|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مولانا مفتی عبدالعرفان کا فتویٰ اور....
لیکن حقیقت یہ ہےکہ پاک بازی‘ راست اخلاقی اور دینی شعائر کی پابندی اپنی جگہ ہےجبکہ حق وباطل کی جنگ میں باطل کی کمر توڑ کر ہی ان دینی شعائر کی پیروی کی جا سکتی ہی۔ مقام افسوس ہےکہ جنرل کلائیو کی برادری نےپورے200سال تک برصغیر پر جابرانہ حکومت کی اور جب تک اس کی کمر ہٹلر کےہاتھوں نہ ٹوٹی‘ اس نےواپسی کی راہ نہ لی....
کئی برس پہلےزمانہ طالب علمی میں‘ اسی دکھ اور کرب کا اظہار راقم السطور نےایک ہلکی پھلکی سی نظم میں کیا تھا جو نذر قارئین ہی۔ اس کا عنوان تھا: ”حضرت لارڈ کلائیو مرحوم“ اور نظم کی تان جس حسرت پر ٹوٹتی ہی‘ وہ حسرت
آج بھی جوں کی توں ہی۔ کاش کوئی قاضی عبدالعرفان‘ فتویٰ جاری کرنےکی بجائےاس گستاخ کارٹونسٹ کا سر کاٹ کےلا سکتا!
اک کافر لارڈ کلائیو تھا
انگلینڈ کا رہنےوالا تھا
مکار‘ فریبی‘ متکبر
نہ گھر نہ گھاٹ‘ زمین کوئی
نہ نام و نسب‘ آئین کوئی
نہ وضع کوئی نوابوں سی
صورت جیسےقصابوں سی
نہ مہابلی‘ نہ ظل الہ
نہ حضرت عالم‘ کجکلاہ
پوشاک عجب بےڈھنگی سی
ہر بات اس کی آفرنگی سی
ہر شام کلبوں میں جاتا
ہر رات بہکتا‘ بہکاتا
نہ خوف خدا کچھ سینےمیں
بدمست ہمیشہ پینےمیں
نہ چرچ میں آتا جاتا تھا
بحری ڈاکو کہلاتا تھا
پھر ایک جہاز پہ بیٹھ کےوہ
جب وارد ہندوستان ہوا
تو اس افرنگی‘ متکبر
بےدین‘ کمین‘ کلائیو نی
مغلوں‘ مرہٹوں‘ جاٹوں کو
نوابوں اور نظاموں کو۔
|