|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
امریکہ میں (نعوذباللہ)نقلی قرآن کی گھر گھر تقسیم
‘لیکن ہمیں اس اضطراب میں مبتلا کرنےوالےاپنےبنائےہوئےخاکوں کو اظہار رائےاور
آزادی صحافت کا نام دےکےدنیا کی
آنکھوں میں دھول جھونک رہےہیں اور ہمارے جذبات بےقابو کرکےحقیقت میں مسلمانوں کےدہشت گرد ہونےکےجھوٹےدعوئوں کو دلائل فراہم کرنا چاہتےہیں‘یعنی وہ منصوبہ جو پتہ نہیں یہود و نصاریٰ کےتھنک ٹینکوں نےکتنےبرس پہلےتیار کیا تھا‘ اس منصوبےپر اب غالباً پوری طرح عمل جاری ہی۔
آپ صرف زنجیری کی کڑی سےکڑی ملانےکی زحمت کیجیے¿۔ ایک نقطےسےدوسرےنقطےتک صرف ایک لائن کھینچےتو یہ منصوبہ اتنا واضح ہوجاتاہےکہ اندھےکو بھی نظر
آنےلگتا ہے۔ماضی میں زیادہ دور جانےکی ضرورت نہیں ہی۔ تھوڑا سا پیچھےجائیےتو ”شیطانی
آیات“ کےنام سےکتاب کےذریعےسلمان رشدی کو سامنےلایاگیا‘ مسلمانوںکو برانگیختہ کرنےکےلیےاس کی کتاب کو یورپ میں پذیرائی دی گئی اور تحفظ کےساتھ برطانیہ میں پورےاعزاز و احترام کےساتھ ہیروبنا کےرکھا گیا۔پھر اس میدان میں دوسرا مہرا اتار گیا‘ تسلیمہ نسرین ایسی ہی ایک دلخراش اور اسلام دشمنی کا مرقع کتاب بنگلہ دیش میں سامنےلائی اسےبھی یورپ احترام کے ساتھ برطاینہ کےحفاظت خانےمیں محفوظ کر دیاگیا‘ تسلسل کےساتھ یہ ایک کام ہو رہا تھا کہ اس ڈرامےکا ایک بہت بڑا منظر نائن الیون کی صورت میں سامنےآیا اور بلاجواز بغیر دلیل و ثبوت علی الاعلان مسلمانوں کواس جرم کا محرم ٹھہرا دیا گیا حالانکہ جو طیارےاس واقعےمیں استعمال ہوئےتھےان میں سفر کرنےوالےنہ کسی مسافر کا
آج تک کوئی پتہ چلا ہےنہ ثبوت کےساتھ کسی دہشت گرد کی کوئی واضح نشاندہی ہوئی ہےپھر اس کےبعد افغانستان اور عراق میں جوکچھ ہوا وہ دنیا کےسامنےہےلیکن یہ معاملہ ابھی رکا نہیں کیونکہ ابھی مسلمان سرنگوں نہیں ہوئی۔ ہزار ظلم سہنےاور قتل و خونریزی سےبےجان ہونےکےباوجود مسلمانوں کے دلوں سےنہ محبت رسول نکل سکی ہےنہ عظمت قرآن میں کمی
آئی ہےاور نہ اسلام سےوابستگی کا جذبہ سرد پڑا ہی۔
بعض باتیں تو ایسی ہیں کہ جو ابھی پاکستانی پریس تک نہیں پہنچیں اس لیےکہ
منصوبہ ساز اپنےمنصوبےکےتحت تھوڑے تھوڑےوقفےکےساتھ نئےسےنیا شوشہ چھوڑتےجا رہےہیں۔
ماہنامہ ”الحق“ کےجنوری فروری کےمشترکہ شمارےمیں موجود تفصیلات کےمطابق حال ہی میں
امریکہ میں ایک نئےشیطان کو سامنےلایا ہےجس کا نام انیس شورش ہےاس شیطان نےمعاذ
