|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیی؟
اب رہی یہ بات کہ اس صورت حال سےآج اور مستقبل میں کیسےنبٹا جائی؟ باوجود شدت جذبات کےمیں یہ بات ضرور کہوں گا کہ املاک کو نقصان پہنچانے‘ سفارت خانوں پہ حملےکرنےاور اپنی جانیں ضائع کرنےجیسی کارروائیوں سےاجتناب نہایت ضروری ہےتاکہ مغرب کےان قائدین کو جو تہذیبوں کا تصادم ناگزیر سمجھتےہیں‘ یہ کہنےکا موقع نہ مل سکےکہ مغرب اور اسلام اکٹھےنہیں رہ سکتی۔ بہترین طریقہ بائیکاٹ کا ہی۔ سفارت کاروں کو بلا کر اپنا مو¿قف بیان کرنےکا ہےاور ہر مسلم مملکت اپنےطور پر یہ فیصلہ بھی کر سکتی ہےکہ وہ اپنےسفیر کو واپس بلا لے‘ لیکن اس سےزیادہ ضروری ہےکہ تمام مسلمان ممالک ایک ایسی بین الاقوامی قانون اور فقہی سوچ کو ترتیب دلوانےکی کوشش کریں جو اقوام متحدہ کےذریعےبین الاقوامی کنونیشن کا حصہ ہے‘ جس کےمطابق سب ممالک مشترکہ طور پر پابند ہوں کہ وہ کسی مذہب کےبانی کےخلاف اشتعال انگیز تحریر یا گفتگو سےاجتناب کریں گی۔ اگر ایسا نہ ہوسکےتو اس مملکت کےخلاف ‘ جہاں اس قسم کی کارروائی ہوئی ہو‘ عدالتی کارروائی ہوسکی۔ مثال کےطور پر اگر انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزی ہو تو وہاں اقوام متحدہ کمیشن بھیج سکتی کہےاور مزید کارروائی کر سکتی ہے۔ اس قسم کا ایک مربوط کنونشن بنانےکےلیےاو
آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیی۔
|