|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
اظہار کی آزادی یا شرانگیزی
‘ تعلیم اور صحت کی سہولتیں نہ ملنے‘ روزگار فراہم نہ کیےجانےکےخلاف لوگ سراپا احتجاج بن جاتےہیں۔ جب انسان اپنےہی بنائےہوئے قوانین اور اپنےہی متعین کیےہوئےحقوق کےلیےاس قدر مشتعل ہوسکتاہےکہ وہ نظام زندگی درہم برہم کر دےتو پھر اس کےمذہب کو جو اس کےخون میں شامل ہوتا ہےاس کےحوالےسےاگر کوئی غلط اور منفی بات
آئےتو وہ کیسےخاموش رہ سکتا ہی۔
توہین آمیز کارٹون کی اشاعت نےدنیا بھر کےمسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر پیدا کر دی ہےنہ صرف مسلمان بلکہ دنیا کےروشن خیال لوگ بھی اس بےباکانہ شرانگیزی پر مبنی جرا¿ت پر حیران ہیں کہ جب دنیا عالمگیریت کی طرف جا رہی ہےاور تہذیبوں اور مذاہب میں ہم
آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیا جا رہا ہےایسےوقت اس قسم کی اشتعال انگیزی کےکیا معنی ہیں۔ ان کارٹونوں نےجہاں ایک طرف مسلمانوں کو مشتعل کیا ہےتو دوسری طرف امن کی کوششوں کو بھی سبوتاژ کرنےکی کوشش کی ہےایسےکارٹونوں کی اشاعت کےکیا مقاصد ہیں اور عالمی سطح پر اس کےکیا اثرات مرتب ہوسکتےہیں۔
آج کےمیڈیا کےدور میں ایسےسوالات شدت کےساتھ اٹھائےجا رہےہیں۔
آج سےچند برس قبل اگر یہ واقعہ رونما ہوتا تو اسےخالصتاً مذہبی انداز میں دیکھا جاتا اور کسی مذہب مخالف فرد کی ذہنی پسماندگی قرار دیا جاتا اس سے پھر اس انداز میں نمٹا بھی جاتا لیکن
آج صورتحال بہت مختلف ہے‘ ایک تو میڈیا نےدنیا کو ایک کوزےمیں بند کر دیا ہےتو دوسری طرف 9/11 نےپوری دنیا خاص طور سےمسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہےاب ان کارٹونوں کےذریعہ پہلی بار مسلمانوں کےبنیادی عقیدےپر ضرب لگانےکی کوشش کی گئی ہی۔9/11کےبعد کاعالمی منظرنامہ اب بہت واضح ہوچکا ہی‘ ایک طرف مسلم دنیا ہےتو دوسری طرف اہل مغرب ہیں۔ بنیاد پرستی سےلےکر مذہبی جنونیت تک عیاں ہوگئی ہی۔ مسلم امہ کا کردار بھی کھل کر سامنےآگیا ہےجس نےاس موقع پر عالمی برادری کےشانہ بشانہ اپنا جرا¿ت مندانہ کردار ادا کیا ہی۔
یورپ جسےجمہوریت کی ماں قرار دیا جاتا ہےجہاں انسانی حقوق‘ شہری
آزادی‘ مذہبی احترام یہاں تک کہ جانوروں کےتحفظ کوبھی سنجیدگی سےدیکھا جاتا ہی۔ وہاں اس قسم کےکارٹون پورےیورپی معاشرےکےمروجہ اقدار کی نفی کرتےہں۔ اہل دانش اس صورتحال کو خالص مذہبی انداز میں بھی دیکھ رہےہیںاور عالمی منظرنامےکےموجودہ حالات میں بھی اس کا تجزیہ کر رہےہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ دنیا کےبڑےبڑےترقی یافتہ اور جمہوریت پسند ممالک خود کو سیکولر قرار دیتےہیں‘ وہاں کےقوانین میں لوگوں کو
آزادی ہےحقوق کا بڑا چرچا ہےلیکن یہ سب کچھ صرف حکومتی سطح پر ہےاس حد تک ہےکہ قانون میں کوئی مذہب نہیں ہےلیکن دیکھا جائےتو ہر ملک اور ہر معاشرہ مذہب اور اس کی روایات سےآزاد نہیں ہی۔
آج بھی جب کرسمس
آتا ہےتو پورا یورپ اس میں مگن ہوجاتا ہے۔ جب کوئی پوپ دنیا سےجا رہا ہوتا ہےتو وہ اداس ہوجاتےہیں اور جب نیا پوپ
آ رہا ہوتا ہےتو اس کےتقدس میں حکمرانوں سےلےکر عوام تک سب احتراماً کھڑےہوتےہیں۔ بعض ممالک میں تو حضرت عیسیٰ کی شان میں گستاخی کو قابل گرفت جرم قرار دیا گیا ہی۔ لہٰذا یہ تصور کہ ایک سیکولر ملک میں ہر کسی کو
آزادی ہےکہ وہ جس طرح چاہےاظہار کری۔ صریحاً غلط ہی۔ یورپی معاشرہ بھی مذہب سےاتنا لگائو رکھتا ہےجتنا کوئی اور معاشرہ امریکہ اور اسرائیل بھی مذہبی رسومات اور روایت سےدور نہیں ہیں بلکہ ان کی جڑیں بھی گہری ہیں۔ فرق صرف اتنا ہےکہ میڈیا پر کنٹرول کےباعث جو کچھ دنیا کو باور کرانا چاہتےہیں وہ کرا دیتےہیں اور جو کرنا چاہتے ہیں وہ کرگزرتےہیں۔ سردجنگ کےدور میں اہل مغرب نےاسلام کو کمیونزم کےمقابلےمیں فرنٹ لائن کےطور پر استعمال کیا۔ سرد جنگ کےخاتمےکےبعد اسی اسلام کواپنےلیےخطرہ سمجھا لہٰذا ان کےنزدیک ضروری ہوگیا کہ وہ اس خطرےکو جس قدر ممکن ہےکمزور کریں۔ عراق اور افغانستان کی جنگ ہو‘ ایران‘ فلسطین‘ شام کو دھمکیاں ہوں یا پھر توہین
آمیز کارٹونوں کی اشاعت سب اس کوشش کا ہی حصہ ہیں۔
توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر دنیا بھر میں ہونےوالا احتجاج مسلم امہ کےدل
کی آواز ہی‘ دنیا کے57مسلم ممالک کےساتھ ساتھ دیگر ممالک میں آباد مسلمانوں کی جانب
سےنکالےجانےوالے جلوس‘ مظاہرےاب تک صرف اور صرف اپنےاعتقاد اور ایمان کےدفاع میں
ہیں ‘ کہیں بھی اس سےبڑھ کر کوئی واقعہ نہیں ہوا جہاں تک ان ممالک کےسفارخانوں یا
دیگر جگہوں پر حملوں کےاکا دکا واقعتا ہوئےہیں وہ مشتعل افراد کا جذباتی ردعمل
ہےجبکہ مجموعی طور پر اس موقع پر بھی مسلم امہ نےاعتدال پسندی کا بھی مظاہرہ کیا۔
|