توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
خاکوں کےخلاف مسلم اُمہ کےاجتماعی اقدامات
پائنا کےزیر اہتمام رائونڈ ٹیبل کانفرنس
خاکوں کا مکمل پس منظر اور ڈینش مسلمانوں کی داستان عزیمت اسلامی دنیا میں اٹھنےوالےطوفان کےپس منظر میں تجزیوں اور مشترکہ حکمت عملی پر مشتمل رپورٹ
تریب: الطاف حسن قریشی‘ محمد اقبال قریشی
پاکستان کےجملہ مکاتب فکر کےدانشوروں کو بلاکر پائنا کےسیکرٹری جنرل جناب الطاف حسن قریشی نےاس یلغار کےخلاف ایک فکری محاذ قائم کرنےکی دعوت دی ہی۔ میں یہاں قانون کےحوالےسےبات کروں گا۔ خوش قسمتی سےاس رائونڈ ٹیبل میں جناب ایس ایم ظفر جیسےبین الاقوامی ماہرِ قانون بطور صدر موجود ہیں۔ یورپ اور دنیا کےتمام آئین اور قوانین میں اظہارِ رائےاور
آزادی تحریر‘ اخلاق اور شرافت کی حدود کی پابند ہی۔ یہاں میں صرف یورپی یونین کےکنونشن (آئین) کا حوالہ دوں گا جس کےآرٹیکل ٠١ میں درج ہےکہ اظہارِ رائےکی
آزادی کا حق یورپ کےتمام رکن ممالک کےشہریوں کو حاصل ہی‘ لیکن یہ حق کسی کو بھی معاشرےکی اخلاقی اقدار‘ شہریوں کی عزت نفس اور ان کےبنیادی حقوق کو گزند پہنچانےکی اجازت نہیں دیتا۔ یورپی یونین کےہیومن رائٹس کی سپریم عدالت میں برطانیہ کےفلم ڈائریکٹر ونگرو نےاپنی ویڈیو فلم کی نمائش پر حکومت برطانیہ کی پابندی کےخلاف اپیل دائر کی۔ اس فلم میں یہ مناظر دکھائےگئےتھےکہ سولہویں صدی کی ایک عیسائی راہبہ سینٹ ٹریسا صلیب کےگرد ناچتےہوئےاپنا گریبان چاک کرلینےکےبعد اپنا عریاں سینہ لہو رنگ کرلیتی ہےاور اسی حالتِ وجد میں تصوراتی مسیح کےبوسےلیتی جاتی ہی‘ جس پر چند لمحوں کےلیےمسیح کےلبوں کو ہلکی سی جنبش ہوتی ہی۔ برطانیہ کی سب سےبڑی عدالت ہائوس
آف لارڈز نےونگرو کی اس فلم کےمتعلق فیصلہ دیا کہ اگر ایسےمناظر عیسائی شہری دیکھ لیں‘ تو ان کےجذبات مشتعل ہونےکا اندیشہ ہی‘ اس لیےحکومتِ برطانیہ کی طرف سےاس فلم کی نمائش پر پابندی قانونی طور پر جائز ہی۔ اس فیصلےکو یورپی یونین کی سپریم عدالت نےاپنےآئین کےآرٹیکل ٠١ کےمطابق درست اور جائز قرار دیتےہوئےونگرو کی اپیل خارج کردی جس کےبعد یہ فیصلہ ڈنمارک اور یورپ کےتمام رکن ممالک پر لاگو ہوگیا ہی۔ اس پس منظر میں میری تجویز ہےکہ برطانیہ کےشہریوں کی جانب سےیورپین ہیومن رائٹس کی سپریم کورٹ میں پیغمبر اسلام کی توہین کا معاملہ ایک ٹیسٹ کیس کےطور پر اٹھایا جائی۔ اس سےدرخواست کی جائےکہ یورپی یونین کےآئینی
آرٹیکل ٠١ کی روسےوہ اپنےملکوں کےشہریوں کو
آزادی اظہار کےغلط استعمال سےروک دےجس سےوہاں کےاور دنیا کےمسلمانوں کےجذبات مشتعل اور مجروح ہوتےہیں۔ عدالت سےیہ بھی درخواست کی جائےکہ وہ توہین
آمیز خاکےتیار کرنےوالےمصوروں اور ان کی اشاعت کےذمےدار افراد کو قرار واقعی سزا دی۔ اس ضمن میں ہماری تنظیم ورلڈ ایسوسی ایشن
آف مسلم جیورسٹس نےیورپ کےممتاز قانون دانوں اور وہاں کےبا اثر شہریوں سےرابطہ کیا ہےجو ہمارےساتھ ہر قسم کےتعاون کےلیےتیار ہیں۔
جناب مواحد حسین شاہ‘ مشیر وزیراعلیٰ پنجاب:
پہلےتو میں یہ بتائوں گا کہ اصل مسئلہ ہےکیا۔ دوسرےیہ کہ ہمیں اس سلسلےمیں کیا اقدامات کرنا ہوں گی۔ یہ ایک مذہبی مسئلہ نہیں‘ بلکہ سیاسی مسئلہ ہی‘ یہ
آزادی اظہار کا نہیں بلکہ احترام کا مسئلہ ہی‘ دوسروں کےاعتقادات اور محسوسات کےاحترام کا۔
مغربی دنیا میں عام طور پر دوسروں کےاحساسات کا احترام کیا جاتا ہی۔ یہی وجہ ہےکہ وہاں کسی بھی مذہب پر حملےکو حقارت کی نگاہ سےدیکھا جاتا ہی۔ اس لحاظ سےموجودہ واقعہ مغربی ثقافت کا حصہ معلوم نہیں ہوتا‘ بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہےجس کےعملی جامہ پہنانےکےلیےڈنمارک کو
آلہ کار بنایا گیا۔
اس مذموم واقعےکےذمےداران اچھی طرح جانتےتھےکہ وہ کس قدر گھنائونی حرکت کرنےجارہےہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ پوری دنیا کےمسلمانوں کو چھیڑ رہےہیں۔
دوسرا اہم واقعہ یہ ہوا کہ ڈنمارک کےوزیراعظم نےمسلم سفارت کاروں کےوفد سےملنےسےانکار کردیا۔ یہ ویانا کنونشن کےسراسر منافی ہےکہ سفارتی وفد کو وزیراعظم سےملاقات سےروک دیا جائی۔ میں نےعالمی قانون (Interantional Law) پریکٹس کیا ہےاور میں یو۔ ایس سپریم کورٹ کا پہلا پاکستانی ممبر ہوں۔ میں نےآج تک نہیں سنا کہ میزبان ملک کےسربراہ سےملاقات کےخواہاں سفارت کاروں سےنہ ملا جائی۔ اس سےتکبر کا اظہار بھی ہوتا ہی۔
اس مذموم واقعےکا ایک اور اہم پہلو یہ ہےکہ یہ خاکے٠٣ ستمبر کو شائع ہوئےاور
پھر آزادی اظہار کا سہارا لےکر ٦ ممالک کےاخبارات نےایک ہی دن یہ خاکےشائع کرکےثابت
کردیا کہ اس معاملےمیں ان کا اتفاقِ رائےہوچکا تھا۔
|