|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مسلمانوں کو ناقابل تسخیر بننا ہوگا
انہوں نےفرمایا کہ اپنےملک میں دہشت گردی کرنےوالوں کےسرپرست ملکوں پر ہم ایٹمی حملہ کرنےسےبھی نہیں ہچکچائیں گی۔ گویا عالمی سطح جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی پالیسی لاگو ہوچکی ہی۔ ان دھمکی اور زیادتی
آمیز ماحول میں اقوام متحدہ کا وجود تو بےوقعت ہوکر رہ چکا ہےکیونکہ عملاً پوری دنیا پر امریکہ اور اس کےیورپی اتحادیوں کی حکمرانی ثابت ہوچکی ہےاور ان تمام طاقت ور ممالک کا مشترکہ دشمن مسلمان ہی ہیں جن کو انہوں نےاپنی لغت میں دہشت گرد قرار دےرکھا ہےیہ ممالک اسلام کو اپنا دشمن نمبر ون قرار دےکر وقتاً فوقتاً ان پر نہ صرف عسکری اقتصادی اور معاشی یلغار کرتےرہتےہیں بلکہ انہوں نےمسلمانوں کےایمان اور ان کےجذبہ جہاد کو متزلزل کرنےکےلیےفرقان الحق کےنام سےایک کتاب کی اشاعت بھی شروع کر رکھی ہےجس کےابتدائی چند پارےشائع ہوکر مارکیٹ میں
آچکےہیں۔ اگر مسلمان اب بھی خاموش رہےتو مستقبل میں یہی یہود و نصاریٰ قرآن پاک کی بےحرمتی اور مسلمانوں کا سب سےمقدس مقام خانہ کعبہ کی تضحیک کا بھی ارادہ رکھتےہیں اس لیےضرورت اس امر کی ہےکہ حالات سےسبق سیکھ کر مستقبل کی پیش بندی کی جائےصرف ڈنمارک کی بنی ہوئی ادویات اور اشیا کےبائیکاٹ سےکوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ مسلمان بذات خود ایسی ادویات بنانےکی پوزیشن میں نہیں ہیں اس لمحےہمیں یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیےکہ اگر ڈنمارک کےبائیکاٹ کا بہانہ بناکر تمام یورپی ممالک اور امریکہ مسلمانوں کو اپنی ادویات اور دیگر اشیائےخوردنوش کی فراہمی بند کر دیں تو کیا مسلمان‘ یہودیوں اور عیسائیوں کی اس یلغار کا مقابلہ کرنےکی صلاحیت رکھتےہیں اس لیےڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کےخلاف صرف احتجاج ہی کافی نہیں ہےبلکہ عربوں سمیت تمام مسلمانوں کو یورپ اور امریکہ سےاپنا تمام سرمایہ (جو انہوں نےسٹاک مارکیٹوں‘ جائیدادوں کی خرید میں لگا رکھا ہی) وہاں سےنکال کر اس سرمایےسےمسلمان ملکوں میں ہی اپنی ضرورت کی ادویات اور دیگر اشیائےخوردو نوش تیار کرنےکےطویل المعیاد منصوبےتیار کرکےان پر عمل کرنا چاہیےپھر جس طرح یورپی ممالک نےڈالر کےمقابلےمیں یورو کرنسی متعارف کروا کر اپنی حیثیت امریکہ سےتسلیم کروالی ہےاسی طرح اسلامی ممالک بھی اپنی مشترکہ کرنسی‘ مشترکہ دفاعی صلاحیت کےساتھ ساتھ مشترکہ افواج بنانےکا بھی نہ صرف اعلان کریں بلکہ اس پر فوری طور پر عمل بھی شروع کر دیں ۔ اس وقت ایٹمی پروگرام کو ترقی دینےپر امریکہ سمیت سارا یورپ برادر اسلامی ملک ایران کےتعاقب ہےیہی لمحہ ہےکہ اسلامی ممالک ایران کی پشت پر کھڑےہوکر امریکہ سمیت یورپی ممالک کو یہ احساس دلائیں کہ اگر ایٹم بم بنانا امریکہ یورپی ممالک اور اسرائیل کا حق ہےتو اسلامی ممالک بھی اپنےدفاع کا حق محفوظ رکھتےہیں اور وہ اپنا دفاع کسی اور کے سپرد نہیں کر سکتےاس وقت صرف پاکستان ایٹمی طاقت ہےاگر ایران ‘ترکی‘ شام ‘ انڈونیشیا اور ملائیشیا بھی ایٹم بم بنا لیتےہیں تو امریکہ سمیت کسی یورپی ملک کےکسی اخبار کو جرا¿ت نہیں ہوگی کہ وہ مسلمانوں اور ان کےآقا حضرت محمد کےبارےمیں کوئی توہین
آمیز کارٹون یا لفظ ہی کہہ سکےاس وقت ایک ارب سےزائد مسلمان امریکہ اور یورپ کےرحم و کرم پر اس لیےہیں کہ یہ دفاعی اور اقتصادی اعتبار سےبالکل مفلوج اور کمزور بن چکےہیں۔
اللہ کی عطاکردہ دولت تو ان کےپاس وافر مقدار میں موجود ہےلیکن اس دولت کو
استعمال کرکےدوسروں سےاپنی حیثیت کو منوانےکا جذبہ اور اہمیت کی شدید کمی ہےیہ جذبہ
اور ولولہ اسی وقت پیدا ہوسکتا ہےجب دنیا کےتمام مسلمان یک جان اور یک قالب ہوکر
اپنےوسائل کو بروئےکار لا کر صرف اور صرف امت مسلمہ کی ترقی اور خوشحالی کےبارےمیں
سوچیں اور اپنی ضرورت کی ہر چیز اپنےہاں پیدا کریں یابنائیں غیروں کی غلامی کا طوق
گلےسےاتار پھینکیں ‘ اہانت آمیز کارٹونوں کی اشاعت روکنےکا میری نظر میں یہی ایک
طریقہ ہی۔
|