توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
خاکوں کےخلاف مسلم اُمہ کےاجتماعی اقدامات
پائنا کےزیر اہتمام رائونڈ ٹیبل کانفرنس
خاکوں کا مکمل پس منظر اور ڈینش مسلمانوں کی داستان عزیمت اسلامی دنیا میں اٹھنےوالےطوفان کےپس منظر میں تجزیوں اور مشترکہ حکمت عملی پر مشتمل رپورٹ
تریب: الطاف حسن قریشی‘ محمد اقبال قریشی
ذرا ان کےمذہبی عقائد اور جوش وجذبےکو تو
آزمالیا جائی۔ یہ واقعہ اور اس سےقبل پیش
آنےوالےواقعات سےوہ یہ دیکھنا چاہتےتھےکہ اتنےعرصےسےہمارےدرمیان رہنےوالےمسلمانوں کےذہنوں اور دلوں سےاسلام کی تعلیم نکل چکی ہےیا نہیں۔ میرےخیال میں انہیں اس کا ایک اچھا خاصا جواب مل چکا ہوگا۔
ہمارےملک میں جو احتجاج ہوا‘ جلوس نکلےاور غم وغصےکےاظہار کیا گیا‘ اس میں شریک ہونےوالےتو بلاشبہ داد کےمستحق ہیں ہی‘ مگر سب سےزیادہ تحسین کےحقدار یورپی مسلمان ہیں جنہوں نےوہاں رہ کر اپنےجذبات کا اس انداز میں اظہار کیا جس انداز میں ایک مسلمان کو کرنا چاہیی۔ اس سےہمیں یہ اندازہ لگالینا چاہیےکہ وہاں عرصہ دراز سےرہنےکےباوجود ان کےدلوں سےنبی کی محبت اور اسلامی تعلیمات محو نہیں ہوئیں۔
دوسری طرف میں
آپ کا دھیان اس جانب بھی مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مشرقی یورپ کےممالک مغرب کےبہت قریب ہیں۔ یہ بھی ممکن ہےکہ وہاں مسلمانوں کی جگہ مشرقی یورپ کےباشندوں کی
آباد کاری کا کوئی منصوبہ ان کےذہنوں میں ہو اور اس کےلیےجواز پیدا کیا جارہا ہو۔ اس کی مثال میں یوں دوں گا کہ امریکہ کی سیاہ فام
آبادی کےساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ جب سیاہ فاموں نےاپنےحقوق کےلیےآواز اٹھائی‘ تو امریکہ نےان کی جگہ میکسیکو سےلوگوں کو بلاکر ملازمتیں اور ر ہائشیں دینا شروع کردیں‘ لہٰذا ہمارےجذبات بلاشبہ بہت اچھےہیں اور میں ان کی قدر بھی کرتا ہوں‘ مگر ہمیں ان میں ہوش کو بھی شامل رکھنا چاہیی۔ اس وقت ہمارا سب سےبڑا مسئلہ یہ ہےکہ یورپ میں حرمتِ رسول کا مسئلہ کس طرح پھیل رہا ہےاور ہم کیسےاپنی بات یورپ اور امریکہ سےمنواسکتےہیں۔ اس سلسلےمیں ٹھوس اور جامع اقدامات کی ضرورت ہی۔ ڈنمارک نےچونکہ اس سلسلےمیں بنیادی کردار ادا کیا ہی‘ اس لیےاس کو کٹہرےمیں لانا بہت ضروری ہی۔
مغرب میں ان کےاپنےپیغمبروں کی حرمت کےبارےمیں تو قوانین موجود ہیں‘ لیکن دوسرےمذاہب خاص کر اسلام کےحوالےسےایسا کوئی قانون موجود نہیں جو کہ اب ناگزیر ہو گیا ہی۔ ایک ایسا تصور بین الاقوامی طور پر ابھارنےکی ضرورت ہےجس میں ہر مذہب کےپیغمبر اور بانی کےخلاف کسی بھی قسم کی بےحرمتی کی حوصلہ شکنی کی جائی۔ جب چائلڈ رائٹس‘ لیبر رائٹس اور پولیٹکل رائٹس کےعالمی قوانین بن سکتےہیں‘ توریلیجئس رائٹس کا قانون بھی بن سکتا ہی‘ لہٰذا ہمیں اس سلسلےمیں ایک جامع حکمتِ عملی تیار کرنا ہوگی۔
ویٹی کن سےپوپ کا ایک بیان جاری ہوا ہےجس میں اس واقعےکی مذمت کی گئی ہی۔ اس تناظر میں یہ ضروری نہیں کہ ہم تمام یورپ کو نشانہ بنائیں۔ اس کےلیےہمیں حقائق کی روشنی میں اصل ذمہ داران ہی کو قرار واقعی سزا دلانی چاہیی۔
مسلمانوں اور خصوصاً ہمارےہم وطنوں کےجذباتی ردعمل پر کچھ لوگ اعتراض بھی کررہےہیں‘ لیکن ہمارےاسی ردعمل کےنتیجےمیں مغربی دنیا کےغیر جانبدار لوگ یقینا یہ سوال پوچھیں گےکہ
آخر کیا وجہ ہےکہ یہ لوگ اس واقعےپراس غم وغصےکا اظہار کررہےہیں۔ وہ کونسی شخصیت ہےجس کی خاطر لوگ اس طرح گھروں سےنکل کر سراپا احتجاج بن گئےہیں اور جب وہ اس سوال کا جواب ڈھونڈیں گےتو یہ ایک ذریعہ بن جائےگا ہماری روایات اور اقدار کو مغرب تک پہنچانےکا۔ یوں ایک قابلِ مذمت اور توہین
آمیز واقعہ اسلام کےحق میں خوش
آئند نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔
آج کی گفتگو میں ہونےوالی تمام باتیں بہت اچھی تھیں اور میرےخیال میں ہمیشہ ایسی ہی گفتگو ہونی چاہیی۔
رائونڈ ٹیبل کی قرارداد
پائنا نے٤١فروری ٦٠٠٢ءکو اپنےلائبریری ہال میں ”خاکوں کےخلاف مسلمانوں کےاجتماعی اقدامات“ کو موضوع پر ایک رائونڈ ٹیبل کا انعقاد کیا۔
اجلاس کی صدارت جناب سینیٹر ایس ایم ظفر نےکی جبکہ اظہارِ خیال کرنےوالوں میں
پروفیسر ڈاکٹر اکرم چودھری (ڈین پنجاب یونیورسٹی)‘ مواحد حسین شاہ (مشیر
برائےوزیراعلیٰ پنجاب)‘ جناب اسماعیل قریشی (چیئرمین ورلڈ مسلم جیورسٹس ایسوسی
ایشن)‘ جناب مجیب الرحمن شامی‘ (مدیر اعلیٰ روزنامہ پاکستان)‘ پروفیسر ڈاکٹر مجاہد
منصوری‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف‘ ہوائی یونیورسٹی امریکہ کےپروفیسر ڈاکٹر وسیم
صدیقی‘
|