توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
خاکوں کےخلاف مسلم اُمہ کےاجتماعی اقدامات
پائنا کےزیر اہتمام رائونڈ ٹیبل کانفرنس
خاکوں کا مکمل پس منظر اور ڈینش مسلمانوں کی داستان عزیمت اسلامی دنیا میں اٹھنےوالےطوفان کےپس منظر میں تجزیوں اور مشترکہ حکمت عملی پر مشتمل رپورٹ
تریب: الطاف حسن قریشی‘ محمد اقبال قریشی
جناب قیوم نظامی‘ سیاسی تجزیہ نگار:
آج لاہور میں جو کچھ ہوا‘ وہ ہم سب کےسامنےہی۔
آخر اس کی وجہ کیا ہی؟ کیا مسلم ممالک کےحکمران ان توہین
آمیز خاکوں کی اشاعت کےوقت سورہےتھی؟
عوام تو کسی بھی ایسےمسئلےپر دیکھتےہی اپنےلیڈروں اور حکمرانوں کی طرف ہیں۔ جب کبھی سیاسی‘ معاشی‘ مذہبی یا انسانی ہمدردی کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہی‘ عوام کی نظریں اپنےرہنمائوں ہی کی طرف اٹھتی ہیں۔
اتنےدنوں تک لوگوں نےحکومت کی طرف سےایسےٹھوس اقدامات کا انتظار کیا جیسےلیبیا‘ سعودی عرب اور کویت نےفوری طور پر کیےاور ڈنمارک سےاپنےسفیر واپس بلا لیےتھی‘ مگر افسوس کہ ہماری حکومت یہ کام نہیں کرسکی۔
توہین رسالت کا یہ مسئلہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہےجسےہمارےحکمرانوں نےنظرانداز کرنےکی کوشش کی ہی۔ ڈنمارک اور بعض دوسرےممالک نےایک انتہائی خطرناک کام کیا ہےاور امریکہ اور یورپ طاقت کےنشےمیں بدمست ہیں۔ انہوںنےایک ایسا قدم اٹھالیا ہےجس کا انہیں بہت بھاری خمیازہ بھگتنا پڑےگا۔ ایک طرف القاعدہ کےخلاف جنگ لڑرہےہیں اور دوسری طرف مسلم عوام کےمذہبی جذبات پر حملہ
آور ہورہےہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہےکہ جب جنرل حمید گل جیسےسابق فوجی قائد اور دانشور نےاعلان کیا ہےکہ وہ خودکش حملہ کریں گی‘ تو
آپ کو اس سےمعاملےکی سنگینی کا اندازہ لگالینا چاہیی۔
ہماری بدقسمتی یہ بھی ہےکہ عالم اسلام پر غیر نمائندہ حکمران مسلط ہیں جو ہمیشہ عالمی طاقتوں کےدبائو میں رہتےہیں۔
نئےابھرتےہوئےحالات میں ہمیں اپنا محاسبہ بھی کرنا ہوگا۔ پورےعالم اسلام کا اجتماعی کردار ٹھیک نہیں‘ حقیقت یہ ہےکہ اگر ہمارا کردار مضبوط ہوتا‘ تو کسی کو حرمت رسول پر ضرب لگانےکی جرا¿ت نہ ہوتی۔
٦٠٠٢ءمیڈیا کی صدی ہی۔ ہمارےمسلمان حکمران اپنی ذات پر تو اربوں خرچ کررہےہیں‘ مگر وہ (Voice of Islam) کےنام سےایک چینل کی بنیاد رکھنےمیں ناکام رہےہیں۔ بہت افسوس کی بات ہےکہ مالی طور پر نہایت مستحکم ممالک بھی اس اہم ترین شعبےمیں سرمایہ کاری کےلیےتیار نہیں اور بھیگی بلی بنےہوئےہیں۔
آخری اور سب سےاہم نکتہ یہ ہےکہ یہ ہمارا اپنا وطن ہےاور اگر ہم یہاں توڑ پھوڑ اور جلائو گھیرائو کی سیاست کریں گی‘ تو ہماری اپنی معیشت کو نقصان پہنچےگا اور دشمن تو یہی چاہتا ہی۔ دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمان
آباد ہیں اور ان کی طرف سےبہترین احتجاج یہی ہےکہ وہ مل کر ڈنمارک کا معاشی وتجارتی بائیکاٹ کردیں۔ مزید یہ کہ کامیابی اور ناکامی سےقطع نظر ہمیں اقوامِ متحدہ یا عالمی عدالت انصاف سےرجوع ضرور کرنا چاہیےتاکہ ہمارا احتجاج رجسٹرڈ تو ہو۔
پروفیسر ڈاکٹر وسیم صدیقی‘ ہوائی یونیورسٹی‘ امریکہ:
میری آنکھوں کےسامنےاس روز کا منظر گھوم گیا ہےجب دیوار برلن گری تھی۔ اس وقت امریکی ٹی وی کےایک ٹاک شو (نائٹ لائن) میں اس پر بحث ہوئی جس کا میزبان ایک یہودی تھا۔ اس پینل مذاکرےمیں کسی نےپوچھا کہ دیوار کےگرجانےکےبعد مزید کیا ہوگا؟ میزبان نےجواب دیا کہ دیوار برلن تو گرچکی ہی‘ مگر امریکہ کی اقتصادی ترقی کےلیےایک نیا دشمن تلاش کرنا ضروری ہےجو میری نظر میں اسلام ہی۔
آج آپ جو کچھ دیکھ رہےہیں‘ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ مسلمانوں کےخلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہی۔ امریکہ اور یہودی لابی خود تو پس پردہ رہیں گی‘ مگر ڈنمارک کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہی۔
۔
|