|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تلاشِ امن
ایک برطانوی مصنفہ کرن
آرمسٹرانگ نے سیرت رسول پر کتاب لکھی ہی‘ جس کا نام Muhammad a Western Attempt to Understanding Islamہی۔ اس کتاب میں اس نےحقیقت کا اعتراف کرتےہوئےلکھا ہی۔
”محمد ایک ایسےمذہب اور تہذیب کےبانی تھے‘جس کی بنیاد تلوار پر نہیں تھی‘ مغربی پروپیگنڈےاور افسانےکےباوجود اسلام کا نام امن اور صلح کا مفہوم رکھنےوالاہی۔“ (ماہنامہ دارالعلم دیوبند ‘ صفحہ27)
ہم یہ کہنےمیں حق بجانب ہیں کہ اس وقت تثلیث کےفرزندوں کی قیادت چند جنونی اور انتہا پسند لوگوں کےہاتھوں میں
آچکی ہی۔ وہ اپنےقول و عمل سےمسلمانوں اورعیسائیوں کےمابین ایک خلیج حائل کرنےکی کوشش میں ہیں ‘ جبکہ عیسائی دنیا کا اکثر طبقہ صلح جو اور صلح پسندہی۔ اگر یہ خلیج بڑھتی رہی تو کہیں ایسا نہ ہوکہ مسلمانوں اور دنیا بھر کےعیسائیوں میں ایسا مکانی فاصلہ پیدا ہوجائےکہ جس کو پاٹنا مشکل بن جائےاور اس فاصلےکی وجہ سےامن کی متلاشی دنیا تباہی سےدوچار ہوکر رہ جائی۔ یہ وہی خطرہ ہے‘ جس کی طرف مسلم امہ کےاکابرین جن میں صدر مشرف وزیراعظم شوکت عزیز سےلےکر سعودی عرب کےشاہ عبداللہ اردن کےشاہ عبداللہ تک سب توجہ مبذول کراتےچلےآ رہےہیں۔
یورپی یونین کو ہوش اور تدبر سےکام لینا چاہیےاور مسلمانوں کو بند گلی میں دھکیلنےکی بجائےان کےبنیادی حقوق کا احترام کرنا چاہیی۔ اگر انہوں نےاس معاملہ میں دانش مندی سےکام نہ لیا تو انہیں یہ بات باور کر لینی چاہیےکہ ناموس رسالت کی حفاظت محمد کےساتھ محبت اور عشق رسول ‘ وہ بنیادی نکتہ ہےکہ جس پر مسلمانوں کےہاں
compromiseکا کوئی امکان نہیں۔
محمد کی محبت دین حق کی شرط اوّل ہی
اسی میں ہو اگر خامی تو ایماں نامکمل ہی
مسلمانوں کی چودہ سو برس کی تاریخ اس بات کی شاہدہےکہ ادنیٰ سےادنیٰ مسلمان بھی
اس معاملہ میں بہت حساس ہی۔ وہ اپنی جان ‘ مال‘ عزت آبرو حتیٰ کہ اپنی اولاد کو
ناموس رسالت پر قربان کرنےسےدریغ نہیں کرتا۔ مسلمان کٹ سکتا ہے‘ مر سکتا ہے‘ لیکن
ناموس رسالت پرآنچ نہیں آنےدیتا۔ یورپ کی میڈیائی مہم نےمسلمانوں کو بےعمل ضرور کر
دیا ہی‘ لیکن ناموس رسالت کےمعاملےمیں مسلمان بےحمیت یا بےغیرت نہیں‘ نہ کبھی
ہوسکتےہیں۔ مسلمانوں کی عورتیں بانجھ نہیں‘ وہ اب بھی ٹیپو سلطان شہید‘ غازی علم
الدین شہید‘ سلطان صلاح الدین ایوبی جیسےسپوتوں کو جنم دےسکتی ہیں۔
|