|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
توہین رسالت
پیغمبر اسلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کےمبارک زمانہ سےلےکر
آج تک کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں اسلام دشمنوں نےاپنی پھونکوں سےاسلامی چراغ کو بجھانےکی کوشش نہ کی ہو‘ مگر رب تعالیٰ کا نور اسلام دشمنوں کی حرکتوں پہ ہمیشہ خندہ زن رہا‘ اسی لیےشمع اسلام کی روشنی نہ بجھانےکی کوشش نہ کی ہو ‘مگر رب تعالیٰ کا نور اسلام دشمنوں کی حرکتوں پہ ہمیشہ خندہ زن رہا‘ اسی لیےشمع اسلام کی روشنی نہ بجھائےجاسکی اور نہ ہی اسےآج تک کم کیا جاسکا بلکہ حقائق ‘واقعات اور مشاہدات سےپتہ چلتا ہےکہ جتنا اسےدبایا گیا اتنی ہی اس کی روشنی تیز ہوئی۔ اسلام کی چیز روشنی سےدشمنوں کی
آنکھیں چندھیانےلگیں‘ اسی عالم میں دشمنوں نےاسلام‘ پیغمبر اسلام اور کتاب اسلام (قرآن مجید) پر رکیک حملےکیی۔ مگر جب اسلام کےشیدائی اور فدائی شمشیر بکف میدان کارزار میں اترےتو دشمنان اسلام کو چھٹی کا دودھ یاد
آگیا۔
گزشتہ کچھ عرصہ سےیہود نےدنیا کو بدامنی اور فساد کی شعلہ زن
آگ میں ایک نئےانداز میں جھونک دیا ہی۔ 11ستمبر 2001ءکو امریکی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا۔ پھر اس کےبعد دہشت گردی‘ دہشت گردی کی ایسی گردان شروع کر دی گئی کہ کئی لوگ سمجھنےلگےکہ واقعی یہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ اسی الزام کی بنیاد پر افغانستان سےامارت اسلامیہ ختم کی گئی‘ اسی الزام کی بنیاد پر مجاہد بن اسلام کی سرگرمیاں روک دی گئیں ‘ اسی الزام کی بناءپر مجاہدین اسلام کےسروں کی قیمت لگائی گئیں‘ اسی الزام کی بنیاد پر مجاہدین کو کیوبا کےبےرحم جزیرےگو انتا ناموبےمیں قید کیاگیا۔ ۔اسی بناءپر وہاں موجود امریکی فوجیوں نےقرآن مجید کو فلش میں بہایا‘ اسٹریچر پہ قرآن لاد کر لائےجاتےاور اخباروں کی طرح قیدیوں کےسامنےپھینک دیئےجاتے۔ اسی بناءپر مغرب کی دھرتی مسلمانوں کےلیےاجیرن بنا دی گئی‘ اسی بناءپر اب کی بار یہودیوں نےایک نئی چال چلی اور
آرٹسٹوں سےخاکے(کارٹون) تیار کروائی‘ پھر ستمبر2005ءمیں انہیں بڑی جرا¿ت ‘ ڈھٹائی اور دلیری سےڈنمارک کےاخبار میں شائع کیا گیا۔ پھر ناروےنےانہیں دوبارہ چھاپا‘ پھر فرانس نےچھاپا‘ اسی طرح امریکا کےاخبارات نےبھی ان توہین
آمیز خاکوں کو چھاپ دیا‘ ان کی دیکھا دیکھی لبنان کےاخبار نےبھی انہیں چھاپ دیا‘ دنیا بھر میں ان کےخلاف صدائےاحتجاج اٹھی تو دشمنان اسلام معافیوں اور ترلوں پر اتر
آئے۔ بعض نےکہا کہ یہ اظہار رائےکی
آزادی ہی‘ کسی نےکہا کہ خاکےچھاپنےپر اتنےسخت ردعمل کا یقین نہ تھا۔
جب مسلمان یہود و نصاریٰ کی ریشہ دوانیوں کا تعاقب کرتےہیں‘ ان کی سازشوں کےجالےکا ٹتےہیں‘ ان کی ہرزہ سرائیوں کا منہ توڑ جواب دیتےہیں اور ان کی ظالمانہ کارروائیوں کےخلاف سراپا احتجاج بن جاتےہیں۔ غیرت ملی کا ثبوت دیتےہوئےان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتےہیں۔ ان کےمفادات کو نقصان پہنچتا ہےتو بعض لوگ ایسےلوگوں کو دہشت گرد کہلواتے‘ انہیں انتہا پسند گردانتےاور شرپسند کےالقابات سےنوازتےنظر
آتےہیں‘ جیسےڈنمارک کی اخبار کی شرارت پر امریکی صدر بش نےڈنمارکی وزیراعظم کےساتھ یکجہتی کا اظہار کیا‘ اور مسلمانوں کےاحتجاج کر مسترد کرتےہوئےاحتجاجی مظاہرےرکوانےکا حکم صادر کیا۔
دنیا کےہر شخص کو ہر مذہب کو ہر فرقےکو یہ بات سمجھ لینا چاہیےکہ مسلمانوں کا اپنےآقا حضرت نبی کریمکےساتھ اس طرح کا رشتہ نہیں ہےجس طرح کا ان کو ان کےپیشوائوں اور مقتدائوں کےساتھ ہی‘ مسلمانوں کا رشتہ اپنےنبی کےساتھ بہت ہی محبت والا رشتہ ہی۔ مسلمان اپنےنبی کی خاطر جان ‘ مال اور
آبرو تک کو لٹانا اپنی سعادت سمجھتا ہی۔ مسلمان قرآنی تعلیمات کو حرز جان بنائےہوئےہی۔ مسلمان کو یہ تعلیم دی گئی ہےکہ وہ اس وقت تک کامل اور مکمل مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک نبی کریم اسےاپنی جان سے‘ اپنےعزیزوں سےاور اپنےماں باپ سےزیادہ عزیز نہ ہوں۔
آج تک دنیا میں عظمت رسول کی خاطر بےشمار مسلمانوں نےاپنی قیمتی جانوں کا اسی لیےنذرانہ پیش کیا۔
قرآنی آیات:
قرآن کریم کی آیات پر غور فرمائیی۔ سورہ احزاب کی آیت 6 میں اللہ تعالیٰ
کےارشاد فرمایا ‘ ”نبی مومنوں کےساتھ خود ان کےنفس سےبھی زیادہ تعلق رکھتےہیں۔ “
مفتی جمیل احمد تھانوی رحمہ اللہ لکھتےہیں ‘ حضور کا حق تو ہماری اپنی جانوں کےحق
سےبھی بہت زیادہ ہی۔
|