|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تلاش ہےاُمّہ کو کسی صلاح الدین ایوبی کی!
اس پسپائی کو چھپانےکےلیےسراسر جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسلام تلوار کےزور سےپھیلا ہی۔ حالانکہ دنیا کےایک تہائی سےزائد اسلامی ممالک وہ ہیں جن پر کبھی نہ مسلمانوں نےفوج کشی کی نہ وہاں کےعوام سےکوئی لڑائی لڑی۔ اسلام کی اخلاقی قوت نےان ساری اقوام کو دائرہ اسلام میں
آنےپر محبور کیا۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا اور افغانستان بھی انہی ممالک میں شامل ہیں جہاں مسلمانوں کی طرف سےکوئی فوج کشی نہیں کی گئی۔ ماورالنہر کےسارےعلاقےمیں موجود مسلم ریاستوں میں اسلام مصلحین ‘ مبلغین یا مسلمان تاجروں کےذریعےپھیلا ہی۔
آج بھی یورپ اور امریکہ میں مسلمان ہونےوالے مرد و خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا اظہار کر رہی ہےکہ اسلام ہر قلب سلیم پر دستک دیتا ہےاور ہر ذہن کی الجھن دور کرکےاسےگلےلگا لیتا ہی۔
اس کےساتھ ساتھ یہ بات بھی یاد دلانےکی ہےکہ جب بھی پیغمبر اسلام کےخلاف کسی بدبخت نےاپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا ‘ توہین
آمیز رویہ اختیار کیا‘ کوئی کتاب لکھی ‘ کوئی خلاف تہذیب مواد شائع کیا تو اس کےجواب میں کبھی کسی مسلمان کےقلم سےکسی مذہب کےرہنما‘ پیشوایا محبوب اور مقدس شخصیت کےخلاف کوئی تحریر نہیں لکھی گئی کوئی گندی کتاب نہیں چھپی۔ کسی کے مذہبی پیشوا کو برا نہیں کہا گیا اور یہ ایک دو دن کی کہانی نہیں بلکہ مسلمانوں کےعہد عروج سےلےکےآج تک امت مسلمہ کا مکمل ریکارڈ گواہ ہےکہ مسلمان ہر مذہب کےپیشوائوں کا مکمل احترام کرتےہیں۔ اور مسلم امہ کا عمل اس پر گواہ ہےکہ اس نےآج تک کبھی کسی مذہب یا اس کےپیشوا کےخلاف کوئی بدتمیزی یا توہین
آمیز رویہ اختیار نہیں کیا نہ زبانی نہ تحریری۔ مذہبی اعتبار سےاتنی روادار‘ اعتدال پسند اور روشن خیال امت اور اس کےمذہب کےخلاف یورپ کےان مہذب ملکوں اور قوموں کا جو رویہ ماضی سےچلا
آ رہا ہےاس کی بےشمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ایک دور میں ہسپانیہ میں باقاعدہ عیسائی مذہبی قلعوں کو عیسائی مذہب کےپیشوائوں کی طرف سےجنت کےپروانےدےکےاس کام پر مقرر کیا جاتا تھا کہ وہ توہین رسالت کےمرتکب ہوں۔
آج وہی کام دوسرےانداز سےکیا جا رہاہی۔ اکیسویں صدی کےآغاز سےامریکہ جس نیو ورلڈ
آرڈر پر عمل پیرا ہی‘ اس کا واحد مقصد مسلمان کشی ‘ اسلام دشمنی اور مسلم ثقافت کےخلاف عام نفرت پیدا کرنا اور مکمل طور پر اسلام کےنظام کو اس حد تک پسپا کر دیتا ہےکہ امریکہ اور یورپ کی سودی معیشت کو غریب اقوام کا خون چوسنےاور ان کےقدرتی ذرائع و وسائل پر بزور و جبر قبضہ کرنےکا استحقاق مل جائےاور ان کےراستےمیں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی۔ اس کےلیےیہ انسانی حقوق کےنام نہاد علمبردار اور
آزادی اظہار رائےعامہ کےجھوٹےدعویدار ہر اخلاقی حد کراس کرکے یہاں تک
آگئےہیں کہ پہلےانہوں نےنائن الیون کا ڈرامہ رچایا ‘ دنیا بالخصوص مسلم دنیا کو مرعوب کیا ڈرایا دھمکایا اور افغانستان میں خون کی ندیاں بہائیں پھر عراق کے تیل کےذخیروں پر قبضےکی راہ ہموار کی۔
ہماری نگاہ میں ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کےاخبارات کا یہ انسانیت سوز صحافتی رویہ اس ڈرامےکا ایک نیا باب وا کر رہا ہی۔ اس حوالےسےامریکہ ‘ یورپی یونین اور ان کےمتعلقین کا طرزعمل اتنا شرمناک اور اخلاقی باختہ ہےکہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائی‘ وہ کم ہےجس اظہار رائےکی
آزادی کی وہ اپنی ڈھال بنا کےپیغمبر اسلام کی توہین کرنےوالےخاکےکےچھاپنےکا جو از قرار دےرہےہیں اس کا پول خود انہی یورپی ملکوں کےقوانین کھل دیتےہیں کیونکہ ان یورپی ملکوں میں حضرت عیسیٰ یا عیسائی مقدسین کی توہین قابل تعزیر جرم ہی۔ یہی یورپی یونین جس نےمسلمانوں کی دل
آزاری کرنےکےبعد ان کےاحتجاج اور غم و غصےکو مسترد کر دیا ہےکہ ممبر ملکوں کی تاریخ میں ایسےاعلیٰ عدالتی فیصلےموجود ہیں کہ جن میں ان لوگوں کو سزا دی گئی جنہوں نےکسی بھی طریقےسےصلیب ‘ حضرت عیسیٰ یا کسی راہبہ کی توہین کی تھی۔
یہ کیسی عجیب بات ہےکہ جن ممالک میں یہ قانون موجود ہےکہ مقدسین کی کسی طرح بھی
ایسی تشہیر نہیں کی جاسکتی جو دیکھنےوالوں کےلیےدل آزاری کا باعث ہو۔ اسی یورپی
یونین کےممبر ممالک مسلمانوں کی دل آزاری کو جائز قرار دیتےہیں اور روشن خیال
دعویدار اور انسانی حقوق کےنام نہاد چیمپیئن صدر بش بھی اپنی آواز انہی انسانیت
دشمن ممالک کی آواز میں شامل کرتےہیں اور دنیا کےایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کی دل
آزاری اور احتجاج کو یہ کہہ کے مسترد کر دیا جاتا ہےکہ اخبارات کی آزادی میں مداخلت
نہیں کی جاسکتی۔ یہ امریکہ و یورپ کا دوہرا معیار ہےہم یہ سمجھتےہیں کہ یہ معاملہ
ایک سوچےسمجھےمنصوبےکا حصہ ہی۔ اسی لیےتواتر کےساتھ یہ توہین آمیز خاکےیورپ اور
امریکہ کےاخبارات میں نومبر سےلےکےاب تک کئی بار چھاپےگئےہیں اس لیےمسلمانوں کو اب
بہت سنجیدگی سےبار بار کی دل آزاری اور توہین رسالت کےمکروہ اقدامات بند
کرانےکےلیےکوئی طریقہ کار سوچنا ہوگا۔
|