|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یہودیوں کی شرارتیں
وہ اتنا ہی کر سکتےتھےکہ ان پاکباز لوگوں کےگروہ کو ”فرقہ“کہہ دیں ، چنانچہ انہوں نےکہہ دیا ۔ رہےعیسائی تو وہ پریشان ہیں کہ ان مخلوطات میں جس نجات دہندہ کی بات کی گئی ہی، وہ کسی شخصیت کو نجات دہندہ کہیں..........؟ اگر وہ عیسیٰ کو کہیں تو نہیں کہہ سکتے، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کو تو ان عیسائیوں کےبقول رومی گورنر نےصلیب پر لٹکا دیا تھا۔ اب رومیوں اور دیگر مشرکوں پر فتح حاصل کرنا ......اور خون ان کےہاتھوں صلیب پر لٹکنا بالکل متضاد باتیں ہیں ......لہٰذا یہ پیشگوئی پوری اترتی ہےتو جناب محمد کریمپر کہ جنہوں نےاپنی قوم .......اور اس کےساتھ مل کر رومیوں کو بھی شکست دی اور باقی مشرکوں کو بھی شکست دی اور اپنی قوم کو فتح (Vitory)سےہمکنار کیا۔
قارئین کرام! قرآن نےرسول کریمکےساتھ ساتھ آپ کےساتھیوں کےبارےمیں بھی بتلادیا کہ تورات میں ان کی صفات بھی موجد ہیں ، چنانچہ ڈاکٹر اکرم ضیاءالعمری الموصلی العراقی اپنی سیرت کی کتاب ”السیرة النبویہ الصحیحہ“ میں لکھتےہیں: رچرڈواٹس کہ جس نےتورات کا نسخہ لندن سےشائع کیا، اس میں اللہ کےرسول کےبارےمیں واضح لکھا ہی:”وہ جبل فاران سےنمودار ہوگا۔ اس کےساتھ ہزاروں پاکباز لوگ ہوں گے۔ اللہ فرماتےہیں!
فیہ رجال یحبون ان یطھروا (التوبہ:108)
اس مسجد میں ایسےلوگ ہیں، جنہیں پسند ہی یہ بات ہےکہ وہ پاکباز رہیں۔ اللہ اکبر! یہ ہزاروں یعنی......دس ہزار پاکباز مجاہدین اللہ کےرسول ہمراہ تھی، جب آپ نےمکہ فتح کیا۔ جی ہاں! حسب معمول تحریفوں اور تبدیلیوں کےساتھ آج تک شائع ہونےوالی تورات کےمختلف ایڈیشن بھی گواہی دیتےہیں کہ آخری رسول محمد کریم ہیں۔ وہ رسول جہاد ہیں......اور جو تورات آج دریافت ہوئی ہی، وہ اور دو ہزار سال پہلےتورات بھی یہی بول بولتی ہےکہ آخری نجات دہندہ رسول ..........جہاد و قتال کےرسول ہیں اور وہ ہیں جناب محمد۔جی ہاں!تورات بھی یہ کہہ رہی ہےکہ یہودی اپنی تاریخ اور فطرت کےمطابق اس آخری رسولکی گستاخیاں کرنےمیں لگےہوئےہیں۔ یہ ہےوہ قوم جس پر اللہ نےاسی وجہ سےاپنا غضب مسلط کر رکھا ہی۔ اللہ کی اس مغضوب قوم کو ان گستاخانہ حرکا ت سےروکنا ہم سب کی ذمہ داری ہی۔
|