|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
امریکہ میں (نعوذباللہ)نقلی قرآن کی گھر گھر تقسیم
ایک خود مسلمان ملکوں میں عوام اور حکمرانوں کےدرمیان محاذ
آرائی اور تصادم کوفروغ دینا ‘دوسرےلوگوں کو اس حد تک
آپےسےباہر کر دینا کہ وہ جذبات کےاظہار میں بےمہا ہوجائیں‘لہٰذا جہاں اس سےمسلمان حکومتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا وہاں مسلمان عوام بھی ظلم و ستم کےدوہرےشکنجےمیں کسےجائیں گے۔ اس طرح مسلمانوں کےخلاف لگائےگئےدہشت گردی کےالزامات کےرنگ مزید گہرے کیےجائیں‘ سامراجیوں کی نگاہ میں ناپسندیدہ مسلمان حکمرانوں کو فارغ کرنےاور بعض مسلمان ملکوں کےخلاف نبردآزمائی بھی اس موجودہ شیطانی سازش کا حصہ نظر
آتا ہی۔ ہماری بڑی دردمندی کےساتھ ساری امت مسلمہ سےیہ اپیل ہےکہ احتجاج جاری رکھا جائے مگر کہیں بھی اسےبدامنی کا شکار نہ ہونےدیا جائی‘اپنی صفوں میں اتحاد اور یگانگت کو اس طرح مضبوط کیا جائےکہ دشمن کےایجنٹ ہماری صفوں میں داخل ہوکر ہمیں غلط راہوں پر نہ چلا سکیں‘ مسلمان حکمرانوں کی بھی ذمہ داری ہےکہ وہ حالات کو صحیح تناظر میں دیکھیں ‘ وہ ایمان کی
آزمائش کےاس مرحلےمیں مسلم عوام کےساتھ کھڑےہوں اور ساری دنیا پر اخلاص کےساتھ اس بات کا اظہار کر دیا جائےکہ مسلم حکمران اور مسلم عوام دو جدا قومیں نہیں ہیں نہ ان کےمفادات جدا جدا ہیں نہ ان کےایمان میں کوئی درجہ بندی یا کمی بیشی ہی۔
مسلم مفکرین ‘دانشور اور اہل علم حضرات سےہماری گزارش یہ ہےکہ اس قسم کی
خباثتوں کےسدباب کےلیے کوئی مستقل لائحہ عمل اختیار کیا جائی۔ ان خباثتوں
کےبُرےنتائج سےمسلم دنیا کو خصوصاً اور ساری دنیا کوعموماً بچانےکا اہتمام مفکرین و
علمائےامت کی ذمہ داری ہی۔ یہ ذمہ داری صرف مظاہرں یا بیانات سےپوری نہیں ہوتی بلکہ
اس کےلیےان مفکرین اور علمائےکرام کی ضرورت ہےجو سیاست گردی کی فضا سےدور رہ کر
حرمت رسول عظمت قرآن اور امت کےتحفظ کےتقاضوں کو سمجھتےہوئے ان سارےگوشوں پر نظر
رکھیں جن سےدشمن‘ اسلام اور مسلمانوں کےخلاف نقب لگا رہا ہے‘ ہمیں آج مجدد الف ثانی
‘ شاہ ولی اللہ ‘ جمال الدین افغانی ‘ علامہ اقبال ‘ علامہ رشید رضا ‘ مفتی عبدہ
اور اسی انداز کےاصحاب فکر و نظر درکار ہیں جو ماضی کو جانتےہوں ۔حال سےواقف ہوں
اور اللہ نےانہیں مستقبل بینی کا ملکہ بھی ودیعت کیا اور جن کی زبان و قلم میں جان
ہو اور جنہیں امت کا اعتماد بھی حاصل ہو اس انداز کےصاحبان فکر و نظر امت میں موجود
ہیں۔ انہیں اب اپنےحجروں سےباہر ہونا اور وقت کی آواز پر کان دھرنا ہی۔ موجودہ
حالات میں ہمیں خاص طور پر یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیےکہ خواہشیں نعروں
کےذریعےزندگی نہیں پاتیں بلکہ افکار و نظریات کی پختگی سےحیات و استحکام حاصل کرتی
ہیں۔
|