توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
خاکوں کےخلاف مسلم اُمہ کےاجتماعی اقدامات
پائنا کےزیر اہتمام رائونڈ ٹیبل کانفرنس
خاکوں کا مکمل پس منظر اور ڈینش مسلمانوں کی داستان عزیمت اسلامی دنیا میں اٹھنےوالےطوفان کےپس منظر میں تجزیوں اور مشترکہ حکمت عملی پر مشتمل رپورٹ
تریب: الطاف حسن قریشی‘ محمد اقبال قریشی
میرےخیال میں دو تجاویز بہت اہم ہیں۔ اول تو یہ کہ ہمیں شاہ فیصل جیسا عظیم رہنما چاہیےخواہ اس کا تعلق کسی بھی ملک سےہو۔ شاہ فیصل کےپاس تیل کی طاقت تھی جس کےذریعےانہوںنےمغرب پر تیل کی پابندیاں لگادیں۔ اس وقت او
آئی سی کا ویسا ہی ایک اجلاس بلانےکی اشد ضرورت ہےجیسا کہ شاہ فیصل نےسربراہی اجلاس کا اہتمام کیا تھا۔
دوسری اہم بات یہ کہ یہ واقعہ منفی سہی‘ لیکن اس سےاسلام کا چرچا ہوگا‘ خصوصاً یورپ میں۔ اس کی ایک مثلا نائن الیون ہی۔ امریکہ میں جتنی اسلامی کتب نائن الیون کےبعد شائع ہوئیں‘ اس سےپہلےکبھی منظر عام پر نہیں
آئی تھیں۔ ہمیں ایڈیٹروں کی بھی ایک کانفرنس بلانی چاہیےجس میں ڈنمارک سےبائیکاٹ کی قرار داد منظور کی جائےاور
آئندہ مسلم میڈیا کےلیےایک لائحہ عمل ترتیب دیا جائی۔
پروفیسر ڈاکٹر مجاہد منصوری‘ شعبہ ابلاغیات عامہ پنجاب یونیورسٹی:
اس واقعےسےمیں یہ سمجھتا ہوں کہ عالم اسلام کو نائن الیون سےکہیں زیادہ بڑا موقع ہاتھ
آگیا ہےجو مغرب نےفراہم کیا ہی۔ اس وقت شاید ہی کوئی ایسا مسلم حکمران ہو جس نےمغرب کےسامنےدہشت گردی کےحوالےسےاپنی صفائی پیش نہ کی ہو۔ اب کچھ مغربی عناصر کی حماقت سےانہیں اپنا حساب چکانےاور یورپ کو دبائو میں رکھنےکا ایک اچھا موقع ہاتھ
آگیا ہی۔
یہ کہنا تو شاید مناسب نہ ہو کہ پورےکا پورا مغرب اس روش پر چل رہا ہی‘ البتہ ایک مخصوص طبقہ ایسی گھنائونی حرکتیں کررہا ہی۔یہ دراصل میڈیا کی جنگ ہےجو دانش کی سطح پر لڑی جانی چاہیی۔ اس کےلیےضروری ہےکہ ہم اس کا ماسٹر مائنڈ تلاش کریں۔
آج کےجدید دور کی سہولتوں اور عالم اسلام کےنیٹ ورک کی بدولت بہ بات اب پوری طرح ممکن ہی۔
میڈیا کےطالب علم کےحوالےسےمیں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ سویڈن اور ناروےکی یونیورسٹیوں نےخاص طور پر میڈیا کو سافٹ ویپن کی حیثیت سےایک نئےانداز میں اپنایا ہےجو سرد جنگ میں بھی استعمال ہوا۔ عراق اور افغانستان میں بھی بار بار یہی ہتھیار
آزمایا گیا ہےاور اس عمل میں سویڈن اور ناروےکی یونیورسٹیوں کی پروفیسروں نےبنیادی کردار ادا کیا۔ اب اسی خطےکےایک اخبار میں ایسےتوہین
آمیز خاکےشائع کیےگئےہیں۔ اس سےصاف ظاہر ہوتا ہےکہ اس پورےواقعےکا ایک پس منظر ہی‘ چنانچہ ضرورت اس امرکی ہےکہ اس سازش کا ماسٹر مائنڈ تلاش کیا جائےجس کےلیےمغربی معاشری‘ وہاں کےمیڈیا اور یونیورسٹیوں ک ایک سروےکرنا ہوگا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مغرب میں عام طبقی‘ حکمران طبقی‘ مزدور طبقےاور اعلیٰ ذہنی استعداد رکھنےوالےطبقےکےکیا رحجانات ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ ہماری کوئی
آواز نہیں تھی‘ مگر اب سیٹلائٹ کی اجارہ داری ختم ہوچکی ہےاور ایسا کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ اس لیےہمیں اپنی سپاہ دانش کو ترتیب دےکر ایک کمیونیکیشن فورس قائم کرنی چاہیےجو مغربی میڈیا کی یلغار کا جواب دےسکی۔ حتمی بات یہ ہےکہ مغرب کو معذرت کرنےپر مجبور کیا جائی۔
مغرب کےدانش مند طبقہ اور میڈیا کو بھی اس بات کا احساس ہےکہ یہ مسئلہ صحافتی
آزادی کا نہیں‘ جسےہمارےحکمران
آزادی اظہار کہہ کر اس کا دفاع کررہےہیں۔
آزادی اظہار اور ذمےداری کا چولی دامن کا ساتھ ہی۔ اگر ان میں سےکسی ایک کی بھی نفی کردی جائی‘ تو ہمارےاور مغرب کےلیےنہایت خطرناک نتائج برآمد ہوسکتےہیں۔
مغرب کو یہ احساس دلانےکی اشد ضرورت ہےکہ اُس نےغیر ذمےداری کا ثبوت دیا ہےاور اب وہ اس کا ماسٹر مائنڈ تلاش کرنےمیں ہماری مدد کری۔ یہ قائدانہ کردار ہمارےدانش وروں ہی کو سرانجام دینا ہوگا‘ کیونکہ پاکستان ہی وہ اسلامی ملک ہےجہاں میڈیا سب سےزیادہ
آزاد ہی۔
میں نے٩٧٩١ءمیں امریکہ کےایک اخبار میں فل برئیٹ اسکالر کےطور پر کام کیا۔ وہاں
ایک ایسا حوالہ میرےہاتھ لگا جو میں اپنےاسٹوڈنٹس کو اس وقت دیتا ہوں جب کبھی یہودی
زیر بحث آتےہیں۔ ٦٠٩١ءمیں نیویارک میں ایک انٹر نیشنل نیوز کانفرنس منعقد ہوئی جس
کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یورپ سےامریکہ جاکر آباد ہونےوالےیہودیو ںکی رہنمائی کی
جائی۔۔
|