|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
بامحمد ہوشیار
یہ ادب اور عزت کا ہی تو مقام ہےکہ حالیہ گستاخی کےدوران مسلمانوں سےلےکر دنیا میں عیسائی ہندو اور سکھ بھی بعض مقامات پر سراپا احتجاج بنےنظر
آئی۔
مسلمانوں کےدلوں سےسوچی سمجھی سازش کےتحت حضورکا ادب و احترام کم کرنےکی گھنائونی سازش بڑی مکاری اور عیاری سےتیار کی گئی ہےمگر عاشقان رسول ازل سےابد تک اپنی جانیں حضورکےقدموں پر نچھاور کرنےکی سعادت حاصل کرتےرہیں گی۔ ہماری تاریخ اگر یہ بتاتی ہےکہ ہجرتِ رسول کےوقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ نےآپ کی چار پائی پر
آپ کی جگہ لیٹ کر دشمنوں کےسامنےاپنی جان کی قربانی پیش کرنےسےدریغ نہیں کیا تھا وہ کیا جذبہ تھا کہ حضرت بلال حبشی کےساتھ کونسا ایسا ظلم تھا جو روا نہیں رکھا گیا مگر دشمنوں نےتو اپنی دانست میں حضرت بلال کو مار دیا تھا لیکن اللہ اور رسول کی محبت وہ ان کےدل سےمٹا نہ سکی۔ محبت کی یہ مثال بھی حضور کےعاشق ہی پیش کرتےہیں کہ حضرت خیبر کو اللہ کےرسول کی محبت کی سزا کےطور پر پھانسی لگانےسےپہلےیہ پیش کش کی کہ اگر
آپ یہ کہہ دیں کہ یہ پریشانی مجھےرسول کی وجہ سےپیش
آئی ہےتو آپ کو چھوڑ دیا جائےگا مگر انہوں نےجواب دیا کہ اگر مجھےیہ پتہ چلےکہ حضور کےپائوں پر کانٹا چبھنےلگا ہےاور میری جان دینےکےبدلےاگر کانٹا نہ چبھےتو مجھےیہ سودا منظور ہی۔ یہ تو ان عاشقان کا حال ہےکہ جنہوں نےحضور کی زیارت کی تھی اور انہیں دیکھا تھا لیکن حضرت اویس قرنی نےآپ کو نہیں دیکھا تھا مگر جب اس عاشق کو یہ معلوم ہوا کہ جنگ میں
آپ کا دانت مبارک شہید ہوا ہےتو اس عاشق صادق نےپتھر سےاپنا دانت توڑ ڈالا لیکن یہ جان کر کہ نجانےآپ کا کونسا دانت شہید ہوا ہےتو حضرت اویس قرنی نےپھر سےاپنےسارےدانت توڑ ڈالی۔ میرا خیال ہےکہ یہ ایسی قربانی اور ایسا جذبہ ہےکہ تاریخ انسانی اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ حالیہ ترقی کےدنوں میں انجکشن لگوا کر بھی دانت نکلوانے سےلوگ ڈرتےہیں۔ کجا یہ کہ پتھر سےدانت توڑےجائیں۔
حالیہ احتجاج کےدنوں میں بھی تو لوگوں نےدنیا میں کئی مقامات پر اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔ اسی لیےتو
آپ کا فرمان ہےکہ میرےبعد یعنی مجھےدیکھےبغیر جو لوگ اللہ اور اس کےرسول پر ایمان لائیں گےتو ان کےلیےستر گنا زیادہ ثواب ہی۔ اسی لیےتو اہل ایمان کا قول ہےکہ حضورمبارک کا نام نامی
آئےاور آنکھ سےآنسو نہ ٹپکےتو وہ مسلمان ہی نہیں بقول بزرگ ع
باخدا دیوانہ باشد بامحمد ہوشیار۔
|