|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
توہین رسالت اور ایک ”کرائم منسٹر“
کےبلیو آئیڈ بوائز
وہ سارا دن مجلس
آرائی کرتی‘ گپیں ہانگتے‘ ایک دوسرےکو لطیفےسناتی‘ قہقہےلگاتے‘ مدعی کی بےبسی کا مذاق اڑاتےاور یوں اپنا دل پشوری کرتی۔ وہ فخریہ لہجےمیں دیگر عیسائی قیدی ساتھیوں کو بتاتےکہ ہمیں تو جیل میں وہ عیش و
آرام حاصل ہےاگر ہم باہر ہوتےتو شاید صدیوں تک اس قسم کےعیش و
آرام سےلطف اندوز ہونےکا خواب بھی نہ دیکھ سکتی۔
مغرب کےانتہا پسند ‘ مذہبی جنونی عیسائی حکمران میڈیا کے کارکن اور بڑی شخصیات
کی جانب سےجیل پہنچنےکےصرف چار دن میں انہیں سات سو کےقریب خطوط موصول ہوئی۔ خطوط
لکھنےوالےمغربی اور بھارتی پرستاران کی درازی¿ عمر کی دعائیں مانگتےہوئےانہیں
حوصلہ دیتی۔ اکثر و بیشتر خطوط کا نفس مضمون یہ ہوتا کہ ”تم حق پر ہو‘ یورپ کی تمام
عیسائی برادری تمہارےساتھ ہی۔ ہر یورپی عیسائی شہری کےدل تمہارےدلوں کےساتھ
دھڑکتےہیں۔“ وہ اپنےساتھیوں کو یہ خطوط دکھاتےاور خوش ہوکر بتاتےکہ یہ خط ہمیں
امریکہ ‘ جرمنی‘ ہالینڈ ‘ فرانس ‘ ڈنمارک ‘ ناروے‘ سویڈن ‘ اٹلی ‘ انگلینڈ اور
انڈیا سےموصول ہوئےہیں۔ وہ اس پر اتراتےکہ ہمارےکیس کا مدعی مولوی فضل حق جب جیل
آیا تھا تو اس کا کوئی پرسان حال نہ تھا بلکہ اسےتو کسی نےپانی تک کا بھی نہیں
پوچھا تھا اور ہمیں موت کی کال کوٹھری میں بھی دنیا جہان کی نعمتیں سرکاری خرچےپر
مفت فراہم کی جارہی ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتےکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظو وٹو کی مشیر
شیلابی چارلس نےمولوی فضل حق کو کیس کی پیروی سےباز رکھنےکےلیےدھمکی دیتےہوئےکہا
تھا کہ تمہارےلیےیہ مقدمہ بڑا نقصان دہ ثابت ہوگا۔ تمہارےجسم و جان کی خیر اسی میں
ہےکہ مقدمہ سےدستبردار ہوجائو۔ ان نوازشات کا ذکر کرتےہوئےان کی باچھیں فرط مسرت
سےکانوں تک کھل جاتیں کہ ”جیل میں ہماری آئو بھگت حکمران اس طرح کر رہےہیں ‘ شاید
کسی شاہی سسرال نےنوبیاہتا داماد کی خاطر مدارات بھی ایسےنہ کی ہو۔“ جیل ان
کےلیےمکمل طور پر ایک پکنک پوائنٹ بن چکی تھی۔ کہنےکو تو وہ بی کلاس کےقیدی تھےلیکن
جیل میں وہ جو گلچھرےاڑا اور رنگ رلیاں منا رہےتھےانہیں دیکھ کر محسوس ہوتا کہ وہ
اےکلاس نہیں بلکہ ”اےپلس کلاس کےقیدی “ ہیں۔
|