|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
دہر میں اسم محمد سےاجالا کر دی
آج فرانس کےہر گھر میں اور سرزمین فرانس پرہر جگہ‘ ہر مجلس اور ہر مکالمےمیں جو لفظ سب سےزیادہ استعمال ہو رہا ہی‘ وہ
آنحضور کا نام نامی ہی۔ یہ اللہ کےزندہ معجزات میں سےایک معجزہ ہےکہ اسلام‘ جو انسانیت کی ضرورت بھی ہےاور انسانوں کےخودساختہ ظالمانہ قوانین کا نعم البدل بھی۔ شاید اس شر کےنتیجےمیں اب مغرب کی ملحد تہذیب غروب ہونےکو ہےاور اسلام کا جاں فزا پیغام اور نظام طلوع ہونےکو ہی۔“
فرانس کےایک اور رسالے”لاکروا“ نےگستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےبعد کیےگئےایک سروےکےنتائج اپنی 9 جنوری 2006ءکی اشاعت میں چھاپےہیں۔ اس کےمطابق فرانس میں 54فیصد لوگوں نےیہ رائےدی ہےکہ پیغمبراسلامکی شان میں گستاخی پر مشتمل خاکےشائع کرنا نہایت غلط کام ہی۔ اسی سروےکےمطابق 78 فیصد رائےدہندگان نےیہ رائےدی کہ مغرب کی اس اشتعال انگیزی کےنتیجےمیں عالمی سطح پر انتہاپسندی اور تشدد کےواقعات میں اضافےکا واضح خطرہ پیدا ہو گیا ہی۔
یورپ کے200 قابل ذکر سکالرز نےحال ہی میں ایک دستاویز پر دستخط کیےہیں جو اسلام
آن لائن نیٹ پر دستیاب ہی۔ اس میں انہوں نےاپنےجذبات کا اظہار کرتےہوئےکہا ہے”انبیاءکرام کی ذات اور شخصیت کا موضوع بڑا نازک اور حساس ہےاور ا س کا تقاضا ہےکہ دنیا کا ہر فرد اس پر مکمل ذمہ داری کےساتھ اپنی زبان کھولےاور قلم چلائی۔ ذرا سی بےاحتیاطی اور غیرذمہ داری
آتش فشاں کا لاوا پھٹنےکا سبب بن سکتی ہی۔ اسلام ایسا دین ہےجس کےساتھ دہشت گردی کسی صورت لگا نہیں کھاتی۔ مغرب کو اس ضمن میں اپنا تصور درست کر لینا چاہیی۔ ”اس یادداشت پر دستخط کرنےوالی 200 شخصیات میں مسلم اور غیرمسلم دونوں شامل ہیں۔
دستخط کرنےوالوں میں نمایاں نام فرانس کی سابق خاتون وزیر مارٹین ابری اور صحافیوں کی عالمی تنظیم نمائندگان بلاسرحد کےجنرل سیکرٹری روبیر مینار کا ہی۔ ان کےعلاوہ یورپ میں عرب تنظیم برائےانسانی حقوق کےترجمان ہیثم مناع‘ تیونس کےمعروف قانون دان اور حقوق انسانی کےرہنما المنصف المرزوقی‘ شامی عالم اور مفکر مقیم پیرس السید برہان غلیون‘ ڈنمارک کےمقبول مصنف اور ادیب
آندرس جیرلیشو‘ فرانس کونسل برائےآئمہ وخطبائےمساجد کےسیکرٹری جنرل شیخ ضومسکین اور سپین جیل میں مقید معروف صحافی تیسیسر علونی کےدستخط بھی ہیں۔
یورپ سےموصولہ اطلاعات کےمطابق نائن الیون کےبعد لوگوں نےاسلامی کتب بالخصوص قرآن مجید حاصل کرنےکیلئےاسلامی مکتبوں کا رخ کیا تھا۔ اس تازہ واقعہ کےبعد اس سےبھی کہیں زیادہ تعداد میں لوگ سیرت رسول پر مبنی لٹریچر کی جستجو میں نکل کھڑےہوئےہیں۔ عالم اسلام کےمایہ ناز خطیب‘ عالم اور مفکر شیخ یوسف القرضاوی نے10 فروری کےخطاب جمعہ میں جو براہ راست عرب دنیا کےکئی ٹی وی چینلز پر دکھایا گیا‘ فرمایا ”تاریخ اس بات پر گواہ ہےکہ جس کسی نےبھی سیرت رسول کا مطالعہ کیا وہ اس سےمتاثر ہوئےبغیر نہ رہ سکا۔ جو خوش قسمت تھےوہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئےاور دیگر لوگ بھی اگرچہ مسلمان نہ ہوئےمگر
آنحضور کی عظمت کےنہ صرف قائل ہو گئےبلکہ کھل کر اس کا اظہار کرتےرہی۔ ”ہیروز اینڈ ہیروز ورشپ“ کےمصنف‘ معروف برطانوی فلسفی تھامس کارلائل بھی ان ہی لوگوں میں سےتھی۔“ یوسف قرضاوی صاحب نےمزید فرمایا کہ
آج دنیا ایک بستی کی مانند ہےاور دستیاب ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کےہم
آنحضرت کی سیرت کےذریعےدلوں کو فتح کر سکتےہیں۔ وہ رحمت للعالمین تھےاور
آج دنیا کو رحمت کی شدید ضرورت ہی۔
سچی بات یہی ہےکہ
آنحضور کو جب اللہ نےیہ خوشخبری سنائی ”اےنبی! ہم نےتم کو کھلی فتح عطا کردی ہی۔‘ ‘(سورہ الفتح
آیت نمبر1) تو یہ فتح وقتی اور محدود نہیں تھی۔ یہ دائمی اور لامحدود ہی۔
آنحضور آج بھی سالارکارواں ہیں اور
آپ کےوجود مسعود کا فیضان وبرکات جاری ہیں۔ کامیابی اہل ایمان کامقدر ہی‘ لیکن اس کیلئےایمان کےتقاضوں کو پور اکرنا‘ اشتعال اور تخریب سےمکمل اجتناب کرنا‘ تحمل‘ بردباری‘ جرات اور قربانی کےساتھ میدان جہاد میں اترنا ہو گا۔
قوت عشق سےہر پست کو بالا کر دی
دہر میں اسم محمد سےاجالا کر دی۔
|