|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
اظہار کی آزادی یا شرانگیزی
ایک جانب علم و عقل سےمقابلےکی ضرورت ہےتو دوسری جانب جذبات اور جوش کو زندہ رکھنےکی ضرورت ہی۔ مسلم امہ مل کر عالمی عدالت میں جاسکتےہیں۔ پاکستان ‘ ایران‘ مصر کےعلاوہ مغربی ممالک میں رہنےوالےمسلمان وکلاءسےاس سلسلےمیں مدد لی جاسکتی ہی۔
بنیاد پرست کون؟
9/11 کےبعد یہ لفظ اس شدت کےساتھ دہرایا گیا اور خاص طور سےاسےمسلمانوں کےساتھ جوڑ کر اس کو نئےمعنی پہنائےگئی۔ یہاں تک کہ بنیاد پرستی کو دہشت گردی کی جڑ قرار دیا گیا۔ یوں مسلمانوں کو کبھی کھلےطور پر اور کبھی درپردہ دہشت گرد قرار دینےکی کوشش کی گئی۔9/11کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جس کی تحقیق ہونی چاہیےاور بہت کچھ ہوبھی رہا ہےکہ اس واقعہ کا اصل ذمےدار کون ہی‘ لیکن جہاں تک بنیاد پرستی کا تعلق ہےتو توہین
آمیز کارٹون کی مسلسل اشاعت نےکسی سانحہ سےقبل ہی یہ ثابت کر دیا ہےکہ بنیاد پرست کون ہی‘ اور کون دنیا کےامن کو خراب کرنےکی کوشش کر رہا ہی۔ دنیا کےکسی بھی لادین فرد یا حکومت کو یہ جرا¿ت ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ کسی مذہبی معاملےمیں خود کو شامل کری‘ چہ جائیکہ وہ کسی محاذ
آرائی کا سبب بنی۔ اسےمذہب‘ مذہب کےبانیوں اور اس کےماننےوالوں سےکوئی سروکار نہیں ہوتا۔وہ اپنی دنیا کو مادی انداز میں گزارنےکا حامی ہوتا ہےاور اس پر عمل بھی کرتا ہی۔ کسی مذہب کی توہین کرنےوالا یا کسی مذہب کی نفی کرنےوالا یقینا کوئی مذہبی انتہاپسند ہی ہوسکتا ہی۔
9/11کےبعد کی اصطلاح میں وہ بنیاد پرست ہے‘جو مذہبی منافرت پھیلا کر مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہی۔ کارٹونز کی اشاعت ایک سوچی سمجھی کوشش ہےجو انتہا پسند اور بنیاد پرست مذہبی ٹولےکی کارستانی ہی‘ کیوں کہ ایک مذہب کا انتہا پسند ہی دوسرےمذہب کی نزاکتوں اور حساسیت کو جانتا ہی‘ اسےپتہ ہوتا ہےکہ تیر کہاں چلایا جائے‘ وار کہاں کیا جائی‘ کہ اس کا شدید ردعمل ہو۔ کارٹون بنانےاور اس کی اشاعت کرنےوالےاچھی طرح جانتےہیں کہ یہ کارٹون دنیا کےڈیڑھ ارب مسلمانوں ‘ جو دنیا کی کل
آبادی کا 20 فی صد سےبھی زیادہ ہیں‘ ان میں اشتعال پیدا کر دےگا اور مغرب اور جو مسلم دنیا کےوسائل پر نظر جمائےہوئےہے‘ وہ اور اس کا میڈیا9/11کی طرح مشتعل مسلمانوں کو ہی مورد الزام ٹھہرانےکی کوشش کرےگا۔ ان پر دہشت گردی کےالزام کو مستحکم کرکےانہیں دنیا میں کمزور حیثیت دینےکی کوشش کرےگا‘ تاکہ وہ من مانی کرتےہوئےان کےوسائل کو اپنےمصرف میں لاسکےاور ساتھ ہی ان پر حکمرانی بھی کر سکی۔ لیکن مسلم امہ کےشدید‘فوری مگر ہوش مندی کےساتھ ہونےوالےردعمل نےفی الوقت ان قوتوں کی اس سوچ کو عملی جامہ پہنائےجانےسےقبل ہی ختم کر دیا‘ تاہم بات یہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ شروع ہوتی ہےکہ مسلمانوں پر بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا الزام لگانےوالی دنیا ‘ اس موقع پر خاموش تماشائی نہ بنےبلکہ حقیقت کو تسلیم کرےکہ ان مغربی ممالک کےان اخبارات نےبنیادپرستی کا کردار ادا کیا ہےجس کےباعث دنیا کےپانچ براعظموں میں اشتعال پھیل گیا ہی۔ مسلم ممالک کےساتھ ساتھ یورپ میں
آباد مسلم آبادی بھی اپنےپیغمبر کی شان میں گستاخی کرنےوالوں کےسامنےڈٹ چکی ہی۔ یہ صورت حال انتشار ‘ اختلاف اور پھر فساد کی طرف جاتی ہےاور اگر اس صورت حال کا تدارک نہ کیاگیا اور مستقبل میں ایسےواقعات کی روک تھام کےلیےٹھوس اقدامات نہ کیےگئےتو خدشہ موجود ہےکہ ایسےواقعات مذہبی فساد کا باعث بن جائیں گےاور یہ فساد مسلم ممالک میں نہیں بلکہ یورپ میں ہوں گی۔ اس کی تمام تر ذمےداری ان اخبارات اور ان ممالک پر ہوگی جو نام نہاد
آزادی ¿ اظہار کی
آڑ میں ایسےاخبارات کےخلاف کارروائی کرنےسےگریزاں ہیں اور خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو پھر یہ صورت حال ماضی کی صلیبی جنگوں اور حال کی دہشت گردی کےخلاف عالمی جنگ سےزیادہ خطرناک ہوگی۔ کیوں کہ مذہب کا تصادم تہذیبوں کی تباہی کا باعث بنتا ہی۔ یہ اہل یورپ کےلیےسوچنےکی بات ہی۔
احتجاج:
احتجاج انسان کا فطری اور قانونی حق ہی۔
مذاہب سےلےکر قوانین تک اور اخلاقیات سےلےکر روایات تک ہر شعبےمیں احتجاج کو تسلیم
کیا گیا ہی۔ ایک مثال دی جاتی ہے کہ اگر چیونٹی پر پائوں پڑ جائےتو وہ بھی کاٹ لیتی
ہی۔ انسان تو پھر انسان ہی۔ دنیا کےقوانین میں انسان کےمتعدد حقوق متعین کیےگئےہیں
اگر وہ حق نہ ملےتو اسےاحتجاج کا حق دیا گیا ہی۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر
بڑےبڑےجلسےجلوس ہوتےہیں۔
|