|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
پرتشدد احتجاج کےاقتصادی مضمرات
زرمبادلہ کےذخائر ڈالر کی شکل میں رکھنےکی صورت میں امریکا کو یہ سہولت حاصل ہےکہ وہ دنیا بھر کسی بھی ملک سےقرض لےسکتا ہی۔ اس کےکرنٹ اکائونٹ کا خسارہ خام قومی پیداوار کے 6 فیصد کےمساوی ہو چکا ہی۔ قرض کی شرح خام قومی پیداوار کے20فیصد کےمساوی ہوچکی ہی۔ تین سال کےدوران ایشیائی ممالک کی معاشی ترقی میں تیزی سےاضافہ ہوا ہی‘ اس لیےان کےمرکزی بینکوں میں زرمبادلہ کےذخائر بہت بڑھ گئےہیں۔ وہ ان ذخائر کو ڈالر کی متبادل کرنسیوں میں رکھنےکےبارےمیں سوچ رہےہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ کےمطابق 3.81ٹریلین ڈالر کےعالمی ذخائر میں سے64 فیصد ڈالر میں اور 20فیصد یورو میں ہیں۔ ڈالر کےبجائےیور ومیں ذخائر رکھنےکےرجحان میں اضافےکےدو مثالیں چین اور روس ہیں۔ روس نےاپنے114 ارب ڈالر کےزرمبادلہ کےذخائر یورو میں رکھنےکی شرح 30سےبڑھا کر 35فیصد کر دی ہی۔ سب سےزیادہ ذخائر چین کےہیں جس نےاپنے711 ارب ڈالر کےذخائر کو صرف ڈالر میں رکھنےکےبجائےدیگر کرنسیوں میں رکھنےکا عندیہ دیا ہی۔ سعودی عرب بھی اب اپنے112 ارب ڈالر کےذخائر کو مختلف کرنسیوں میں رکھےگا۔
اس صورتحال کا تقاضا یہ ہےکہ ہم کسی بھی سطح پر کوئی بھی فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر
کریں۔ اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت ایسا معاملہ ہےجس پر مسلمانوں کےجذبات کا بھڑکانہ
فطری امر اور ایمان کا تقاضا ہی۔ احتجاج بھی ہمارا بنیادی حق ہےتاہم اس معاملےمیں
بہت احتیاط برتنےکی ضرورت ہی۔ احتجاج کےدوران کوئی بھی ایسا فیصلہ یا اقدام نہ کیا
جائی۔ جن سےمعیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتےہوں۔ اس صورت میں برآمدات متاثر ہوں
گی اور ملک میں بےروزگاری بڑھ جائےگی۔
|