|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تلاشِ امن
اگر دنیا کےمسلمان اس پر احتجاج کرتےہیں تو آزادی اظہار کےبہانےیہ کہا جاسکےگا کہ
مسلمانوں میں تحمل نہیں ‘ برداشت کا مادہ نہیں اور یہی دلیل ان کے دہشت گرد
کہلانےکےلیےکافی ثبوت ہی۔ اگر مسلمان اس قبیح فعل کو برداشت کر لیتےہیں اور کسی
ردعمل کااظہار نہیں کرتےتو ان کی غیرت و حمیت کا اندازہ ہوجائےگا کہ مسلمان نہیں
راکھ کا ڈھیر ہےاور پھر ان کےوجود کو مٹانےکےلیےمزید کارروائی کرنےکےلیےآسانیاں
پیداہوں گی۔
کائنات کی جس عظیم شخصیت کو یورپی میڈیا آج دہشت گرد ثابت کرنےکی کوشش میں منظم
ہی‘ تاریخ شاہد ہےکہ دنیا میں امن کا قیام صرف اسی ذات والا صفات کار ہین منت ہی۔
نظر دوڑائیےامن کہاں تھا ‘ دنیا کا شرق دنیا کا غرب ‘ شمال بھی جنوب بھی امن کےلفظ
تک سےہی ناآشنا تھا۔ نسلی تفاخر اور تعصب نےانسانیت کو لب گور کر دیا تھا اور یورپی
دنیا صلیبوں کی پیدا کردہ بدامنی ہےپریشانی میں گھر چکی تھی۔ جارج سیل نےقرآن مجید
کا انگریزی ترجمہ کیا ہی۔ وہ چھٹی صدی عیسوی کےعیسائیوں کےبارےلکھتا ہی:
”مسیحیوں نےبزرگوں اور حضرت مسیح کےمجسموں کی پرستش میں اس درجہ تک غلو کیا کہ
اس زمانےکےرومن کیتھولک بھی اس حد کو نہیں پہنچی۔“ پھر نفس مذہب سےمتعلق کلامی
مباحث ابھر آئےاور بےنتیجہ اختلافات کی شورش نےقوم کو الجھا دیا‘ جس میں ان کی
ذہانتیں ضائع ہوئیں اور قوائےعملیہ شل ہوگئی۔ ان خانہ جنگیوں نےبڑےپیمانےپر خونی
معرکوں کی شکل اختیار کر لی۔ مدارس‘ کلیسا اور لوگوں کےمکانات حریف کیمپ بن
گئےتھےاور پورےکا پورا ملک خانہ جنگی کا شکار تھا۔ بحث یہ تھی کہ حضرت مسیح کی فطرت
کیا ہےاور اس میں الٰہی اور بشری جزو کس تناسب سےہیں؟ روم و شام کےملکانی عیسائیوں
کا مذہب یہ تھا کہ حضرت مسیح کی فطرت مرکب ہے‘اس میں ایک جزو الٰہی اور ایک بشری‘
لیکن مصر کے منوفئیشی عیسائیوں کا اصرار تھا کہ حضرت مسیح کی فطرت خاص الٰہی ہے‘ اس
میں ان کی فطرت بشری اس طرح فنا ہوگئی ہےجیسےسر کےایک قطرہ سمندر میں گر کر اپنی
ہستی کو گم کر دیتا ہی۔ پہلا مسلک گویا حکومت کا سرکاری مسلک تھا۔ بازنطینی سلاطین
و اہل حکومت نےاس کو عام کرنےاور پوری مملکت کا واحد مذہب بنانےمیں پوری قوت صرف کی
اور مخالفین مذہب (مبتدعین) کو سخت ترین سزائیں دیں‘ جن کےتصور
سےرونگٹےکھڑےہوجاتےہیں۔ مگر اختلاف اور مذہبی کشمکش بڑھتی ہی رہی۔ دونوں فریق ایک
دوسرےکو ایسا خارج از مذہب اور بےدین سمجھتےتھی‘ جیسے دو متضاد مذاہب کےپیرو ۔ قیرس
کی نیابت مصر کےدس سال (631ءتا 641ئ) کی تاریخ وحشیانہ سزائوں اور لرزہ خیز مظالم
کی داستانوں سےلبریز ہی۔ (انسانی دنیا پر مسلمانوں کےمروج و زوال کا اثر ‘ صفحہ
41تا 43)
ایسےحالات میں کائنات کی عظیم ترین شخصیت محمد کےخلاف اپنا خبث باطن ظاہر
کرنےسےپہلےاپنےاکابر عیسائی مصنفین کی آراءکا ہی مطالعہ کر لیتیں۔ چنانچہ
انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کا مقالہ نگار لفظ محمد کےتحت لکھتا ہی:
”بہت کم لوگوں کو اتنا زیادہ بدنام کیا گیا ہے‘ جتنا کہ محمد کو بدنام کیا گیا
ہی‘ قرون وسطیٰ کےیورپ کےمسیحی علماءنےان کو (نعوذ باللہ) فریبی‘ عیاش اور خونی
انسانوں کےروپ میں پیش کیا‘ حتیٰ کہ آپ کےنام کا ایک بگڑا ہوا تلفظ مہاونڈ (نعوذ
باللہ) شیطان کےہم معنی بنا دیا گیا ہی۔“ (ماہنامہ دارالعلوم دیوبند ‘ صفحہ18)
اسی انسائیکلوپیڈیا
آف برٹانیکا میں اسلام کےchapterکےآغاز پر مسلمان کی ایک خیالی تصویر دی گئی ہے‘جس میں اس کی شکل بھی انتہائی بھیانک ہی‘ اس کےایک ہاتھ میں تلوار ہےاور دوسرےہاتھ میں قرآن دکھایا گیا ہےوہ گھوڑےپر سوار تلوار لہراتا اور گھوڑےکو دوڑاتا ہوا
آ رہا ہے اس تصویر سےیہ ثابت کرنا مقصود ہےکہ اسلام تلوار کی دھار سےپھیلا ‘ نیز مسلمان انتہائی دہشت پسند قوم ہیں۔ اس تصویر کےبارےمیں پروفیسر
آرنلڈ اپنی کتاب The Preaching of Islamمیں لکھتےہیں:
”مسلم مجاہد کی وہ خیالی تصویر بھی حقیقت سےبہت دور ہےجس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرےمیں قرآن دکھایاگیا ہی۔ اسلام کی صحیح روح کا مظہر وہ مسلمان مبلغ تاجر ہیں‘ جنہوں نےنہایت خاموشی کےساتھ اپنےدین کو روئےزمین کےہر خطےمیں پہنچایا ہی۔“ (ماہانہ دارالعلوم دیوبند‘ صفحہ26)۔
|