتےہیں اور پھر زندگی کےمیدان میں وہ یکتا بھی ہوجاتےہیں۔ وہ موت کو قبول کرتےہیں کہ موت کوزندگی سےافضل سمجھنےلگےہیں۔ اس راہ میںمرنےوالوں کےلیےمسلمانوں نےشہید کا لفظ ایجاد کیاہی۔ شہید زندہ ہوتا ہے وہ گواہ ہوتا ہےموت کےلیےامر ہونےکی گواہی اس کےپاس ہوتی ہے جبھی تو جنرل حمید گل نےاعلانیہ کہا ہےکہ میں بھی مستقبل کا خود کش حملہ
آور ہوں۔ ہر مسلمان خودکش حملہ
آور بن گیا تو امریکی اور مغربی کیا کریںگی۔
سنو لوگو اب یہ جنگ ناموس رسالت کی جنگ ہی۔ یہ معرکہ عشق ہی۔ عشق رسول کا امتحان ہی۔ مسلمان اس امتحان میں سرخرو ہوگئےتو پھر وہ دنیا پر غالب
آجائیں گی۔ مواحد حسین نےکہا کہ ....”یہ کارٹون مسلمانوں کےلیےایک ٹیسٹ کیس ہیں۔ یہ واقعہ مسلم امہ کو یکجا کرسکتا ہی۔ تمام مکتبہ فکر کےمسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں یہ عشق رسول کا پلیٹ فارم ہی۔ .N.Aکی محفل میں ہمایوں احسان نےولولہ انگیز بات کی‘ بات قیوم نظامی نےشروع کی تھی۔ ہمایوں صاحب نےکہا کہ ”یہ وقت جان بچانےکا نہیں‘ ہماری جان بچ بھی گئی تو پھر ہمیں بحیثیت قوم بچنےکا حق نہیں۔“
رہ رہ کر مجھےخیال
آتا ہےکہ یہ جنگ عظیم کی تیاری ہی۔ انہیں پتہ ہےکہ مسلمانوں کےپاس عشق رسول کی جو
آگ ہےوہ ہمیں بھسم کرنےکےلیےکافی ہی۔ مسلمانوں کےدشمن دیکھنا چاہتےہیں کہ مسلمان اس بےغیرتی کو کس حد تک برداشت کر سکتےہیں انہیں مسلمان حکمرانوں سےکوئی خطرہ نہیں کہ وہ ان کےغلام ہیں مگر وہ غلامان محمد یعنی مسلمانوں عوام کےغیظ و غضب کو
آزمانا چاہتےہیں۔ انہوں نےافغانستان اور عراق میں یہ تجربہ کرکےدیکھ لیا ہی۔ ان کےلیےہزیمت ہی ہزیمت ہی۔ یہاں امریکہ اور یورپ ذلیل و خوار ہونےکےعلاوہ کچھ حاصل نہیں کرسکی۔وہ ایران میں بھی اس سےزیادہ شکست اور شکست خورد گی کا شکار ہوں گی۔ انشاءاللہ۔
|