kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش

 

شرانگیز مواد کی اشاعت
 

 

 

 

 دنیا بھر کےاحتجاج کو مدنظر رکھتےہوئےسعودی عرب نےعالم اسلام کےجذبات کی ترجمانی کرتےہوئے26جنوری کو ڈنمارک سےاپنا سفیر واپس بلالیا اور سعودی عرب سےڈنمارک کی اشیاءکےبائیکاٹ کا آغاز ہو گیا جو تمام عرب ریاستوں مصر‘ لیبیا ‘ ایران اور بہت سےدوسرےمسلمان ممالک تک پھیل گیا۔ گستاخانہ اشاعت پر ڈنمارک اور ناروےکےپرچم جلائےگئی۔30جنوری کو مسلح افراد نےغزہ میں یورپی یونین کےدفتر پر دھاوا بولا اور معافی مانگنےکا مطالبہ کیا۔ 31جنوری کو ڈنمارک کےاخبار نےمعافی نامہ جاری کر دیا اور دنیا بھر کےمسلمانوں سےاپنی گستاخی کی معافی مانگ لی۔ اسی روز ناروےکےعیسائی رہنمائوں نےبھی اس واقعہ کی مذمت کرتےہوئےخود کو مسلمانوں کےساتھ کھڑا کیا۔
معاملہ دب سکتا تھا مگر یکم فروری کو فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی اور سپین کےاخبارات نےبیک وقت وہی گستاخانہ خاکےشائع کر دیئےاور تہذیبوں کےتصادم کےفلسفےکو دوام بخشی جس پر پوری دنیا میں کہرام مچ گیا۔2فروری کو فرانس کےاخبار کےمالک نےخاکےشائع کرنےوالےایڈیٹر کو برطرف کر دیااور موقف اختیار کیا کہ اس کا اخبار تمام مذاہب کا احترام کرتا ہےمگر اسی روز بی بی سی نےوہ گستاخانہ خاکےٹی وی پر نشر کر دیئےجبکہ سویڈن کےاخبار نےاپنےقارئین کو دعوت دی کہ اگر وہ اس طرح کےکارٹونز بنائیں تو انہیں شائع کیا جائےگا۔ 4فروری کو پاکستان نےڈنمارک ‘ ناروے‘ فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی ‘سپین ‘سوئٹزرلینڈ ‘ہنگری‘ ہالینڈ اور جمہوریہ چیک ری پبلک کےسفیروں کو طلب کرکےگستاخانہ خاکوں کےخلاف شدید احتجاج کیا۔ اس کےعلاوہ مشتعل نوجوانوں نےدمشق میں ڈنمارک اور ناروےکےسفارت خانےجلا دیئی۔ اسی روز غزہ سٹی میں جرمن سنٹر پر پتھرائو ہوا۔ اسرائیل میں مظاہرہ ہوا۔ لندن میں ڈینش سفارت خانےکےباہر لوگوں نےمارچ کیا‘ برلن میں مظاہرین سےپولیس کی جھڑپ میں متعدد افراد زخمی ہوگئی۔ پاکستان میں لاہور‘ اسلام آباد‘ فیصل آباد‘ ملتان‘ کراچی‘ پشاور اور مہمند ایجنسی میں مظاہروں میں بھی لوگوں نےشدید غم و غصےاور نفرت کا اظہار کیا۔ عرب وکلاءنےتوہین رسالت کےمرتکب یورپی اخبارات کےخلاف قانونی چارہ جوئی کرنےکا فیصلہ کیا جبکہ او آئی سی نےمذمتی بیان جاری کرنےکےلیےمسودےکی تیاری شروع کر دی۔ اس کےعلاوہ اقوام متحدہ کےپلیٹ فارم سےقرارداد پیش کرنےکا بھی فیصلہ کیاگیا۔ پاکستان کےصدر اور وزیراعظم نےبھی اپنےمذمتی بیانات میں گستاخانہ کارٹونز کی اشاعت کو مذاہب کےاحترام کےمنافی قرار دیا۔ تمام اسلامی ممالک کےسربراہان نےاس واقعہ پر شدید غم و غصےکا اظہار کیا حتیٰ کہ افغانستان میں امریکہ کےکٹھ پتلی صدر حامد کرزئی نےبھی کہا کہ آئندہ ایسےکام نہیں ہونےچاہئیں۔ اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل کوفی عنان نےکہا کہ اگر مسلمان تہذیبوں کےتصادم کو روکنا چاہتےہیں تو انہیں ڈنمارک کےاخبار کی معافی قبول کر لینی چاہیی۔ پاکستان میں موجود سعودی سفیر نےکہا کہ ناپاک جسارت پر احتجاج طویل ہوا تو دنیا کا امن قائم رکھنا مشکل ہو جائےگا۔ ڈنمارک کو چار دن میں پونےتین کروڑ ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا جبکہ سینکڑوں افراد بےروزگار ہوگئی۔ عرب ممالک نےاپنےسٹورز سےڈنمارک کی مصنوعات اٹھا کر باہر پھینک دیں حتیٰ کہ عراق میں ناروےکی کمپنیوں کےٹھیکےمنسوخ کر دیئےگئی۔
ڈنمارک‘ ناروےاور فرانس کےاخبارات میں توہین رسالت پر مبنی مواد کی اشاعت کےپیچھےگہری یہودی سازش کا انکشاف ہوا ہی۔ انتہا پسند صہیونی یہودیوں نےیورپ اور مسلمان ممالک کےدرمیان اختلافات بڑھانےکےلیےیہ سازش تیار کی تھی جس کا پہلا نشانہ یورپ میں رہنےوالےمسلمان اور بعدازاں مسلمان ممالک کو بنایا جانا مقصود تھا۔ اس سازش کےلیےپہلا قرعہ ناروےکےاخبار کےنام نکلا مگر بعد میں ڈنمارک کےیہودی اخبار ”یولاندیوسٹن“ کا انتخاب کیاگیا جس کی پیشانی پر یہودیوں کا خاص نشان ”سٹارآف ڈیوڈ“ بھی موجود ہی۔ اخبار نےخاکےتیار کرنے کےلیےخطیر رقم خرچ کی اور 40کارٹونسٹ کو اکٹھا کرکےحضرت محمد کےخاکےبنانےکا کام سونپا مگر صرف 12نےیہ گستاخانہ جسارت کےلیےبکنےپر رضامندی ظاہر کی۔ توقع تھی کہ دو ماہ بعد یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ جائےگا۔ چونکہ سازش کی کڑیاں کہیں اور سےملی تھیں اس لیےپورے دو ماہ بعد ناروےکےرسالےنےبھی انہیں شائع کر دیا۔ رسالہ زیادہ سرکولیشن نہیں رکھتا تھا اس لیےایک ملکی اخبار ”واگ بلادت“ نےمیگزین کا حوالہ دےکر انہیں شائع کر دیا۔
ڈنمارک کےبعد فرانسیسی اخبار ”فرانس سویئر “ نےصفحہ اول پر یہ سرخی جمائی کہ ہمیں خدا کےخاکےبنانےکا بھی حق حاصل ہی(نعوذ باللہ) کیونکہ ہم ایک سیکولر معاشرےکےترجمان ہیں۔

 

 

Go to Page:

*    *    *

tohin-e-risalat, sher angaiz mawad ki ashat, izhar ki azadi ya sher angezi, panja-e-yahood or europe, yahudioN ki sharartain, sazish ke muharrikat, maghrib ki islam mukhalifat, holocaust ka inkar, denark ka khaka, tahziboN ka tasadam, salibi jangoN ka naya silsila, shatim rasool ki saza or muafi, denmark ka boycott, jang, war, pyena round table conference, salahud din ayyubi, talash-e-aman, naqli qurran ki taqseem, pur tashaddud ahtajaj ke muashi muzimmarat, fikri pasmandgi ka shikar europian media

 

Download the PDF version for Offline Reading.(Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is needed for view and read these Digital PDF E-Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)