توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
خاکوں کےخلاف مسلم اُمہ کےاجتماعی اقدامات
پائنا کےزیر اہتمام رائونڈ ٹیبل کانفرنس
خاکوں کا مکمل پس منظر اور ڈینش مسلمانوں کی داستان عزیمت اسلامی دنیا میں اٹھنےوالےطوفان کےپس منظر میں تجزیوں اور مشترکہ حکمت عملی پر مشتمل رپورٹ
تریب: الطاف حسن قریشی‘ محمد اقبال قریشی
آج لاہور میں جو ہنگامہ
آرائی ہوئی ہی‘ اس سےیہ ثابت ہوا کہ اگر سیاسی اور مذہبی جماعتیں قوم کی رہنمائی نہیں کریں گی‘ توعوام لیڈروں سےآگےنکل جائیں گی۔ حضور اکرم کی توقیر اور احترام ہمارےایمان کا محور ہےاور اگر اسی پر حرف
آجائی‘ تو پھر ہمارےلیےکوئی شےقابلِ قدر نہیں رہتی‘ اسی لیےآج گلیوں اور بازاروں میں لوگ بےساختہ نکل
آئےہیں۔ فیصل آباد میں ہڑتال کا کوئی پروگرام نہیں تھا‘ لیکن جوں ہی چند جماعتوں کےلوگ احتجاجاً باہر نکلےانہوں نےجلوس کی شکل کرلی اور سارا فیصل
آباد بند ہوگیا۔ یہی کچھ کراچی اور اسلام
آباد میں ہوا۔ صورت حال لمحہ بہ لمحہ خراب ہوتی جارہی ہےاور پورا ملک اس کا لپیٹ میں
آرہا ہی۔
اس کا علاج کیا ہی؟ میرےخیال میں جو کچھ
آج ہوا ہی‘ یہ پچھلےچھ سات برسوں کا ردِعمل ہےجسےحرمتِ رسول کےنام سےآج زبان ملی ہی۔ اب سوال یہ ہےکہ یہ لاوا پکنا کیسےشروع ہوا‘ تو اس کا جواب یہ ہےکہ جو ہمارےحکمران اتنےعرصےسےروشن خیالی کا ڈھنڈورا پیٹ رہےہیں ‘ افغانستان میں اپنےہی بھائیوں کو مروار ہےہیں‘ شمالی علاقوں میں دہشت گردی کےخلاف جنگ کےنام پر مجاہدین کو امریکی بمبار طیاروں کا نشانہ بنارہےہیں‘ اپنےاڈےامریکی فوج کو دےرہےہیں‘ نصاب میں مغرب کی پسند سےتبدیلیاں کروارہےہیں‘ اپنی اقتصادی حالت مضبوط بنانےکےنام پر مغرب کی اندھی تقلید کررہےہیں اور اپنےہی عوام کےخلاف مہنگائی کا ہتھیار استعمال کررہےہیںپ تو یہ ان باتوں کا ردِعمل ہےجو
آج آپ لوگوں نےدیکھا۔ پورا ملک زبردست بحران کی طرف جارہا ہی۔ مواحد حسین صاحب بھی یہاں موجود ہیں جنہوں نےکہا کہ جنرل پرویز مشرف کو فوری طور پر قوم سےخطاب کرکےعوام کو اعتماد میں لینا چاہیی‘ جبکہ میرےخیال میں صدر صاحب کو
آج ایک ویسا ہی یوٹرن لینا چاہیےجیسا انہوں نےنائن الیون کےموقع پر لیا تھا اور انہیں مغربی دنیا سےیہ کہنا چاہیےکہ بھئی تم نےحرمتِ رسول پر ہاتھ ڈالا ہےاور معاملہ اب میرےقابو سےباہر ہی‘ لہٰذا میں دہشت گردی کےخلاف جنگ بند کررہا ہوں اور مزید
آپ کا ساتھ نہیں دےسکتا۔ میرےخیال میں یہی اس کا علاج ہی۔ یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جنہوں نےعہد رسالت میں حضور کی شان میں گستاخی کی تھی انہیں
آپ نےخود قتل کروایا تھا۔ تاجِ برطانیہ کی حکومت میں بھی غازی علم دین شہید جیسےسپوت پیدا ہوئی۔ ہالینڈ میں مسٹر کا ئونامی شخص نےایک اداکارہ کی کمر پر سورة نور کی
آیت لکھی اور پھر اس پر کوڑےبرسائی۔ اس کےردِعمل میں مراکش کےایک مسلمان نوجوان نےبھرےچوراہےمیں اس ملعون کو گرا کر خنجر سےاس کا پیٹ اور سینہ چاک کرڈالا۔
دراصل یہ جھنجھلاہٹ اس لیےہےکہ امریکی سپرپاور زوال کا شکار ہوتی جارہی ہےاور اسےمجاہدین نےافغانستان اور عراق میں زوال سےدوچار کیا ہےاور مغربی اقوام جانتی ہیں کہ یہ جذبہ مجاہدین نےکہاں سےحاصل کیا ہی۔ اس جذبےکےمنبع حضور اکرم کی ذات مبارکہ ہےاور اس پاک ذات پر حملہ کرکےاسلام دشمنوں نےاپنےگھٹیا جذبات کی تسکین کا سامان کیا ہی‘ لیکن وہ نہیں جانتےکہ اس طرح انہوں نےسوئےہوئےشیر کو جگا دیا ہی۔
پروفیسر ڈاکٹر اکرم چودھری‘ ڈین پنجاب یونیورسٹی:
یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہی۔ سارا زور کمپیوٹر او رنیچرل سائنسز پر ہی۔ گزشتہ چند عشروں سےتو انسانی علوم بہت پیچھےرہ گئےہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہےکہ اب یونیورسٹیوں میں مواحد صاحب جیسےلوگ پیدا نہیں ہورہی۔ اسلامی کلچر اور اعتقادات پر اب تک جتنےبھی حملےہوئےہیں‘ ان پر کوئی مطالعاتی رپورٹ سامنےآئی نہ کسی قسم کا کوئی عملی منصوبہ پیش کیا گیا۔
دوسری اہم بات‘ جسےسمجھنا اس وقت بہت ضروری ہی‘ وہ یہ ہےکہ ”یہودی عیسائی اتحاد“ مسلمانوں کو مارنےپر متفق ہوگیا ہی۔ اگر کوئی یہودی اور عیسائی مذہب کےمعتقدات سےآگاہ ہی‘ خصوصاً Ultra
Conservative Protestants کےمتعقدات سی‘ تو اسےیہ سمجھنےمیں دیر نہیں لگنی چاہیےکہ یہ سب عیسائی اور یہودی ذہن کی سوچی سمجھی چال ہی۔ یہ فقرہ کہ ہم ”صلیبی جنگ“ (Crusade) میں داخل ہو گئےہیں‘ یونہی بش کےمنہ سےنہیں نکلا تھا۔
اس بات کا ہماری دینی تنظیموں اور خاص کر ہماری یونیورسٹیوں کےشعبہ
ہائےاسلامیات‘ پولیٹیک سائنس‘ اور انٹر نیشنل افیئر زکو اِدراک ہونا چاہیی۔
|