|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
توہین رسالت
“ سورہ احزاب کی
آیت 85 میں ہی‘ ”جولوگ اللہ اور اس کےرسول کو تکلیف دیتےہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا و
آخرت میں لعنت کرتا ہےاور ان کےلیےذلیل کرنےوالا عذاب تیار کر رکھاہی۔“
ارشاد ربانی ہے‘ ”تم پر جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو۔“ (احزاب۔58)
سورہ توبہ کی آیت 61میں رسول اللہ کےمخالفین کےلیےفرمایا گیا ‘ ”کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول اللہ کی مخالفت کرےگا تو یہ بات طےہوچکی ہےکہ ایسےشخص کو دوزخ کی
آگ اس طرح نصیب ہوگی کہ وہ اس میں ہمیشہ رہےگا یہ بڑی رسوائی ہی۔“
سورہ مجادلہ میں مخالفین رسول کےلیےواضح کیا گیا ‘ ”کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول اللہ کی مخالفت کرےگا تو یہ بات طےہوچکی ہےکہ ایسےشخص کو دوزخ کی
آگ اس طرح نصیب ہوگی کہ وہ اس میں ہمیشہ رہےگا‘ یہ بڑی رسوائی ہی۔“
سورہ مجادلہ میں مخالفین رسول کےلیےواضح کیا گیا کہ ‘ ”جو لوگ اللہ اور رسول اللہ کی مخالفت کرتےہیں یہ سخت ذلیل لوگ ہیں۔“ (آیت20)
اسی سورت میں ہےکہ ”جو شخص حق واضح ہونےکےبعد رسول کی مخالفت کرےگا‘ مسلمانوںکا راستہ چھوڑ کر دوسرےراستےپر چل پڑا تو اسےجہنم میں داخل کریں گی۔“ (115)
سورہ انفال میں ہی: ”جو شخص اللہ اور رسول اللہ کی مخالفت کرتا ہے‘ بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دیتےہیں۔“ (13)
ان آیات کو بار بار پڑھا اور سمجھا جائے‘ رسول اکرم کی عظمت دل و دماغ میں بیٹھتی چلی جائےگی ۔ ذمی عقل و شعور تو پہلےمرحلےمیں سمجھ جائےگا کہ حضرت محمد کس عظیم مقام و مرتبہ پر فائز ہیں کہ اللہ تعالیٰ نےاپنےساتھ ساتھ ان کا ذکر بھی اسی پیرائےمیں کیا۔ ان
آیات کی روشنی میں اسلام دشمن اور یہود و نصاریٰ جو خود کو اہل کتاب کہتےہیں اور
آسمانی دین کےپیروکار بنےپھرتےہیں وہ کس طرح مسلمانوں سےتوقع رکھتےہیں کہ وہ مسلمانوں کےجذبات کو
آئےروز مجروح کریں اور مسلمان ایک تابعدار غلام کی طرح ان کی ہر کڑوی کسیلی برداشت کرتےچلےجائیں ‘ انہیں یہ یاد رکھنا چاہیےکہ مسلمانوں کا تعلق اپنےآقا نبی کریم کےساتھ ایسا ہےجسےالفاظ کی تمام تر وسعتوں کےباوجود ضبط تحریر میں نہیں لایا جاسکتا۔
جب مسلمان یہود و نصاریٰ کی شرانگیزیوں کےخلاف نعرہ مستانہ لگاتےہیں تو وہ چیخ اٹھتےہیں کہ مسلمان سخت گیر ہیں‘ متشدد ہیں ‘ انتہا پسند ہیں ‘ ان میں برداشت کی کمی ہی‘ مگر ان کو علم ہونا چاہیےکہ مسلمانوں کےہاں یہ الزام تراشیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ مسلمان تو ارشاد ربانی کےمطابق ایک بات کو جانتےاور سمجھتےہیں کہ اللہ اور رسول اللہ کی مخالفت کرنےوالوں کی گردنیں مارنی چاہئیں ۔ ان کےجوڑ جوڑ پر ضرب لگانا ضروری ہی۔ (انفال8‘9)
ابولہب کی ہلاکت قرآن حکیم کا مطالعہ کرنےوالی‘ ترجمہ دیکھنےوالی‘ تفسیریں پڑھنےوالی‘ اچھی طرح جانتےہیں کہ مخالفین نےحضرت نوح ‘ حضرت لوط‘ حضرت شعیب اور حضرت صالح علیہم السلام کےساتھ کس قسم کی روش برقرار رکھی تھی۔ یحییٰ علیہ السلام کو یہودیوں نےشہید کیا تھا ۔ زکریا کو
آرےسےچیرا تھا‘ موسیٰ پر الزام تراشی کی گئی ‘ بنی اسرائیل کےہزار نبیوں کو انہوں نےناحق قتل کیا۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کےآخری تاجدار رسالت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کےساتھ بےرحمانہ سلوک روا رکھا‘ پھر اللہ تعالیٰ نےانہیں زندہ سلامت
آسمان پہ اٹھا لیا۔ یہ سارا منظر اللہ تعالیٰ نےقرآن میں بیان کیا۔ اللہ تعالیٰ نےمخالفت کرنےوالوں کی مذمت کی ‘ ان پر لعنت برسائی اور انہیں مستحق لعنت اور حق دار ذلت قرار دیا۔ جب خاتم النبیین کےسامنےابولہب نےلب کشائی کی تو رحیم و رحمن رب نےبھی برداشت نہیں کیا ‘ فوری ابولہب کی ہلاکت و بربادی اور عبرت ناک حالات سےدوچار ہونےکا اشارہ دیا۔
گستاخ یہودی:
کعب بن اشرف یہودی تھا‘ حضور کو دکھ دیتا
تھا‘ تکلیف پہنچاتا تھا۔ نبی کریم نےصحابہ کرام میں آواز لگائی کہ کعب بن اشرف
نےاللہ اور رسول اکرم کو ایذا دی کون اٹھےگا جو اس کا کام تمام کر دےاس آواز پر
محمد بن مسلم اٹھےانہوں نےرسول اکرم کےگستاخ کعب بن اشرف کو قتل کر دیا۔
|