|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تحفظ ناموس رسالت
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہی:
ترجمہ: ”وہ جلد بھڑکتی ہوئی
آگ میں داخل ہوگا۔‘ پھر یہ ہےکہ مسلمانوں کو تکریم نبوی کا حکم دیا گیا ہی۔“ اور دل سےاس کی تعظیم کرو صبح و شام اس کی تسبیح کرتےرہو۔“ (الفتح۔9)
قرآنی آیات کی سچائی کو‘ دل و دماغ سےتسلیم کر لینےکےباوجود منکرین
آپ کو (نعوذ باللہ) جادو گر کہہ کر مکر جاتےتھی۔ حقیقت تو یہ ہےکہ اگر اللہ کسی فرشتےکو اپنا پیغامبر بنا کر بھیج دیتا تب بھی یہ مشرکین ایمان نہ لاتی۔
منکرین و مشرکین نےحضرت محمد پر کئی اعتراضات کیےاس پر قرآن نےاستدلال پیش کیا ہی۔
آپ کے بشر ہونےپر اور
آپ کی عائلی زندگی پر بھی منکرین نےاعتراض کیا۔ یہاں تک کہ منکرین مکہ اصرار کرتےتھےکہ
آپ معجزات دکھائیں پھر ہم ایمان لائیں گی: ”اور کہتےکہ ان پر ان کےپروردگار کےپاس سےکوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دیجیے¿ کہ اللہ نشانی اتارنے پر قادر ہےلیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ (الانعام۔38) اور یہ روش
آپ کےساتھ ہی نہیں تھی بلکہ منکرین اقوام پہلےپیغمبروں سےمعجزات لانےپر اصرار کرتی رہی ہیں۔ اور پیغمبروں کو تبلیغ سےباز رکھنےکےلیےانہیں معلوب کرنی‘ قید میں ڈالنےاور قتل کرنےکی دھمکیاں بھی دیتےرہےہیں۔
آپ کی رسالت کی تصدیق البتہ پیغمبروں نےاپنی اقوام کےسامنےاس لیے کی تاکہ وہ بھی
آپ پر ایمان لائیں مگر وہ اس کے باوجود بھی اپنی روش پر ڈٹےرہےاور
آپ پر طرح طرح کےاعتراضات عائد کرتےرہی۔
انسانی حقوق کےعلمبرداروں نے مسلمانوں کی اس دل آزاری پر کوئی ایکشن لیناگوارا
نہیں کیا۔ کجایہ کہ ڈنمارک اوردیگر ممالک کو اس حرکت پر معافی مانگنےاور اس
کےازالےکےلیےاقدامات اٹھانےپر مجبور کرتی۔ احترام مذہب اور اعتدال پسندی کا درس
پوری دنیا میں دیا جا رہا ہےمگر صرف مسلمانوں کو اتنےزبردست احتجاج اور مظاہروں
کےبعد بھی دنیا کی بڑی طاقتوں نےاس مسئلےکو درخور اعتناءنہیں سمجھا اور اسےآزادی
اظہار رائےاور آزادی صحافت کی نذر کر دیا۔ مگر یہ مسلمانوں کےایمان کا مسئلہ
ہےلہٰذا تمام مسلمان باہم مل کر اور متحد ہوکر ٹھوس انداز میں اس گھمبیر مسئلےکو
دنیا کےسامنےپیش کریں۔
|