اللہ عظمت و حرمت قرآن پر ہاتھ ڈالنےکی جسارت کی اس نے”الفرقان الحق“ کےنام سےمعاذ
اللہ قرآن کا جواب عربی اور انگریزی میں لکھ کر شائع کیا ہی۔ یورپ اور عرب ممالک
میں اس کی وسیع پیمانےپر مختلف اسلام دشمن قوتوں کی طرف سےتشہیر کی جا رہی ہےاور
اسےپھیلانےکی پوری کوشش ہو رہی ہی۔ جمیعت احیاءالتراث کویت کےہفتہ روزہ
مجلے”الفرقان“ کےمطابق اس نسخےکی قیمت تین امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہی۔ اس کا
انٹرنیٹ ایڈیشن بھی جاری کر دیا گیا ہی۔امریکہ سےشائع ہونےوالےمشہور معروف
جریدے”صورت العربیہ“ کےچیف ایڈیٹر ولید بن رباح کےبقول اسےاس کتاب کی تشہیر کےلیےدو
ملین ڈالر دینےکی پیشکش کی گئی‘ اس شرط کےساتھ کہ یہ کتاب ہرقاری کےگھر پہنچےاور کم
از کم دس بار شائع ہو ۔حرمت قرآن کےخلاف یہ ناپاک جسارت کرنےوالا شخص انیس شوروش
اپنےآپ کو الصلی ‘ المہدی اور معاذ اللہ مہدی منتظر جیسےالقاب سےملقب کرتا
ہی۔”الفرقان الحق“ میں 77 سورتیں ہیں جن میں قرآن مجید کی کئی آیات کوبھی توڑ مروڑ
کر شامل کیا گیا ہی۔ اس کےاکثر مضامین اسلامی تعلیمات کی تحقیر ‘ نبی کی شان میں
گستاخی ‘ مسلمانوں کےتمسخر ‘عظمت انجیل‘ عیسائیت کی تبلیغ ‘ اسلام کےاحکامات اور
قرآنی تصورات جنت اور جہاد وغیرہ کےانکار پر مشتمل ہیں۔ یہ شخص امریکہ میں اپنےایک
لیکچر میں کہتا ہی۔”مسلمانوں نے2020ءتک امریکہ کو فتح کرنےکا جامع منصوبہ بنایا ہوا
ہےاور اس کا پہلا مظہر نائن الیون کا حملہ تھا۔“ نائن الیون کےدو دن بعد انیس شورش
نےامریکی ریاست ہیوسٹن کی یونیورسٹی میں جو لیکچر دیا اس میں اس بات کا برملا اظہار
کیا: ”مسلمانوں کو صفحہ ہستی سےمٹا دیاجائی۔“ قرآن کی بےحرمتی کرتےہوئےاس کےیہ
الفاظ بھی اس کےلیکچر کا حصہ تھےکہ ”اس وقت دہشت گردی کا اولین مصدر و منبع قرآن
ہےلہٰذا ضروری ہےکہ (معاذاللہ) قرآن کو ختم کیا جائےتاکہ دہشت گردی ختم ہوسکی۔“
قرآن کےخلاف یہ وہی تباہی بکنےوالا انسانی حقوق کےعلمبرداروں کےملک میں علی الاعلان
امریکہ سےیہ کہتےہوئےبھی نہیں شرماتا نہ اسےکسی سزا کا خوف ہےکہ ”وہ مسلمانوں کو
امریکہ سےنکال دےاور تمام مسلمانوں کو مشرق وسطیٰ میں جمع کرنےکےبعد ان کو
ہائیڈروجن بم سےاڑا دی۔“ توہین آمیز خاکوں ‘ حرمت قرآن کےخلاف اس ہرزہ سرائی اور
مسلم امہ کےبارےمیں ان دہشت پسندانہ خیالات کا اظہار کرنےوالا امریکہ میں امن و چین
کےساتھ زندگی گزار رہا ہی۔
|