|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تلاشِ امن
اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ یورپ کےمقتدر ممالک کی قیادت اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنےکےلیےفیصلہ کن وار کرنےکےلیےپرتول رہی ہےجس کا ثبوت ان کےقائدین کےبیانات سےلگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ برطانیہ میں سیون سیون کےدھماکوں کےبعد وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئر نےاسلام کےخلاف ہرزہ سرائی کی اور بیان دیتےہوئےکہا‘ ان کی جنگ ”شیطانی نظریی“ کےخلاف ہی۔“ اسی طرح امریکہ کےصدر بش نےان کی تائید کرتےہوئےکہا کہ سرد جنگ کےدور میں ہمارا نشانہ کمیونزم تھا اور اب اسلامی انتہا پسندی کو ہر صورت میں کچلنا ہمارا ہدف ہی۔
جلتی پہ تیل کا کام یہ ہواکہ امریکہ کےصدر جارج ڈبلیو بش نےڈنمارک کےصدر کو ٹیلی فون کیا ہےجس میں ڈنمارک کےاخبار کی تائید کی گئی ہےاور ڈنمارک کےصدر کو اس معاملےمیں اپنی پوری حمایت کا یقین دلایا ہی۔ اس بات کا اعلان ڈنمارک کےوزیراعظم اینڈ رز لوگ رسموسن نےایک پریس کانفرنس میں کیااور کہا کہ امریکی صدر بش نے توہین رسالت پر مبنی خاکوں کی اشاعت کےتنازع میں ڈنمارک کی حمایت کےاظہار کےلیےانہیں ٹیلی فون کیا۔ کوپن ہیگن میں ایک پریس کانفرنس سےخطاب کرتےہوئےڈنمارک کےوزیراعظم نےکہا کہ صدر بش نےاپنی حمایت کےاظہار کےلیےمجھےٹیلی فون کال کرکےاس حمایت کا اعادہ کیا ہےجو پہلےہی امریکہ سےہمیں موصول ہوچکی ہی۔
مغرب اس وقت عالمی سطح پر اسلام کےخلاف تہذیبی اور فکری جنگ لڑ رہا ہےاور یہ بات مفکرین پوری طرح باور کرا چکے ہیں کہ اگر وہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سےاسلام کی بنیادی تعلیمات کو بےدخل نہ کر سکےتو مغربی فلسفہ و فکر مستقل طور پر شکست خوردہ ہوکر رہ جائےگا ‘جس کی بقا کی کوئی صورت نہ ہوگی۔
ہماری اس بات کا عملی ثبوت امریکہ کےصدر بش کی وہ تقریر ہےجو انہوں نےچند روز قبل امریکی پارلیمنٹ کےدونوں ایوانوں کےمشترکہ اجلاس سےخطاب کرتےہوئےکی تھی۔ جارج بش کا لہجہ انتہائی درشت تھا۔ انہوں نےکہا ‘ ”اس سےقبل ہمیں روسی اشتراکی فلسفےکا مقابلہ تھا‘ لیکن اب ہم مسلم بنیاد پرستی کو دنیا کےہر حصےسےپوری قوت کےساتھ نکال کر دم لیںگی۔“ انہی خیالات کا اظہار انہوں نےافغانستان پر حملہ کرنےسےقبل کیا تھا اور دانستہ یا نادانستہ ان کی زبان سے کروسیڈو وار کےالفاظ پھسل گئی۔
سعودی حکمرانوں کا رویہ ڈنمارک میں خاکوں کی تشہیر کےحوالےسےقابل تعریف ہی۔ انہوں نےاس معاملےمیں سب سےپہلا انضباطی قدم اٹھایا اور احتجاج کےطور پر ڈنمارک سےاپنےسفیر کو واپس بلا لیا۔ اسی طرح کویت نےبھی اپنا سفیر ڈنمارک سےواپس بلالیا ہی۔ سعودی عرب کی حکومت نےاس معاملےمیں مزید بھرپور ردعمل کا اظہار کیا ہےاور اخبارات میں مسلمانوں کےنام اپیل شائع کرائی گئی ہےکہ وہ اپنی غیرت و حمیت کااظہار کرتےہوئےڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ یہ اشتہارات پورےمشرق وسطیٰ کےاخباروں میں نمایاں طور پر شائع ہو رہےہیں۔ حرمین شریفین کےآئمہ کرام بھی جمعہ کےخطبوں میں ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنےکی ترغیب دےرہےہیں۔ عرب ریاستوں کےبڑےبڑےسٹوروں پر یہ عبارت لکھی ملتی ہےکہ یہاں ڈنمارک کی مصنوعات فروخت کر لیےنہیں ہیں۔ پھر لیبیا نےبھی اپنےسفیر کو ڈنمارک سےواپس بلا لیا۔
پاکستان اسلامی ملک ہی۔ اسلام کےحوالےسےپورےعالم اسلام کی نظریں سب سےپہلےپاکستان ہی کی طرف اٹھتی ہیں او ر وہ پاکستان کےردعمل کو اپنے لیےاتباع اور تقلید کادرجہ دیتی ہیں۔ اس معاملےمیں پاکستان کا ردعمل توقع کےبرعکس تھا۔ پاکستان نےاس معاملےمیں پورےچار ماہ کےبعد ردعمل ظاہر کیا۔
یہ توہین آمیز خاکےشائع کرنےکی جسارت کا ایک پہلو یہ بھی نظر
آتا ہےکہ یورپ یہ جاننا چاہتا ہےکہ مسلمانوں میں مذہبی جذبات کےحوالےسےتناسب کا گراف کتنا ہی؟
آیا تمام مسلمان مذہبی انتہا پسند ہیں یا انتہا پسند مسلمان گروہ اقلیت میں ہےتاکہ وہ اس جائزےکےبعد اپنا اگلا ہدف شروع کرسکیں۔
یورپی میڈیا نےیہ گستاخانہ خاکےشائع کرکےانتہائی شاطرانہ چال چلی ہی۔
|