|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
نیل کےساحل سےلےکر تابہ خاک کا شغر تک
وہی سلمان رشدی جس کی مغرب نےآزادی فکر کو بنیاد بنا کر حمایت کی ‘ اسی ملعون رشدی کےخلاف جب 1993ءمیں مصر کی عدالت کےاستفسار پر شیخ محمد الغزالی نےقتل کا فتویٰ دیا ‘ امام خمینی نےواجب القتل قرار دیا تو اسےآزادی فکر کےخلاف قرار دیا گیا۔ کیا
آزادی فکر کا وہی مطلب درست ہے‘ جسےمغرب صحیح تسلیم کری۔ کیا کسی قوم ملک اور معاشرےکےمذہبی مجرموں کو پناہ دینا اور انہیں اعزازات سےنوازنا رواداری کےزمرےمیں
آتا ہی؟ تو سابق امریکی صدر بل کلنٹن نےسلمان رشدی سےملاقات کرکےآخر اسےکسی بات پر شاباش دی تھی؟ سوئیڈن کےوزیراعظم نے تسلیمہ نسرین کا استقبال کرکےاسےکس لیےاعزاز سےنوازا؟ پابندی اگر لگتی بھی تو بوسنیا کےسابق مرحوم صدر عالی جاہ عزت بیگووچ کی مشہور عالم کتاب Islam between East and Westپر لکھی ہی۔ فرانسیسی کسٹم حکام اگر سیل لگاتا ہےتو ابوالحسن علی ندوی ‘ سید قطب شہید اور محمد عبدہ کی کتابوں پر لگاتا ہی۔ ایک عشرےقبل فرانس اور یورپ کےکئی ممالک نےجنوبی افریقہ کےمشہور مسلمان مناظر جناب احمد دیدات کی اٹھارہ کتب پر پابندی لگائی جن کےعنوانات تھے: کیا سلمان رشدی نےمغرب کو بےوقوف بنایا؟ کیا بائبل (انجیل نہیں) کلام الہٰی ہے‘ عیسیٰ اسلام کی نظر میں پیغمبر ہیںاور قرآن معجزہ¿ عظیم۔
سرکاری گزٹ (5جون 1995ئ) میں کہا گیا کہ ان کتابوں پر ان کےتند و تیز لہجےاور مغرب مخالف ہونےکی وجہ سےپابندی لگائی گئی اور ان کتب کی اشاعت و ترسیل کی وجہ سےمفاد عامہ کو خطرہ اور مذہبی حقوق مجروح ہونےکا اندیشہ تھا۔ مسلمان مصنفین کی کتب اور مسلمان ممالک کےرسائل و جرائد پر پابندیاں کہ ان کی تحریر میں مغرب پر تنقید کا ہلکا سا عنصر بھی یورپ کی منبع نازک پر گراں گزرتا ہی‘ خود چاہےاسلام ‘ اسلامی شعائر ‘ اسلامی عقائد حتیٰ کہ رسول اکرم کی ذات عالی صفات کو نشانہ طنز و تضحیک بنائیں۔ اس کےبرعکس سلمان رشدی ملعون کےجواب میں برطانیہ کےپاکستانی ڈاکٹر بشیر اختر نےکتاب لکھی تو کوئی برطانوی پبلشر اسےشائع کرنےکو تیار نہ تھا‘ بلکہ مصنف کو کتاب لکھنےکے”جرم“ میں اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ برطانیہ چھوڑنےپر مجبور ہوگئی۔گویا کہ اسلام کےخلاف بولنےلکھنےکی پوری
آزادی اور اسلام کےحق میں لکھنےپر پابندی ‘ کیا یہ
آزادی اظہار رائےکےزمرےمیں نہیں
آتا۔
یورپ کےچند ممالک ایسےبھی ہیں‘ جہاں نازی ازم کی تکریم و ستائش اور یہودیوں کےقتل عام کےواقعات سےانکار کرنا قانوناً جرم ہی۔ ہٹلر کا دفاع کرنےوالا خود اپنا دفاع کرنےکےقابل نہیں رہتا۔ جب کبھی کسی نےHOLOCAUST کےتاریخی نظریےپر قلم اٹھانےکی ہمت کی تو ANTI-SEMETI کہلایا ‘اور ہدف تنقید بنا۔
اہل مغرب‘ آزادی اظہار کا عذر پیش کرکےمسلم دنیا کےتقریباً ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل
آزاری کرنےکی جو بھی توجیہہ پیش کریں۔ امر واقعہ یہ ہےکہ اس کا سرےسےکوئی جواز نہیں۔ اگر مغرب اپنی اس عاقبت نااندیشانہ نہج سےباز نہ
آیا تو پھر مسلم دنیا میں موجود انتہا پسندوں کی تعداد میں اضافےکی ذمےداری صرف ان مغربی ممالک کی حکومتوں اور ذرائع ابلاغ پر ہوگی‘جو اظہار رائےکو دل
آزاری ‘ فتنہ انگیزی‘ شرپسندی اور دہشت گردی کی ایک خوف ناک شکل بنا رہےہیں۔ دنیا کا کوئی قانون اور کوئی ضابطہ¿ اخلاق کسی بھی پیغمبر کی توہین و تضحیک کےڈانڈےاظہار رائےکی
آزادی سےملانےکی اجازت نہیں دیتا۔
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت عالم اسلام کےخلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہی‘ جس کا
مقصد مسلمانوں کےردعمل پر انہیں دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دےکر ان کےخلاف
اقدامات کا جواز پیدا کرنا ہی۔
|