|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیی؟
ان کارٹونوں کے نیچےیہ تحریر درج تھی کہ مسلمان ہمارےدرمیان رہتےہیں لیکن مغربی اقدار کو قبول نہیں کر رہے‘جبکہ ہم
آزادی¿ تحریر کےسلسلےمیں اس
آزادی کو ضروری سمجھتےہیں کہ کسی مذہب کےمتعلق جو بھی چاہیں لکھ سکیں۔ اس تمام کارروائی اور تحریر سےیہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ یہ کارٹون اچانک شائع نہیں ہوگئےبلکہ ان کےپیچھےکچھ محرکات تھی‘جب ڈنمارک کےمسلمانوں نےاس کثیر الاشاعت اخبار کےخلاف احتجاج کیا تو ڈنمارک کےوزیراعظم نےجواباً یہ کہا کہ ہمارےملک میں پریس
آزاد ہے‘ اس لیےحکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ ناروےکےایک اخبار اور پھر فرانس کےبہت بڑےاخبار Frane Soirمیں بھی انہی کارٹونوں کو دوبارہ شائع کیا گیا۔ اس بار یہ تحریر درج تھی کہ ہم اپنےعوام کو یہ بتانا چاہتےہیں کہ مسلمان کن کارٹونوں پر اتنا احتجاج کر رہےہیں۔ اس کےبعد پورےفرانس بلکہ سارےیورپ میں مسلمان سراپا احتجاج بن گئی۔
فرانس کےاخبار نےتو فوراً ہی واپسی کا قدم اٹھا لیا اور اس نےاپنےاس ایڈیٹر کو جس نےیہ کارٹون مندرجہ بالا تحریر کےساتھ شائع کیےتھی‘ فارغ کر دیا۔ برطانیہ کےسیکرٹری خارجہ جیک سٹرا نےسات اکتوبر کےواقعات ‘ جو لندن میں ہوچکےتھے‘ ان کےپس منظر میں یہ ضروری سمجھا اور فوراس ہی بیان دیا کہ مسلمانوں کےجذبات کواس طرح بھڑکانا ڈنمارک کےاخبار کی زیادتی تھی۔ بل کلنٹن نےبھی جب وہ قطر پہنچےتو اسی قسم کا بیان دیا۔ اس عرصےمیں مشرق وسطیٰ کےمسلمانوں اور تاجر وں نےڈنمارک کی ان اشیاءکا بائیکاٹ کر دیا جو ان ملکوں سےدرآمد ہوتی تھیں۔ ڈنمارک کی چند بڑی کمپنیوں کو لاکھوں ڈالر کا ماہانہ نقصان ہوا تو اس پر ڈنمارک نےوزیراعظم نےمسلمانوں کےجذبات کو ٹھنڈا کرنےکےلیےمشروط قسم کا معذرت خواہانہ بیان دیا۔ ہم ان سب کےبیانات کو جنہوں نےکسی نہ کسی وقت غلطی کا اعتراف کرتےہوئےواپسی کا قدم اٹھایا ہی۔ ”دیر
آید درست آید“ کےمصداق درست ہی قرار دیتےہیں‘ لیکن اس بات کا ذکر ضروری ہےکہ ویٹی کن کےنمائندےنےبڑی تفصیل سےڈنمارک کےاخبار اور دیگر ایسےتمام اخبارات کی مذمت کی جو نبی کریم کی شان میں گستاخی کےمرتکب ہوئی۔
سب سےپہلےہم اس امر کا تجزیہ کرتےہیں کہ ڈنمارک کےاخبار کےایڈیٹر نےایسا کیوں کیا ؟ اور اس کا یہ موقف کہ اس کو یہ حق
آزادی تحریر کی بناءپر ملتا ہی‘ درست ہےیا نہیں۔ دکھائی یہ دیتا ہےکہ مغرب کو ابھی تک مسلمانوں کی سوچ اور ساخت کا ٹھیک طرح سےاندازہ نہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مسلمان نہ صرف ذہنی طور پر اسلام کی تعلیم سےمتاثر ہیں‘بلکہ ان کا دل عشق رسول سےلبریز ہےاور اس کی وجہ یہ ہےکہ اسلام کی تعلیم سیرت رسول کو سمجھنےاور اس پر عمل کیےبغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ مغرب یہ سمجھتا ہےکہ جس طرح مائوزےتنگ جو کمیونسٹ پارٹی کا لیڈر تھا اس کا پورے چین میں احترام تھا‘ مگر اب خود چینی لوگ اس پر تنقید کر رہےہیں یا جس طرح لینن اور دوسرےقائدین پر انگلی اٹھائی جا رہی ہی‘ اسی طرح محمد پر تنقید کیوں نہیں کی جاسکتی؟ اس کےلیےانہیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ رسول اللہ کی زندگی مسلمانوں کےلیےقابل تقلید نمونہ ہی‘جبکہ مائوزےتنگ اور دیگر اہم بین الاقوامی شخصیات کی شخصی زندگیاں ایسا عملی نمونہ نہیں۔ بلاشبہ یہ سب شخصیات کسی ایک خاص شعبےمیں اہم مقام رکھتی ہیں ‘لیکن رسول اکرم کی زندگی ہر لحاظ سےکامل ہی۔ اسی لیےانہیں انسان کامل کا لقب دیا جاتا ہی۔ بہرحال اس واقعہ سےمغرب کی
آنکھیں کھل گئی ہوں گی کہ باوجود مغربی ماحول میں رہنےکےوہاں کےمسلمان اپنےپیغمبر سےاسی طرح لگائو رکھتےہیں‘ جیسےان کی مذہبی تعلیمات میں سمجھا جاتا ہی۔
اب ہم آتےہیں ان کےاس مو¿قف کی جانب کہ کیا مغربی اخبارات کو یہ حق حاصل ہےکہ
وہ اپنےملک کی مروجہ اقدار کےمطابق کسی پر بھی تنقید کر سکتےہیں اور اسےوہ آزادی ‘
تحریر کا نام دیتےہیں۔ بلاشبہ آزادی‘تحریر انسانی حقوق کےچارٹر کا ایک حصہ ہےبلکہ
آزادی¿ فکر اور آزادی ¿ تحریر مسلم سوچ کےبھی بنیادی عنصر ہیں۔ ہم آزادی¿ تحریر
ارو فکر کو تسلیم کرتےہیں لیکن آزادی کا استعمال اسےدرست یا غلط بناتا ہےجب آزادی
کا مقصد کسی کےمذہبی جذبات کو مجروح کرنا ہو تو پھر آزادی کااستعمال ہر اعتبار
سےناجائز بن جاتا ہی۔ اگر آزادی کا یہ ناجائز استعمال اپنےسےکمزور کےخلاف ہو تو پھر
محض یہ ناجائز استعمال ہی نہیں رہ جاتا بلکہ یہ تشدد کےزمرےمیں آجاتا ہے‘ چونکہ
مسلمان یورپ میں اقلیت میں ہیں اور ان کی حیثیت کمزور ہی‘ اس لیےان کےپیغمبر
کےمتعلق تضحیک آمیز کارٹون بنانا نہ صرف آزادی¿ اظہار کا ناجائز استعمال ہی‘بلکہ
تشدد بھی ہی‘ جس کی ہر لحاظ سےمذمت ہونی چاہیی۔
|