|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
نیل کےساحل سےلےکر تابہ خاک کا شغر تک
رواداری کا درس دینےوالےبعض ”ماڈریٹ “ حلقےاس بات پر مُصر ہیں کہ اہل مغرب مسلمانوں کی اسلام اور بانی اسلام حضرت محمد کی عزت و توقیر اور اس بارےمیں ان کی حساسیت سےقطعی ناواقف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ مغربی دنیا میں عوام مادی زندگی کی فراوانی اور سہولتوں کےاس قدر مطیع ہوچکےہیں کہ ان کا مذہب کےساتھ صرف رسمی تعلق ہی باقی ہی۔ اگر مغرب میں مروجہ مذاہب یا ان کےمقدس بانیان کےبارےمیں کچھ لکھ دیا جائےتو وہ ٹس سےمس نہیں ہوتی۔ ایسےحلقوں کےلیےہمارا عرض مدعا ہےکہ یک طرفہ طور پر اعتدال پسندی‘ میانہ روی ارو روشن خیالی کےنام پر ایسےتوہین
آمیز رویےکو برداشت کرنا اسلام اور ایمان کےتقاضوں سےکوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ مغرب خود کو سیکولر کہتا ہی‘ لیکن تین چوتھائی مغربی ممالک میں حضرت عیسیٰ مسیح کی توہین قانوناً جرم مستوجب تعزیر ہی۔
آج کوئی عیسائی حضرت عیسیٰ کی توہین برداشت کرنےکےلیےتیار نہیں۔ عیسائی کیا کوئی مسلمان بھی ایسا کرنےکا سوچ بھی نہیں سکتا‘ کیوں کہ تمام انبیاءعلیہم السلام پر ایمان و ایقان اسلام کا خاصا ہی۔ مسلمان خواہ شعار اسلامی کی پوری طرح پابندی نہ کرنےوالا معتدل مزاج ہی کیوں نہ ہو‘ وہ گستاخ رسول و انبیاءعلیہم اسلام نہیں ہوسکتا۔ اگر ان کی توہین کا کوئی شائبہ بھی سامنےآئےتو اس کےدل و دماغ میں اضطراب پیدا ہوجاتا ہی۔
جس غیظ و غضب کا مظاہرہ پوری دنیا میں ہم دیکھ رہےہیں۔ یہ بالکل قابل فہم ہےجس
کےنتائج کا تعین فی الوقت ممکن نہیں۔ اگر معاملات کی سنگینی کو مزید بڑھنےسےروکا نہ
گیا اور بےبہرہ حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نےاعلی سطحوں پر ان توہین آمیز اقدامات کی
مذمت نہ کی تو اس کےنتیجےمیں تہذیبوں کےمابین تصادم باہمی مفائرت اور ٹکرائو کا
خطرہ خارج از امکان نہیں۔
|