توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
خاکوں کےخلاف مسلم اُمہ کےاجتماعی اقدامات
پائنا کےزیر اہتمام رائونڈ ٹیبل کانفرنس
خاکوں کا مکمل پس منظر اور ڈینش مسلمانوں کی داستان عزیمت اسلامی دنیا میں اٹھنےوالےطوفان کےپس منظر میں تجزیوں اور مشترکہ حکمت عملی پر مشتمل رپورٹ
تریب: الطاف حسن قریشی‘ محمد اقبال قریشی
جناب عبدالغفار عزیز‘ ڈائریکٹر شعبہ امور خارجہ‘ جماعت اسلامی:
اس توہین آمیز واقعےکےحوالےسےچند باتیں اہم ہیں جن پر ہمیں نہایت گہرائی سےغور کرنا ہوگا۔ پہلی بات یہ کہ اس احتجاج کو ایک وقتی ابال ثابت نہیں ہونا چاہیےاگرچہ مغرب کی یہی کوشش ہی۔ خاص طور پر جرمنی اور ناروےکی طرف سےجو معذرت کی گئی ہےاور یہ بیان دیا گیا ہےکہ ہم
آپ کےدوست ہیں اور
آپ کےتحفظات کا دھیان رکھتےہیں۔ ان باتوں سےعوامی جذبات کی
آگ سردنہ پڑنےپائی‘ بلکہ ہمیں اپنےموقف پر ڈٹےرہنا چاہیی۔
مغرب نےاپنےمیڈیا کےذریعےتوہین رسالت کےمرتکب عناصر سےیہ بات بھی کہی ہےکہ انہیں ایک ایسےنبی کا مذاق نہیں اڑانا چاہیےجواب اس دنیا میں موجود نہیں۔ ہمیں ایسےبیانات سےفریب کھانےکےبجائےاپنےزخم اس وقت تک تازہ رکھنےچاہئیں جب تک یورپ اور امریکہ واقعی اپنی پالیسی تبدیل کرنےپر مجبور نہ ہوجائیں اور
آئندہ مغربی میڈیا کو ایسی ناپاک جسارت کرنےکی جرا¿ت نہ ہو۔ مجاہد منصوری صاحب سےمیں اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں اس واقعےکےماسٹر مائنڈ کاسراغ لگانا چاہیی۔ یہ معاملہ صرف توہین
آمیز کارٹونوں تک محدود نہیں بلکہ وہاں کی ملکہ نےایک کتاب لکھی جس میں رسول کریم کی توہین کی گئی ہی۔ ڈنمارک کےوزیراعظم نےبھی اپنی تقریر میں ایسےہی توہین
آمیز الفاظ استعمال کیےہیں۔
تو جناب‘ یہ مغربی میڈیا اور وہاں کےحکمرانوں کا ایک وتیرہ بن چکا ہی۔ اسےروکنےکا واحد حل یہ ہےکہ ہم اس احتجاج کو منظم اور مربوط کرنےکےساتھ عالمی سطح پر اپنی
آواز بلند کریں جس کےذریعےمسلمانوں کےعزم کا بھرپور اظہار ہو۔
یہاں پر او آئی سی کا اجلاس بلانےکی بات ہوئی ہی۔ میں یہ کہوں گا جب کبھی عالم اسلام کو اس قسم کی کوئی صورت حال درپیش ہوتی ہی‘ تو او
آئی سی یا عرب لیگ کےکسی اجلاس کےذریعےاس لہر کو ختم کرنےکی تدابیر ہم پر مسلط کردی جاتی ہیں۔ اس کی ایک مثال شیخ یاسین کی شہادت ہےجس پر مسلم امہ میں غم وغصےکی زبردست لہر دوڑ گئی تھی جسےعرب لیگ کےاجلاس میں کارروائی کےذریعےبےاثر بنا دیا گیا۔ او
آئی سی کا اجلاس ضرور بلائیں مگر ساتھ یہ نہ بھولیں کہ یہ پوری امت مسلمہ کا نہایت اہم مسئلہ ہی۔ ابھی ہمیں ملک کےایک دور دراز علاقےسےکال موصول ہوئی ہےکہ یہ احتجاج ایک ہی دن ہونا چاہیی۔ مسلم امہ کا ایک مربوط نیٹ ورک پہلےہی فعال ہوچکا ہےاور پوری دنیا میں ٣مارچ کو عالمی ہڑتال کی کال ہی۔ مسلم امہ کو فعال بنانےکےلیےیہ بہت ضروری ہےکہ اصحاب فکرو دانش کلیدی کردار ادا کریں۔
جناب ایس ایم ظفر کا صدارتی خطبہ:
آج یہاں نہایت اچھی گفتگو ہوئی ہی۔ ایک مسئلےپر گفتگو کےدوران کئی دوسرےاہم موضوعات بھی زیر بحث
آگئےہیں۔ ہر مقرر نےاپنےاپنےانداز میں بات
آگےبڑھائی ہی۔ خاص طور پر مواحد حسین صاحب نےتو
آج کا دن اپنےلیےمختص کرلیا ہےاور بڑی ہی اچھی تجاویز پیش کی ہیں۔
نائن الیون کو نیویارک کےٹاور جبکہ الیون نائن کو دیوار برلن گری تھی جس کےبعد ہم بہت خوش ہوئےکہ ہم نےماسکو فتح کرلیا ہےاور اب واشنگٹن ہماری پہنچ سےدور نہیں رہا۔ ہم محض تصوراتی خوش فہمی میں مبتلا رہی‘ جبکہ مغربی دنیا اپنی تیاریوں میں مصروف رہی۔ اس کےبعد جو کچھ ہوا‘ وہ
آج ہم سب کےسامنےہی۔
میرےخیال میں مغرب کی طرف سےاس کےہاں رہنےوالی مسلم اقلیت کو یہ باور کرانےکی
کوشش کی گئی ہےکہ وہ ملک جہاں وہ اتنےعرصےسےرہ رہےہیں‘ اب انہیں وہاں مغرب کی مرضی
سےرہنا ہوگا۔ ایک طرح سےوہ اپنی معاشرتی اقدار ہم پر مسلط کرنا چاہتےہیں۔ میرےخیال
میں ناروی‘ سویڈن اور ڈنمارک نےیہ ضرور سوچا ہوگا کہ یہ جو مسلمان اتنےعرصےسےیہاں
آباد رہےہیں اور اب ان کی تیسری نسل ہمارےدرمیان پروان چڑھ رہی ہی‘۔
|