|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
اظہار کی آزادی یا شرانگیزی
انہیں دہشت گرد قرار دےکر ان پر عرصہ¿ حیات تنگ کیا گیا۔ ان کےبعض ممالک پر چڑھائی کر دی گئی‘ بعض کو دھمکیاں دی گئیں اور بعض نشانےپر رکھ لی گئیں۔ اس صورت حال نےمسلم امہ کو بہت کچھ سوچنےاور سمجھنےکی طرف راغب کیا۔ ساتھ ہی مسلم دنیا کی قیادت میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ پاکستان سےلےکر انڈونیشیا تک اور ایران سےلےکر سعودی عرب تک ہونےوالی تبدیلی نےنئےماحول اور حالات کےادراک کےساتھ نئی حکمت عملی اپنانےپر متوجہ کیا۔ حال ہی میں سعودی عرب میں ہونےوالی تنظیم اسلامی کانفرنس کا اجلاس اس سوچ کا مظہر نظر
آیا جس میں مسلم امہ نےپہلی بار اور جدید تقاضوں کےمطابق خود کو ڈھالنےکےلیےاقدامات تجویز کیی۔ سائنس ٹیکنالوجی ‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ تعلیم‘ صحت‘ تجارت‘ صنعت غرض کہ ہر میدان میں متحد اور مضبوط ہوکر کام کرنےکےعزم کا اظہار کیا گیا۔9/11 نےجہاںایک جانب مسلم امہ کو مغرب اور امریکہ کی جانب سےاٹھنےوالے نیزےکی نوک پر رکھا‘ وہاں مسلم امہ کو یہ احساس بھی دلایا کہ اگر اب بھی اس نےپہل نہ کی تو
آنےوالےوقت میں یہ نیزہ ان کےجسموں کےآرپار ہو جائےگا۔ بلاشبہ ان حالات میں صدر جنرل پرویز مشرف کا کردار نمایاں رہا‘ جنہوں نےمسلم امہ کو نئےدور کےساتھ چلنےکی طرف راغب کیا۔ یہ وہ حالات ہیں جس سےاہل مغرب پریشان بھی ہیں اور حیران بھی‘ کیوں کہ ان کےنزدیک 9/11کےبعد مسلم دنیا اس قدر ڈر اور سہم گئی تھی کہ اسےپھر سےاٹھنےکےلیےبرسوں نہیں صدیاں درکار تھیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا مسلم ممالک کےساتھ ساتھ مغرب میں رہنےوالےمسلمان دانشوروں اور اہل ثروت لوگوں نےآنےوالےکل کی ہولناکی کا ادراک کر لیا اور خود کو مایوسی کی دلدل میں دھنسنےسےقبل ہی اس سےباہر نکال لیا۔ اس امر کےباوجود کہ عراق اور افغانستان میں (جو مسلم ممالک ہیں) ان پر دہشت گردی کےالزام کےساتھ فوج کشی کی گئی‘پھر ایران اور شام جیسےممالک کےلیےعرصہ¿ حیات تنگ کیا گیا۔ مسلم امہ نےصبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ عالمی برادری سےالگ ہونےکےبجائےان کےساتھ مل کر صورت حال کا تجزیہ کیا اور اپنا کردار ادا کیا۔ اس میں پاکستان کا کردار سرفہرست رہا ‘جس کےباعث امریکا اور اہل مغرب کو مسلمانوں کےخلاف وہ کچھ کرنےکی ہمت نہیں ہوسکی جو ان کےمنصوبےمیں شامل تھا۔ اسی طرح امریکہ اور یورپ میں مقیم مسلمانوں کی شعوری جدوجہد بھی رنگ لائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان جن پر 9/11 کےبعد بنیادپرست ہونےاور دہشت گرد ہونےکےالزامات لگائےجا رہےتھے‘ 5سال میں ہی یہ الزامات الٹ گئی۔
آج کی دنیا میں دیکھا جائےتو مسلم امہ ایک روشن خیال ‘ ترقی پسند‘ معتدل ‘ درگزر اور برداشت کرنےوالی کمیونٹی کا کردار ادا کر رہی ہی۔ یہ صورت حال ان امن کےدشمنوں کو قبول نہیں ہےجو مسلمانوں کو محکوم بنا کر ان کےوسائل پر قبضہ کرنا چاہتےہیں‘ لہٰذا ایک شعوری کوشش کےذریعےمسلمانوں کو مشتعل کرنےکی سازش تیار کی گئی ہی‘ جس کا مقابلہ مسلم امہ کو ہوش مندی کےساتھ کرنا ہی۔ دنیا بھر میں ہونےوالےیہ احتجاج جن میں بعض مقامات پر تشدد کےواقعات بھی ہوئی‘ یہ فوری اور فطری ردعمل تھا‘لیکن مسلمانوں نےخواہ وہ مسلم دنیا کےہوں یا مغرب اور امریکا کے‘ انہوں نےاس بات کو سمجھ لیا اور فطری ‘آئینی ‘قانونی اور اخلاقی احتجاج کو دائرےسےباہر نہ ہونےدیا جائی۔
کارٹونوں کی اشاعت 9/11کےبعد کی صورت حال سےزیادہ خطرناک حالات کی طرف اشارہ کرتی ہےاور مسلم امہ کو پہلے سےزیادہ سوچنےپر مجبور کرتی ہی۔ پہلےصرف مسلم دنیا کےوسائل پر قبضہ کرنےکی سازشیں اور کوششیں ہو رہی تھیں ‘ اب ان کےایمان اور عقائد پر حملےہو رہےہیں۔ یہ صورت حال اس طرف جا رہی ہےجو صلیبی اور مذہبی جنگوں سےزیادہ خطرناک ہوسکتی ہی۔ کیوں کہ صلیبی اور مذہبی جنگوں کےدور میں کھلےمیدانوں میں فوجیں لڑا کرتی تھیں‘ لیکن خدا نخواستہ اب اگر یہ خطرناک صورت حال ہوئی تو جنگ میدانوں میں نہیں بلکہ فسادات‘ گلیوں اور محلوں میں ہوں گی۔ اس صورت حال پر قابو پانےکےلیےجہاں خاص طور سےامریکا اور برطانیہ کو
آگےآنا ہوگا‘ وہاں مسلم امہ کوبھی اپنا دفاع مضبوط بنانا ہوگا۔ اپنےدفاع میں اسےاپنےاندر اتحاد کےساتھ ساتھ عالمی فورسز پر اپنا مقدمہ ٹھوس دلائل کےساتھ پیش کرنا ہوگا۔
ایک طرف دنیا بھر میں احتجاج جاری ہےتو دوسری طرف آئینی و قانونی اقدامات
کےلیےان ممالک میں جہاں یہ کارٹون شائع ہوئےہیں‘ عالمی عدالت سےرجوع کرنےکی بھی
ضرورت ہے۔ گو کہ یہ معاملہ خالصتاً جذباتی و مذہبی نوعیت کا ہی‘ لیکن فی زمانہ صورت
حال کا تقاضا ہےکہ مسلم امہ جوش سےزیادہ ہوش سےکام لےاور جو بساط مغرب نےمسلمانوں
کےلیےبچھائی ہی‘ اس میں الجھنےکےبجائےاپنےطریقےسےکھیل کو کھیلی۔
|