|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
شرانگیز مواد کی اشاعت
اس کارٹون کی اشاعت کےبعد اخبار کےدفتر کو خالی کرا لیاگیا کیونکہ وہاں بم دھماکےکی دھمکی موصول ہوئی تھی۔ جرمنی کےاخبار ڈائی ایلٹ نےبارہ خاکوں میں سےایک خاکہ اپنےصفحہ اول پر شائع کیا۔ اس نےکہا کہ جمہوری
آزادیوں کی وجہ سےاسےمذاہب کی شان میں گستاخی کرنےکا حق حاصل ہی۔ اس نےدعویٰ کیا کہ جب شام کےٹی وی ڈرامےمیں یہودیوں کےربیوں کو انسانوں کو کھاتےہوئےدکھایا جاسکتا ہےتو پھر ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے۔ جرمن روزنامہ لائیرزی تنگ نےبھی بارہ میں سےدو خاکےشائع کر دیئےجبکہ اٹلی کےاخبار ”لاشامیا“ نےبھی بارہ خاکےشائع کر دیئی۔ ڈنمارک کےوزیرخارجہ نےمسلمانوں کےاحتجاج کےڈر سےافریقی ممالک کا دورہ ملتوی کر دیا۔ اطلاعات کےمطابق 12کارٹونز بنانےوالےتمام
آرٹسٹ اس وقت روپوش ہیں اور پولیس انہیں سخت سیکورٹی فراہم کر رہی ہےجبکہ سب سےمنفی اور گستاخانہ کارٹون بنانےوالےشخص کےبارے میں بتایا جا رہا ہےکہ اسےامریکہ میں خصوصی تحویل میں رکھا گیا ہی۔ ڈنمارک میں موجود انتہا پسند نازیوں نےنعوذ باللہ قرآن پاک شہید کرنےکی بھی دھمکی دےدی ہی۔ 5فروری کو بیروت میں ڈنمارک کا سفارتخانہ بھی نذر
آتش کر دیا گیا۔ اس کےعلاوہ نابلس میں فرانسیسی کلچرل سنٹر پر بھی قبضہ کر لیاگیا ہی۔ ڈنمارک نےاپنےشہریوں کو لبنان چھوڑنےکا حکم دےدیا ہےاور اپنےشہریوں کےعرب ممالک جانےپر پابندی عائد کر دی ۔5فروری کو قاہرہ اور ایتھنز میں ہزاروں مسلمانوں کےمظاہرےہوئی۔ لبنان میں کارٹونز کی اشاعت کےبعد وزیرخارجہ مستعفی ہوگئےہیں بلکہ ایران نےبھی ڈنمارک سےاپنا سفیر واپس بلالیا ہی۔ متحدہ عرب امارات کےانصاف کےوزیر محمد الدہریری نےکارٹونز کی اشاعت کو ”آزادی صحافت کی بجائےثقافتی دہشت گردی“ سےتعبیر کیا۔ لبنان کےاخبار کےمدیر لومینی کو بھی ایڈیٹر کےعہدےسےہاتھ دھونا پڑا ہی۔
2دسمبر کو ڈنمارک کےایک اخبار ”برلنگس کےٹائی ڈنڈی“ نےایک سٹوری شائع کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان سےتعلق رکھنےوالی مذہبی جماعت ”جماعت اسلامی“ نےکارٹونسٹ کو قتل کرنےوالےکےلیےدس ہزار ڈالر کےانعام کا اعلان کیا۔ جماعتہ الدعوة نےبھی کارٹونز کی اشاعت پر ملک گیر مہم چلانےکا اعلان کیا ہی۔ اس کےعلاوہ پاکستان اور اسلامی دنیا سےتعلق رکھنےوالی تمام اسلامی تنظیموں نےواقعہ پر شدید ردعمل اور غم و غصےکا اظہار کیا ہی۔ کئی ممالک میں مسلمانوں نےہاتھوں میں قرآن اٹھا کر روتےہوئےگستاخانہ کارٹونز کی اشاعت پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہی۔ حیران کن بات یہ ہےکہ امریکہ اور مغرب اس سارےواقعہ پر خاموش تماشائی بنیرہے حالانکہ لوگوں کےمذہبی جذبات سےکھیلنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہےبلکہ کسی بھی حوالےسےیہ
آزادی صحافت کےزمرےمیں نہیں
آتا۔ یوں لگتا ہےکہ ایک دہائی قبل پیش کیا جانےوالا سیموئیل ہنٹکٹن کا فلسفہ پوری
آب و تاب کےساتھ ظاہر ہو رہا ہی۔ اب یہ مسلم دنیا پر منحصر ہےکہ وہ کتنا عرصہ خاموش تماشائی بن کر کبوتر کی طرح
آنکھیں بند کیےرکھتی ہےیا پھر طاقت اور اقتدار کو ہاتھ میں لیتےہوئےاپنےزور بازو سےمخالفوں کی زبان بند کریں گی۔ یہ فیصلےکی گھڑی ہی!
|