|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تحفظ ناموس رسالت
ترجمہ: ”اےپروردگار ان (لوگوں) میں ان ہی میں سےایک رسول() بھیج جو ان کو تیری
آیتیں پڑھ کر سنایا کرےاور کتاب اور دانائی سکھایا کرےاور ان (کےدلوں) کو پاک صاف کیا کری۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہی۔“ (البقرہ:120)
نبی کریم کے بارےمیں حضرت عیسیٰ نے پیش گوئی کی تھی اور اسم احمد کا تذکرہ فرمایا تھا....
ترجمہ: ”اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریم کےبیٹےعیسیٰ نےکہا کہ اےبنی اسرائیل ! میں تمہارےپاس اللہ کا بھیجا ہوا
آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سےپہلےآ چکی ہی۔ (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبرجو میرےبعد
آئیںگےجن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتا ہوں پھر جب وہ ان لوگوں کےپاس کھلی نشانیاں لےکر
آئےتو کہنےلگےیہ تو کھلا جادو ہی۔ “ (الصف۔6)
آپ خاتم النبیین ہیں۔
آپ کےبعد کوئی نبی نہیں
آئےگا اور آپ پر دین اسلام کی تکمیل ہوئی۔
ترجمہ: ”(اور) آج ہم نےتمہارےلیےتمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارےلیےاسلام کا دین پسند کیا۔“ (المائدہ۔3)
آپ کا ذکر بلند کیا گیا....”اور ہم نےآپ کا ذکر بلند کر دیا۔“ (الم نشرح)
یہ تمام باتیں ذکر کرنےکا مقصد یہ ہےکہ نبی کریم سےمحبت اور عشق صرف مسلمانوں کےلیےہی نہیں بلکہ دیگر اقوام کی الہامی کتب میں بھی
آپ کا ذکر اور آپ سےپہلےانبیاءکرام کی
آپ کےبارےمیں دعائیں ‘بشارتیں‘ گواہیاں اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ اس بناءپر اگر وہ اپنےمذہب یا عقیدےمیں پختہ ہوںتو پھر بھی ان اقوام پر
آپ کی محبت احترام اور ایمان واجب ہوجاتا ہی۔ کجا کہ وہ
آپ کی توہین کریں۔ دوسری طرف نبی کریم سےمحبت کےتقاضےیہ ہیں کہ
آپ کو جان و مال اور دنیا کےہر رشتوں سےمحبوب رکھنےکا حکم دیا گیا ہی۔
ترجمہ: ”کہہ دیجیے¿ کہ اگر تمہارےباپ اور بیٹےاور بھائی اور عورتیں اور خاندان کےآدمی اور مال جو تم کماتےہو اور تجارت جس کی کمی سےڈرتےہو اور مکانات جن کو پسند کرتےہو اللہ اور اس کےرسول پاک سےاور اللہ کی راہ میں جہاد کرنےسےتمہیں زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجےاور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔“ (التوبہ۔24)
آپ پر ایمان نہ لانا کفر ہےلہٰذا
آپ پر بلاشبہ ایمان لانا ہی مومن کی اصل نشانی ہےچونکہ
آپ کی بیعت اللہ تعالیٰ کی بیعت ہی۔
آپ کی آمد مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہےاور اسی لیےمومنوں پر
آپ کےفیصلوں کی پابندی کو لازم قرار دیا گیا اور
آپ کی اطاعت کا حکم دیا گیا۔
ترجمہ: ”اےایمان والو! اللہ اور اس کےرسول پاک کےحکم پر چلو اور سننے اور جاننےکےباوجود اس سےانکار نہ کرو۔“ (المائدہ۔20)
ترجمہ: نبی پاککی زندگی مسلمانوں کےلیےاسوہ¿ حسنہ ہی۔
آپ کےاخلاق بڑےعالی‘ نرم دل‘ بڑےہی شفیق اور مہربان تھی۔ حدیث نبوی اور سیرت نبوی دراصل اللہ تعالیٰ کےاحکام کی تفسیر اور عملی نمونہ ہیں۔
آپ کی اطاعت کا اجر یہ ہےکہ
آپ کی اطاعت پر اللہ تعالیٰ نےبخشش کا وعدہ فرمایا ہی۔“(الزمر۔33)
آخرت کےروز آپ کی فضیلت یہ ہوگی کہ
آپ اللہ تعالیٰ سےبخشش کی سفارش کر سکیں گے‘ کسی کو شفاعت کا اختیار نہیں ہی‘ سوائےآپ کی۔
آپ افضل الانبیاءہیں
آپ کی تائید و تصدیق کےلیےتمام انبیائےکرام سےعہد لیا گیا اسی طرح
آپ سب پیغمبروں کی تصدیق کرتےہیں۔
آپ کےآخری اور سچےنبی ہونےکی حقیقت سےاہل کتاب بخوبی واقف تھےکیونکہ انہوں نےآپ کےاوصاف کواپنےصحیفوں میں ایک سچےرسول پاک کی پیش گوئیوں کےمطابق پایا۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ نےاہل کتاب کو بھی رسول کریم پر ایمان لانےکا حکم دیا اس سب کےباوجود دیگر مذاہب کےلوگوں میں
آپ کی شان میں گستاخی چہ معنی وارد؟
ناموس رسالت بھی ایمان کا جزو ہےاور اللہ تعالیٰ نےخود توہین رسالت کی سزا مقرر کردی حتیٰ کہ مومنین کو شاتم رسول حضرت محمد سےہر قسم کی دوستی رکھنےسےبھی منع فرمایا گیا اور اس کا انجام بتا دیا گیا۔ ”ابولہب کےدونوں ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو۔“ (اللہب۔ 1)
۔
|