توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
خاکوں کےخلاف مسلم اُمہ کےاجتماعی اقدامات
پائنا کےزیر اہتمام رائونڈ ٹیبل کانفرنس
خاکوں کا مکمل پس منظر اور ڈینش مسلمانوں کی داستان عزیمت اسلامی دنیا میں اٹھنےوالےطوفان کےپس منظر میں تجزیوں اور مشترکہ حکمت عملی پر مشتمل رپورٹ
تریب: الطاف حسن قریشی‘ محمد اقبال قریشی
میں آپ کی توجہ اس طرف دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارےمخصوص صحافتی حلقےمیں یہ بات کہی جارہی ہےکہ اگر مغرب کی طرف سےایسی گھنائونی حرکت سرزد ہو بھی گئی ہی‘ تو ہمیں اسےہوا دینےکےبجائےدبا دینا چاہیی۔ میں اس طرز استدلال کےجواب میں ترکی کی مثال دوں گا۔ ہمیں کہا جاتا ہےکہ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کرلیں‘ تو بڑےفائدےمیں رہیں گی‘ ترکی نےبھی تو اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ ہم سےیہ کہا جاتا ہےکہ اگر ہم عراق میں اپنی فوجیں بھیجیں‘ تو ہمیں بہت فائدہ ہوگا‘ ترکی نےاپنا ایک بریگیڈ کوریا کی جنگ میں بھیجا اور اس کے٠٠٠٣ فوجی مارےگئی۔ انقرہ کےقبرستان
آج بھی اتنی بڑی ہلاکت کی گواہی دےرہےہیں۔ ہمیں کہا جاتا ہےکہ جناب فوجی تعاون کا راستہ اپنا کر
آپ بڑےفائدےمیں رہیں گی‘ تو ترکی نیٹو کا ممبر ہی۔ ہمیں کہا جاتا ہےکہ اڈےدیں‘ تو ترکی نےاپنےہوائی اڈےدیی۔ ہمیں کہا جاتا ہےکہ قدامت پسندی ترک کردیں۔ اس کا جواب یہ ہےکہ ترکی نےایسا کیا‘ وہاں ایک لڑکی جس نےحجاب پہن کر الیکشن جیتا‘ اسےاٹھاکر پارلیمان سےباہر پھینک دیا گیا۔ ترکی نےاسرائیل کےساتھ مشترکہ فضائی مشقوں کےمعاہدےکیی‘ مگر ان تمام اقدامات کےصلےمیں اسےکیا ملا؟ کچھ بھی نہیں حتیٰ کہ وہ یورپی یونین میں بھی شامل نہیں ہوسکا۔ جب ترکی اتنا کچھ کرنےکےباوجود گھاٹےمیں رہا‘ تو بھلا ہم مغرب کی ہم نوائی سےکیا حاصل کرپائیں گی؟
جہاں تک ان خاکوں کا تعلق ہی‘ تو یہ ایک سوچا سمجھا اقدام ہےجس کےذریعےمسلمانوں کا مذاق اڑایا گیا کہ کرلو جو کرنا ہےاور ہمیں
آپ کو سبق سکھانا ہےکیونکہ مسلم کمیونٹی اب مغربی دنیا میں دو کروڑ ہو گئی ہی۔ جرمنی میں ٣ ملین‘ فرانس میں ٥ ملین جبکہ پورےیورپ میں دو کروڑ مسلمان
آباد ہیں۔ یہ مغرب کےلیےایک جمہوری خطرہ (Demorati Threat) ہےاور توہین
آمیز خاکےدراصل اس خطرےمیں کمی لانےکی ایک مذموم کوشش ہی۔
اس سےملتا جلتا ایک واقعہ ہالینڈ میں بھی ہوا تھا جب وہاں کےایک مصور نےپارلیمنٹ کی ایک دہریہ عورت کےساتھ مل کر بےہودہ فلم بنائی تھی۔ بعدازاں اس عورت کو ایک مسلمان نےمار ڈالا تھا۔
یہ نہ بھولیں کہ فرانس میں بھی تین ماہ پہلےجو فسادات ہوئی‘ ان میں بھی مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نےتہذیبی بغاوت کی تھی۔
آسٹریلیا کی سڈنی بیچ کےعلاقےمیں بھی مسلمانوں نےخونیں بغاوت کا علم بلند کیا تھا جس میں لبنانی مسلمانوں نےاہم کردار ادا کیا۔ یوں یہ معاملہ ہر جگہ بڑھ رہا ہی۔
دوسری طرف جب بھی اسلام کی بات ہوتی ہی‘ اسےدہشت گردی‘ بنیاد پرستی اور شدت پسندی کےتناظر میں دیکھا جاتا ہی۔ میں پوچھتا ہوں کہ دہشت گردی کا نشانہ کون بن رہا ہی؟ جہاں بھی نظر ڈالیں مسلمان ہی اس کا نشانہ بن رہےہیں۔
فلسطین کو دیکھیں‘ ابھی تک شہری علاقوں میں جنگی طیارےیوں بمباری کرتےہیں جیسےدورانِ جنگ کی جاتی ہی۔ چیچنیا میں روس کےفوجی مسلمان خواتین کی عصمت دری کرتےہیں اور اسےآلاتِ حرب میں شمار کرتےہیں۔ یہی صورت حال کشمیر میں ہی۔یورپ کے’دل کوسوو میں نہتےمسلمان بکریوں کی طرح ذبح کیےگئی۔ بوسنیا کا شہر پیرا پوجا اقوامِ متحدہ کی طرف سےایک بار محفوظ ترین شہر قرار دیا گیا تھا جس کی حفاظت ڈچ افواج کےذمےتھی اور دعویٰ کیا گیا کہ دس ہزار
آبادی کےاس مسلم شہر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جب سرب فوج حملہ
آور ہوئی‘ تو محافظ ڈچ فوج وہاں سےبھاگ کھڑی ہوئی اور دس ہزار
آبادی کا شہر مکمل طور پر مذبح خانہ بنادیا گیا۔ ایک بھی انسان زندہ نہیں بچا۔ یہ دس سال قبل کا واقعہ ہی۔ اس کےعلاوہ عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کےخلاف جو کچھ ہوا اور ابھی تک ہورہا ہی‘ وہ بھی سب کےسامنےہی۔ میں ان حقائق کی روشنی میں یہی کہوں گا کہ مسلمان دہشت گردی کر نہیں رہی‘ بلکہ بدترین دہشت گردی کا شکار ہورہےہیں۔
اب سوال یہ ہےکہ یہ سارا معاملہ ہم کس عدالت میں پیش کریں۔ اور اگر کریں بھی تو
کیا وہاں کےجج مسلمان ہوں گی۔ عالمی عالت انصاف کےیو۔ این چارٹر میں درج ہےکہ کوئی
بھی رکن ملک کسی دوسرےرکن ملک پر فوج کشی نہیں کرسکتا‘ مگر اس سےانحراف امریکہ
نےعراق پر چڑھائی کرکےکیا۔ یوں عالمی عدالت اور اقوامِ متحدہ کےقواعدو ضوابط کی
کھلم کھلا خلاف ورزی ہوئی۔ سکیورٹی کو نسل اقوامِ متحدہ کی سب سےبڑی باڈی ہے۔
|