|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مسلمانوں کو ناقابل تسخیر بننا ہوگا
یہودی جو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کےادوار میں عیسائیوں کےہاتھوں لاکھوں کی تعداد میں جہنم واصل ہوئےاچانک عیسائی قوتوں کےدل پسند ہوگئےباہم شیر و شکر ہوکر انہوں نےان مسلمانوں کو ہر سطح پر معاشی سیاسی اقتصادی اور عسکری اعتبار سےغلام بنانےکےلیےسازشیں شروع کر دیں جنہوں نےفتح بیت المقدس کےموقع پر اپنےجانی دشمن کو بھی معاف کرنےکی روایت کو زندہ کرتےہوئےیہودیوں اور عیسائیوں سےصلہ رحمی کا سلوک کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں اس وقت عالمی سطح پر اگر عیسائیوں اور مسلمانوں کےمابین تہذیبی جنگ کا برملا
آغاز ہوچکا ہےتو اس کےپس منظر میں وہی یہودی کار فرما ہیں جو اپنےطےشدہ پروٹوکولز پر عمل پیرا ہوتےہوئےساری دنیا کوتصادم کےراستےپر گامزن کرکےخود کو ہر اعتبار سےحاکم و بالا قرار دینےکی جستجو میں ہر لمحےمصروف ہیں کون نہیں جانتا کہ اس وقت امریکہ سمیت تمام یورپی ممالک کی معیشت پر یہودیوں کو مکمل کنٹرول حاصل ہی۔ وہ تعداد میں تھوڑےہونےکےباوجود ان ممالک کےحکومتی ایوانوں میں اس قدر طاقت ور اور بااثر ہیں کہ ان کی مرضی کےبرعکس کوئی قانون یا پالیسی منظور نہیں کی جاسکتی حالانکہ 9/11 ستمبر کےسانحہ کےذمہ دار خود یہودی تھےلیکن انہوں نےمسلمانوں پر اس تباہی کا الزام اتنےوثوق سےلگایا کہ طاقت ور عیسائی ممالک کی توپوں کا تمام تر رخ نہتےاور بےوسائل مسلمان ممالک کی جانب ہوگیا بدقسمتی مسلمان ممالک صرف ایمان کی کمزوری کی بدولت خود کو امریکہ اور اس کےحواریوں کا غلام ہی تصور کرتےہیں اس لیےاس نازک لمحےکوئی مشترکہ حکمت عملی وضع کرنےکی بجائےافغانستان اور پاکستان کو امریکی اور اتحادی جارحیت کا شکار ہونےکےلیےتنہا چھوڑ دیا گیا ۔امریکہ اور اس کےاتحادیوں نےطاقت کےبل بوتےپر افغانستان پر قبضہ کرکےوہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرلی جبکہ ان طاقتوں نےپاکستان کو عسکری طاقت کےبغیر ہی اپنا غلام بنالیا۔
امریکہ اور اس کےاتحادیوں کو اس بات کا علم تھا کہ اسلامی ممالک میں صرف پاکستان ہی واحد ایٹمی طاقت ہےاگر اسےمطیع بنا لیا گیا تو کسی اور اسلامی ملک کی جانب سےجوابی یلغار کی توقع نہیں کی جاسکتی اور ہوا بھی یہی‘ اب
آپ ہی دیکھ لیں کہ ایک طرف پانچ بڑی عیسائی طاقتوں سمیت اسرائیل نےبھی جارحانہ ایٹمی صلاحیت حاصل کر رکھی ہےلیکن اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل اسرائیل کےخلاف اقتصادی پابندیاں لگانےکی بجائےصرف ایران کواقتصادی اور عسکری اعتبار سے نشانہ بنانےپر تلی ہوئی ہےکہ ایک طرف ساری عیسائی اور یہودی دنیا کھڑی ہےتو دوسری طرف صرف ایمان کی قوت سےمالا مال ایران کھڑا نظر
آتا ہے۔ مستقبل میں کیا ہوتا ہےاس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کو ہے لیکن عیسائیوں اوریہو دیوں نےنبی کریم کی شان میں گستاخی سےلبریز کارٹون بنانےاور اسے اہتمام سےاپنےاخبارات میں اہتمام سےچھپانےکا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہےاس نےمردہ دل مسلمانوں کےضمیر کو بھی بیدار کرکےرکھ دیا ہےاس مکروہ اور توہین
آمیز اقدام کےخلاف دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سےزبردست احتجاج جاری ہی۔ حیرت کی بات تو یہ ہےکہ ایک جانب ناروےکا سفیر سعودی عرب میں بند کمرےمیں مسلمانوں سےمعافی کا خواستگار ہےاور دوسری جانب ڈنمارک ‘فرانس‘ اٹلی اور امریکہ کےاخبارات میں تسلسل سےاہانت
آمیز کارٹونوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہی۔ مسلمانوں کےشدید ترین احتجاج کےباوجود اب تک چالیس اخبارات ان کارٹونوں کو شائع کر چکےہیں۔ ہر روز سینکڑوں کےحساب سےایسی ویب سائٹس لانچ کی جا رہی ہیں جن پر یہ اہانت
آمیز کارٹون بڑےاہتمام سےپیش کئےجارہےہیں ان ویب سائٹوں پر کارٹونسٹوں کو دعوت دی جا رہی ہےکہ وہ پیغمبراسلام کےبارےمیں مزید کارٹون اور
آراءارسال کریں ۔اس گستاخانہ مہم کو چلانےکےلیےان ویب سائٹوں پر چندہ ارسال کرنےکی اپیل بھی کی جارہی ہی۔
اس صورت حال نےساری دنیا کو
آتش فشاں بنا کےرکھ دیا ہی۔ مسلمان جو تمام نبیوں کا دل و جان سےاحترام کرتےہیں وہ کبھی برداشت نہیں کرسکتےکہ کوئی ان کےنبیکی شان عظیمی کےحوالےسےکوئی ایک توہین
آمیز لفظ بھی اپنی زبان سےنکالےیہ ہر مسلمان کےایمان کا حصہ ہی۔
ایک انگریز صحافی کےبقول مسلمان مذہب کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتےہیں اور صدیوں
کےسفر اور تغیرات کےباوجود ان کی یہ سوچ برقرار ہےجبکہ عیسائیوں اور یہودیوں
نےعملاً زندگی سےمذہب کو علیٰحدہ کر رکھا ہےاس لیےاب وہ مسیحت بمقابلہ اسلام کی
نہیں بلکہ مغربی تہذیب بمقابلہ اسلام کی بات کرتےہیں۔
|