|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
امریکہ میں (نعوذباللہ)نقلی قرآن کی گھر گھر تقسیم
سارےیورپ اور امریکہ نےان دہشت پسندانہ خیالات سےآگاہ ہونےکےباوجود کوئی اقدام نہیں کیا۔انیس شوروش کےبیانات ایک جنونی دہشت گرد کےوحشیانہ خیالات و افکارہیں۔ مسلمانوں کی پاک کتاب اور اسلام کےروشن اصولوں کےخلاف اور پیغمبر اسلام حضرت محمدکی شان اقدس میں گستاخانہ عبارتوں کےمجموعے”الفرقان الحق“ کی تقسیم پورےزور و شور سےجاری ہی۔ طالبان کےعہد میں افغانستان میں مہاتما بدھ کےدو پتھر کےمجسموں کےٹوٹنےپر یورپی دنیا کا ردعمل کتنا شدید تھا؟ لیکن کیا مسلمانوں کی ایمانیات کےہر پاکیزہ گوشےاور ہر مقدس اور لائق عظمت اصول کی توہین ‘ مسلمانوں کی رہنما کتاب قرآن اور پیغمبر اسلام حضرت محمدکی شان میں دلآزار اور ناروا باتیںاور مسلمان کشی کی علی لاعلان ترغیب کسی ردعمل کےقابل نہیں؟ عالمی حقوق کی کوئی تنظیم نہ اس کی مذمت میں کوئی بیان جاری کرتی ہےنہ اس ہرزہ سرائی کو روکنےکی کوشش کی جا تی ہی۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی اس کےساتھ معاملات کےکچھ اور پہلو بھی نظر کےسامنےآتےہیں اور مسلمان کشی اور قرآن دشمنی کےاس وحشیانہ طرزعمل میں برطانیہ عظمیٰ کےسینئر وزیرگولڈ سٹون کی برطانوی پارلیمنٹ کےاجلاس میں کی گئی باتوں نےبھی ساری دنیا کےمسلمانوں کو بالخصوص اور امن و چین سےزندہ رہنےکی تمنا رکھنےوالی ہر انصاف پسند قوم کو بالعموم یہ سوچنےپر مجبور کر دیاہےکہ کیا جیو اور جینےدو کا اصول دنیا سےختم ہوچکاہی۔ گولڈ سٹون نےقرآن ہاتھ میں بلند کرکےپارلیمنٹ میں کہا کہ ”تین چیزوں کی موجودگی میں ہم اسلام اور مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘ ایک جمعےکی نماز دوسری حج کی ادائیگی اور تیسری یہ کتاب (قرآن مجید)۔“
غور کرنےکی بات ہےکہ مسلمان نہ کسی کی مذہبی کتاب کو ختم کرنےکےدعویدار‘ نہ کسی کےمذہب میں مداخلت کےمرتکب‘ نہ کسی کےمذہبی بزرگ یا رہنما کےخلاف کبھی کوئی بات کہنےکےمجرم مگر اس ساری معصومیت کےباوجود دہشت گرد مسلمان ‘وحشی دجال مسلمان‘ انسانی حقوق کےغاصب مسلمان‘آخر یورپ اور امریکہ کےپاس انصاف کےوہ کون سےپیمانےہیں جن پر مسلمانوں کی معصومیت جرم قرار پاتی ہےاو ر خود ان کےاپنےلوگوں کی طرف سےمسلمانوں کو قتل و خونریزی کا ہر منصوبہ اور دل
آزاری کا ہر طریقہ ان کا حق قرار پاتا ہےہم بڑےادب و احترام کےساتھ اپنےسارےمذہبی قائدین‘ سیاسی رہنمائوں اور حکمرانوں سےیہ بات کہنا اپنا دینی فریضہ سمجھتےہیں کہ سب سےپہلےہمیں اپنےداخلی رویوں اور اپنےاندرونی معاملات پر تنقیدی نظر ڈالنی ہوگی اور ہمیں اپنی اس کمزوری کا پتہ لگا نا ہوگا جس نےآج ہمیں اس حال کو پہنچا دیا ہےکہ ہم دنیا کی کل
آبادی کا ایک چوتھائی ہونےکےباوجود کوئی وزن نہیں رکھتی۔ اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہےکہ ہمارےذرائع و وسائل پر قبضہ کرنےکےساتھ ساتھ ہمارےدین و ایمان کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہی۔
”الفرقان الحق“ کےبارےمیں سعودی علما نےاپنےبےلاگ مو¿قف ظاہر کرتےہوئےکہا ہےکہ
امریکی مصنوعی قرآن درحقیقت مسلمانوں کی اسلامی ثقافت اور قرآن کےساتھ گہری وابستگی
کی وجہ سےان کو برانگیختہ کرنےکےلیےبنایا گیا ہےاور اس کےذریعےرسالت محمدیہ اور آپ
کی دعوت کےمتعلق لوگوں کےدلوں میں نفرت پیداکرنےجیسےخطرناک عزائم مقصود ہیں‘ لہٰذا
مسلم حکومتیں اس کی اشاعت کو رکوانےمیں اپنا کردار ادا کریں‘رابطہ عالم اسلامی
نےبھی اس بات کا مطالبہ کیا ہےکہ مسلمانوں کو اسلام اور قرآن کا دفاع کر نےکےلیےایک
پلیٹ فارم مہیا کیا جائےاس وقت جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں چاہےوہ مسلم ممالک ہوں یا
غیر مسلم ممالک ہر مرد و زن اور ہرچھوٹا بڑا غیر معمولی اضطراب میں مبتلا ہے
جلسےجلوس‘ مظاہرے‘بیانات‘ تقریریں‘ امن عامہ کےدائرےمیں رہتےہوئےمسلمان عوام اور
مسلم تنظیموں سےجو کچھ بن پڑ رہا ہےوہ کیا جا رہا ہے‘لیکن نتیجتاً یورپ کا رویہ
امریکہ کا طرز عمل اور جن ممالک کےاخبارات اس غیر انسانی جرا¿ت اور بداخلاقی
کےمرتکب ہوئےہیں ان کا اس اخلاق باختگی اور مسلم دل آزاری پر بڑی ڈھٹائی کےساتھ
ڈٹےرہنااس بات کا واضح ثبوت ہےکہ امریکہ اور یورپی حکومتیں رائےاور پریس کی آزادی
کو آڑ بنا کر مسلمانوں کی دل آزاری کرنےسےباز نہیں آئیں گےاس کا مطلب اس کےسوا اور
کچھ نہیں ہےکہ یہ ساری قوتیں مسلمانوں کےپرامن احتجاج کو اس حد تک بڑھاناچاہتی ہیں
کہ یہ تشدد کا راستہ اختیار کر لیں اور حالات امن کی حد سےباہر نکل جائیں۔
ہمارےنزدیک اس سےبھی سامراجی قوتیں دو طرح کےفوائد سمیٹنا چاہتی ہیں۔
|